انکریج،الاسکا:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے

انکریج،الاسکا(بی بی سی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن الاسکا پہنچ گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ دیر بعد ملاقات متوقع ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے زریعے الاسکا پہنچے، روس کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ولادیمیر پیوٹن بھی الاسکا پہنچ گئے ہیں۔

ایلمینڈورف-رچرڈسن بیس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

بیس پر مصافحے کے دوران جب دونوں صدور تھوڑی دیر کیلئے تصویریں بنوانے کیلئےرکے تو صحافیوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے تاہم اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان سربراہی اجلاس میں تمام آپشنز میز پر موجود ہوں گے، جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ اگر ٹرمپ کو محسوس ہوا کہ روسی صدر معاہدہ کرنے میں سنجیدہ نہیں تو وہ اجلاس سے واک آؤٹ کر دیں گے۔

“ون آن ملاقات شیڈول میں تبدیلی”
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان طے شدہ ون آن ون ملاقات میں اب دونوں رہنماؤں کے مشیر بھی شامل ہوں گے۔امریکی صدر کے خصوصی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بات چیت کے دو طرفہ دور میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ موجود ہوں گے۔

کیرولین لیوٹ لیوٹ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ دونوں رہنما ون آن ون ملاقات کریں گے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ منصوبے میں یہ تبدیلی کیوں کی گئی۔سربراہی اجلاس کے دو طرفہ حصے کے بعد دونوں وفود دوپہر کے کھانے کے وقت ملاقات کریں گے۔

قبل ازیں، امریکی صدر نے دوران سفر رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ سب کچھ اپنی صحت کیلئےنہیں کر رہا، مجھے اس کی ضرورت نہیں، میں چاہتا ہوں کہ اپنے ملک پر توجہ دوں لیکن میں یہ سب کئی جانیں بچانے کیلئےکر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ولادیمیر پیوٹن جنگ ختم کرنے پر رضامند نہ ہوئے تو روس کیلئے اس کے سخت نتائج ہوں گے، ممکنہ اقتصادی اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جی ہاں، یہ بہت سخت ہوں گے۔

امریکی صدر سے جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا علاقوں کے تبادلوں پر بات چیت ہوگی تو انہوں نے کہا کہ اس پر بات ہوگی، لیکن یہ فیصلہ یوکرین کو کرنا ہے اور میرا خیال ہے وہ درست فیصلہ کریں گے، لیکن میں یہاں یوکرین کی طرف سے مذاکرات کرنے نہیں آیا، اگر میں صدر نہ ہوتا تو روسی صدر پورا یوکرین لے لیتا لیکن وہ ایسا نہیں کرنے والا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ولادیمیر پیوٹن اپنے ساتھ کاروباری لوگوں کو بھی لا رہے ہیں، مجھے یہ پسند ہے کیونکہ وہ کاروبار کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم کاروبار اُس وقت تک نہیں کریں گے، جب تک جنگ ختم نہیں ہو جاتی، جنگ ختم ہونی چاہیے اور قتل و غارت رکنا چاہیے۔

کریملن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سربراہی اجلاس کا آغاز مترجمین کے ساتھ ایک نجی ملاقات سے کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ 16 اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت دیگر شامل ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کون سے حکام روسی نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں موجود ہوں گے۔

روس کی جانب سے مذاکرات کاروں میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، وزیر دفاع آندرے بیلوسوف، وزیر خزانہ آنتون سیلوانوف اور سینئر اقتصادی مذاکرات کار کیرل دمترییف وفد میں شامل ہوں گے، اقتصادی امور سے متعلق حکام کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ بات چیت کے نکات جنگ سے آگے بھی جا سکتے ہیں۔

“اہم غیر موجودگی”
یوکرین کا کوئی بھی عہدیدار اس سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہو گا، حالانکہ کیف اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یوکرین کو مذاکرات کی میز پر نمائندگی دی جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کا ہدف یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک سہ فریقی ملاقات کی طرف بڑھنا ہے۔

“یوکرین کے حق میں احتجاج”
الاسکا کے شہر انکریج میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے موقع پر، جہاں دونوں رہنما روس-یوکرین جنگ بندی پر بات چیت کرنے والے ہیں، وہیں یوکرین کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔

یاد رہے کہ اس سربراہی اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلنسکی کو مدعو نہیں کیا گیا، یوکرینی صدر بارہا یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ ملک کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ یوکرین کی شمولیت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں