ضم شدہ علاقے باجوڑ میں کالعدم تحریک طالبان کی موجودگی تنازعہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ تحریک انصاف کے راہنماؤں کی طرف سے موجود خوارج کے خلاف کسی آپریشن کی مخالفت کی جا رہی ہے اور صوبائی حکومت کی طرف سے جرگہ بھیج کر ان کے ساتھ مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پانچ بار جرگہ گیا، بات چیت ہوئی، لیکن خوارج کی طرف سے علاقہ چھوڑنے سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ ایسی شرائط پیش کی گئیں جن سے ظاہر ہوتا ہے وہ باجوڑ کو اپنے زیر قبضہ علاقہ مانتے اور یہاں اپنا حکم چلانا چاہتے ہیں، ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ادھر سے کوئی فوجی قافلہ نہیں گزرے گا اگرخوراک ادویات یا دوسری اشیاء اُدھر لے جانا مقصودہو تو پہلے جرگہ کے ذریعے ان کو آگاہ کیا جائے گا، دوسری طرف سکیورٹی ادارے کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جدوجہد اور آپریشن استحکام جاری رہے گااور ان کے ساتھ کوئی بات چیت خارج از امکان ہے۔
ایک اطلاع یہ ہے کہ دہشت گرد باجوڑ میں عام لوگوں کو ڈھال بنائے ہوئے ہیں، سکیورٹی اداروں کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ خوارج عام لوگوں میں مل جل کر رہ رہے ہیں اور یوں اپنا تحفظ کرتے ہیں، کے پی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اس پر کہا کہ پانچ جر گے گئے۔ بات چیت ہوئی اور اب چھٹا اور بڑا جرگہ جائے گا۔ یہ سب پہلے بات چیت کے ذریعے ہو رہا اور خبر نہیں دی جاتی تھی جبکہ اس علاقے میں خوارج کی طرف سے زیرزمین بارودی سرنگوں اور اچانک حملوں کے ذریعے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو نقصان پہنچایا گیا،ایک اندرونی ذریعے کے مطابق خوارج باجوڑ میں چاروں طرف سے سکیورٹی فورسز کے نرغے میں ہیں اور ان کی طرف سے سرحد پار کرکے افغانستان جانے کی کوشش ناکام ہو جاتی ہے۔ سکیورٹی فورسز ان کو ہتھیار ڈال کر سرنڈر کرنے کو کہہ رہے ہیں، لیکن یہ حضرات عام آبادی اور لوگوں میں گھسے ہوئے ہیں اور یوں آپریشن سے بچنے کے لئے انسانی ڈھال کا فارمولا اختیار کئے ہوئے ہیں، ان خوارج کی طرف سے موقع ملنے پر کارروائی کی جاتی ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑھ گئی اور پاک فوج کے جوان شہادتیں قبول کرکے ان کا خاتمہ کررہے ہیں،حال ہی میں دو میجر رینک کے افسروں کی شہادت ہوئی، آئی ایس پی آر کی تازہ پریس ریلیز کے مطابق ژوب کے علاقے میں افغانستان سرحد کی طرف سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 33خوار ج مار دیئے گئے ہیں، اس صورت حال میں اب بلی بھی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ پہلے تو صرف علی امین گنڈا پور کی زبان چلتی تھی لیکن اب تو تحریک انصاف کے اہم تر مرکزی رہنما، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے فلور پر کہہ دیا کہ وہ (تحریک انصاف) باجوڑ میں آپریشن نہیں ہونے دیں گےّ اسد قیصر ایک ذمہ دار رہنما ہیں ان کی زبان سے ادا ہونے والے ان الفاظ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ لوگ کے پی میں برسراقتدار ہونے کا کیسے فائدہ اٹھا رہے ہیں، نہ صرف اسد قیصر بلکہ ان سے پہلے بیرسٹر سیف اور علی امین گنڈا پور کی اس معاملہ میں زبان ایک جیسا موقف اگلتی رہی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ حزب اقتدار کی طرف سے جو کہاجاتا ہے وہ الزام نہیں حقیقت ہے اور اب وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری نے محترم اسد قیصر کی تقریر کے جواب میں واضح کیا کہ کوئی نیا آپریشن ہونے نہیں جا رہا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی جاری رہے گی، انہوں نے پھر یاد دلایا ہے کہ یہ تحریک انصاف کے دور حکومت ہی میں خوارج کو لا کر بسایا گیا تھا اور اب بھی ان کی حمائت کی جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا اور خصوصاً ضم شدہ اضلاع سے ملنے والی مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات کے علاوہ حکومتی جرگوں،بیرسٹر سیف اور اب اسد قیصر کے بیانات سے بہت کچھ واضح ہو رہا ہے۔ ہم نے کبھی کسی کو اس کے عمل کے حوالے سے بھی الزام نہیں دیئے۔ ہمیشہ یہ عرض کی کہ قومی اور عوامی مسائل قومی اتفاق رائے ہی سے حل کئے جائیں لیکن دکھ کی بات ہے قوم کے درد کا بار بار ذکر کرنے والے حضرات قومی وحدت اور اتفاق رائے سے ایک میز پر نہیں بیٹھتے، کیا یہ حضرات اس امر سے غافل ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا، فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری ہے تو دنیا کی تھانیداری کا عمل بھی شروع ہے، اگرچہ ایران کے ساتھ اسلامی رشتے کی ڈور پھر سے بندھ گئی اور اب حکمران طبقے کی سطح پر تعلقات خوشگوار ہو چکے، لیکن دہشت گردی کا تو ایران کو بھی سامنے ہے اب یہ مشترکہ دکھ ہے۔
ذرا غور فرمائیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ بھارت کی طرف سے بدترین شکست کی خفت مٹانے کے لئے پاکستان کے اندر دہشت گردی میں شدت پیدا کی گئی ہے اور ایسے میں تحریک انصاف مخالفت کر رہی ہے اس سے عام لوگوں میں تو مایوسی پیدا ہوئی ہے، لیکن تحریک انصاف کے سنجیدہ فکر حضرات بھی ان حالات پر غور نہیں کرتے، میں کسی کا نام لئے بغیر کہہ سکتا ہوں کہ جیل سے باہر موجود قیادت کی اکثریت دل سے ان حالات کی قائل اور دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن وہ بوجوہ وفاداری پر مجبور ہیں اور تحریک انصاف کے جوانوں اور ٹرولوں میں غدار نہیں کہلوانا چاہتے، میں نے ان صفحات میں ہمیشہ مذاکرات اور مصالحت کی حمائت کی۔ اب بھی سپیکر ایاز صادق اور وزیرقانون سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ مذاکرات کی زبانی دعوت کے بجائے براہ راست بات کریں اور اپوزیشن کو باہمی احترام کے ساتھ میز پر لائیں اور مذاکرات کی راہ ہموارکریں کہ مسائل الجھے ہوئے ہیں، معیشت بہتر ضرور ہو رہی ہے لیکن ابھی بہت کام باقی ہے جبکہ عوامی مسائل نہ صرف جوں کے توں ہیں بلکہ زیادہ خراب ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کو تکنیکی مسائل کی آڑ میں جولائی کی تنخواہ پندرہ فی صد اضافہ ابھی تک نہیں ملا کہ حکومت کی طرف سے دیئے گئے اضافہ کو متنازعہ بنایاجا رہا ہے، اسی طرح ای او بی آئی کے پنشنر حضرات بھی ابھی تک 15فیصد اضافے سے محروم ہیں، کابینہ سے منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہو گیا، مگر یکم اگست کو انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن ہدائت نامہ کی صورت میں جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ای او بی آئی پنشنرز کی دو کیٹگری بنا دی گئی ہیں،جس کے مطابق ایک کیٹگری والے پنشنرز اضافے سے محروم رہیں گے، اس دھندے کا نوٹس کون لے گا، ادارے بھی اس وقت ٹھیک کام کرتے ہیں جب مرکزی سطح پر سکون ہو، یہاں تو من مانی ہو رہی ہیں۔
آخری بات عرض کروں، افغان مہاجرین کا مسئلہ نیا نہیں دیرینہ ہے۔ حکومت نے تاخیر سے فیصلہ کیا لیکن عملدرآمد میں مشکلات ہیں جن بھائیوں سے پریشانی ہے وہ تو اب پاکستانی ہیں، جائیدادوں کے مالک اور بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں، فوڈ کے شعبہ میں ان کا حصہ اب پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ٹرانسپورٹ پر مافیا کی شکل ہے، حکومت کی طرف سے کچھ وضاحت کی گئی، بہتر ہوگا کہ ایک تفصیلی رپورٹ ہی شائع کرا دی جائے، فیصلہ تاخیر سے سہی درست ہے۔اس سلسلے میں سیدھی بات کرنیوالے ڈی جی آئی ایس پی آر سے گزارش ہے کہ وہ بھی باجوڑ کے مسئلہ پر تفصیلی بات کریں۔

