پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل (غالباً پارلیمنٹرین) نیئر بخاری بول ہی پڑے اور انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا میں جاری بحث کو یہ کہہ کر سمیٹنے کی کوشش کی ہے کہ صدر زرداری منتخب آئینی صدر ہیں اور وہ کہیں نہیں جا رہے۔ نیئر بخاری کی اس وضاحت سے قبل تو پلوں کے نیچے سے کتنا ہی پانی بہہ چکا اور اب تو یہ بات نجی محفلوں اور تھڑوں پر بھی ہو رہی ہے، البتہ پیپلزپارٹی کے جیالے حیران ضرور ہیں اور وہ خود اپنے دل کے چور کی وجہ سے بھی توجہ نہیں دینا چاہتے البتہ بعض حلقوں میں گفتگو ضرور ہو رہی ہے۔ ہمارے دوست نوید چودھری نے لکھا ہے ”کچھ نہیں ہو رہا، فکر کی بات نہیں“ کئی دوسرے احباب نے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ پارٹی کو تنظیم پر توجہ دینا ہوگی۔ ایک پرانے (بوڑھا نہیں کہہ رہا، جذبہ جوان ہے) جیالے نے جو سابقہ فیڈرل کونسل کا رکن بھی رہا، کہا ہے کہ یہ سب خواہشات کا اظہار ہے اور ایک حد تک پیپلزپارٹی سے خوف کی بھی نشانی ہے، ان کاکہنا ہے کہ صدر زرداری کے دوبارہ لاہور آنے اور چند روز گورنر ہاؤس میں گزارنے کی خبر خوش کن ہے، لیکن ان کا یہ دورہ سابقہ بیٹھک والا نہیں ہونا چاہیے کہ مخصوص ملاقاتوں تک محدود رہے اور پرانے جیالوں سے اجتناب برتا جائے۔ اگر شاہدہ جبین کو بلایا بھی جائے تو کارکنوں کے احتجاج کے بعد، بہرحال جو بھی ہے جیسا بھی بات تو چل رہی ہے، میں نے غور سے دیکھا کہ یہ کیا اور کہاں سے ہے تو اندازہ ہوا کہ حلوائی کی دکان پر شہد کی انگلی لگانے یا پھربقول پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو، یہ ٹیزنگ پونی ہے، پیر صاحب کہا کرتے تھے:بھئی! ہم ریس میں دلچسپی رکھتے اور اپنے گھوڑے بھی پالتے ہیں، اس حوالے سے ایک گھوڑے کا بچہ بھی ساتھ رکھا جاتا ہے جو جوان گھوڑے کے آگے پیچھے اچھلتا کودتا رہتا اور دوڑ کر دور چلا جاتا ہے، گھوڑا اس کی حرکت کے باعث چست رہتا ہے اور یہ بچہ ہی تو ”ٹیزنگ پونی“ ہوتا ہے۔ میرے خیال میں تو کچھ عرصہ سے صحافت بھی ٹیزنگ پونیوں سے مستفید ہو رہی ہے اور ان کے ذمہ یہ فرض لگا دیا گیا ہے کہ وہ ایسی درفنطنی نما خبر چھوڑیں،جو شرارت پر تو مبنی ہو، لیکن اس پر دلی خواہشات سامنے آ جائیں۔
صدر زرداری کے حوالے سے بھی یہ خبر ٹیزنگ پونی والی ہے جو ایک باخبر اور ذمہ دار حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے (معاف کیجئے گا، ادب مانع ہے، ورنہ تو ایجنٹ لکھنا چاہیے) صحافی نے اس دعویٰ کے ساتھ دی کہ جلد ہی 27ویں آئینی ترمیم آنے والی ہے جس کے مطابق صدر کے ساتھ ایک نائب صدر کا عہدہ تخلیق کیا جائے گا(اس کا ماخذ لندن والاہے)، اس کے ساتھ ہی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور پھر بات سوشل میڈیا کے ہاتھ آ گئی جس نے خواہشات کا وہ طومار باندھا کہ توبہ کرنا پڑی۔ اس شوشے کو اس حد تک ہوا ملی کہ سوشل میڈیا والوں نے صدر زرداری کی چھٹی کراکے ان ک جگہ فیلڈ مارشل کو مستقل صدر بنانے کا طومار باندھ دیا اور اسی شوروغوغا نے اب نیئر بخاری کو بولنے پر مجبور کر دیا، ان سے پہلے لاہور میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بڑی معنی خیزگفتگو کی تھی اور کہا کہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اتحادی اور کڑے وقت کی ساتھی ہے، اب اگر مسلم لیگ کو سادہ اکثریت مل گئی ہے تو پرانے وقت کے ساتھیوں کو چھوڑا تو نہیں جا سکتا، اسحاق ڈار کی اس گفتگو ہی سے یہ معنی بھی نکالے گئے کہ وہ پیپلزپارٹی پر اب احسان فرما رہے ہیں کہ فکر نہ کریں ہم آپ کو نہیں چھوڑ رہے، صدر تو صدر گورنر اور چیئرمین سینیٹ بھی برقرار رہیں گے۔
جہاں تک حقیقت کی تلاش ہے تو اب یہ ہنگامہ فرو ہونے کو ہے کہ کسی اہم حلقے کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یوں بھی سیاسی انداز فکر سے سوچا جائے تو مسلم لیگ (ن) اور جیالوں کے درمیان بہت سے تحفظات کے باوجود ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور اسی ضرورت نے وسیع تر حکومتی اتحاد بنایا جس کا دوسرا بڑا جزو پیپلزپارٹی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور مخصوص نشستوں کے اضافے کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے تو دوسری بڑی جماعت اب بھی پیپلزپارٹی ہی ہے جس کے پاس قومی کی 74نشستیں ہیں اور یہ ایک بڑی تعداد ہے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنر تو تبدیل کئے جا سکتے ہیں لیکن صدر کے لئے مواخذہ تحریک کی ضرورت ہوگی جس کے لئے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو دونوں ایوانوں سے ملنا چاہیے اور یہ ممکن نہیں،شاید اسی لئے یہ شوشا چھوڑا گیا کہ صدر زرداری سے مقتدرہ ناراض ہے اور ان سے استعفیٰ لیاجائے گا،اگر بات اسی حد تک رہتی تو خواہش کا شکار حضرات کے لئے ٹھیک تھی، لیکن ان حضرات نے تو فیلڈ مارشل کو تاحیات صدر بنانے کی درفنطنی بھی چھوڑ دی جس نے سارا ہی پانی گدلا کر دیا۔
یہ صورت حال اب اس ٹولے کے ہاتھ میں ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے ملک میں افواہوں اور سرگوشیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سیاسی بحران کو گہرا ہی رکھنا چاہتا ہے اور سوشل میڈیا کے اس گینگ کی یہ خواہش ایک حد تک پوری بھی ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان تحفظات کے باعث اکثر حضرات اس افواہ یا ”ٹیزنگ“ کو حقیقت جان رہے ہیں اور یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ مفادات کی اس سیاست میں کس کے مفادات، کس سے وابستہ ہیں اور جب تک یہ مشترک ہیں، تب تک ستے خیراں ہیں اور ”ٹیزنگ پونی“ سے کچھ نہیں ہوگا، البتہ معاشرتی خلفشار بڑھتا رہے گا اور غالباً اب سوشل میڈیا مہم کا یہی مقصد بھی ہے کہ دہشت گردی کے سنگین مسئلہ پر بھی عدم اتفاق پیدا کیا جا رہا ہے۔
اب بات چل ہی نکلی ہے تو یہ بھی عرض کر دوں کہ مسلم لیگ(ن) اورپیپلزپارٹی کے درمیان جو سیاسی یا ذاتی کہہ لیں، تحفظات وزیراعظم اور صدر کے درمیان نہیں ہیں البتہ مسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈر سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کا دل یقینا صاف نہیں، اس کا ثبوت چاہیے تو اقتدار کے دنوں میں ہر دور رہنماؤں (نوازشریف+ زرداری) کے درمیان ملاقاتوں کی تعداد گن لیں، مزید ثبوت چاہیے تو اس تقریب کی ویڈیو ریکارڈنگ غور سے ملاحظہ فرمائیں جس کے دوران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اس عہدہ کا اعزاز دیا گیا اور یہ مشترکہ طور پر صدر اور وزیراعظم نے دیا کیمرے کا رخ جب تقریب میں موجود محمد نوازشریف کی طرف ہوا تو ان کے چہرے کے تاثرات دیکھنے والے تھے اور یہ اب بھی دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس سب کے باوجود مفاد تو مفاد ہی ہے، جہاں تک وزیراعظم کی چودھری نثار احمد خان سے ملاقات اور مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے انتظار بہتر ہوگا جو قیاس آرائیاں ہیں وہ آنے والے بہتر وقت تک رہنے دیں، جب تک چودھری نثار کی سپریم لیڈر محمد نوازشریف سے ملاقات نہیں ہو جاتی، ویسے ابتدائی طور پر جان لیں کہ وزیراعظم کو چکری کے عوام کی حمائت اور تحریک انصاف کااثر ختم کرنے کے لئے چودھری نثار ہی کی ضرورت ہے اور چودھری نثار کو بھی سرور خان کے ہاتھوں قومی اسمبلی تک نہ پہنچنے کا دکھ ہے۔ یوں ہر دو کی اس ضرورت کو کیوں نظر انداز کیا گیا اور محض چودھری نثار کی پیپلزپارٹی کے بارے میں رائے ہی کو پیش نظر رکھا گیا، انتظار بہرحال بہتر ہوتا ہے۔
جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ ایک ملک گیر جماعت ایک صوبے تک محدود ہو گئی اور اب یہ قیاس آرائیاں بھی ہیں کہ تحریک انصاف کے بعد باری پیپلزپارٹی کی ہوگی۔ سندھ کے حوالے سے بھی گفتنی نا گفتنی کہی جا رہی ہے، قوم پرست جماعتوں کو مبینہ طورپر اداروں کی حمائت کا ذکر کیا جاتا ہے اور ثبوت میں وزیر کے آبائی گھر کو جلانے کا واقع پیش کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس سے پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا البتہ خطرہ ذوالفقا علی بھٹو (جونیئر) سے محسوس کرنا چاہیے اور اس کے لئے بہتر کزنوں کے درمیان صلح اور مفاہمت ہے جو مفاداتی اغراض کی بھینٹ چڑھائی گئی۔

