اور۔۔۔ یہاں ماتم بھی ہوتے ہیں؟

دل پر بہت بوجھ ہے،گذشتہ ہفتے ڈاکٹر صاحب کو دکھایا ان کے مطابق شوگر لیول بڑھ گیا ہے، نہ صرف ادویات تسلسل سے کھانا ہوں گی،بلکہ ذہنی پریشانی سے بچناہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ جس پروفیشن سے میرا تعلق ہے اس میں یہ ممکن نہیں۔انہوں نے ایک دواء کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ آپ کے لئے اسی وجہ سے تجویز کی گئی ہے،بہرحال دن گزرے ابھی تو ایک ہفتہ بھی پورا نہیں ہوا کہ بوجھ اور بڑھ گیا۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خود کش دھماکہ ہوا، اب تک کی اطلاع کے مطابق32 افراد شہیدہو چکے اور ایک سو پچیس سے زیادہ زخمی ہیں، دماغ کو جھٹکا لگا کہ ایک فرد نے جان دے کر کتنے گھرانے سوگوار کر دیئے۔ یہ کیسا چلن ہے کہ ایک مسلمان نے ایک ممنوعہ عمل کر کے کلمہ گو انسانوں کی جانیں لے لیں،ہم ان کو خارجی کہتے اور وہ ہمیں دائرہ اسلام ہی سے خارج کرتے ہیں، میں سوچ رہا ہوں کہ ابھی تو انہی دِنوں پاک فوج نے بلوچستان میں ان خارجیوں کی بڑی تعداد کا خاتمہ کیا اور خیبرپختونخوا میں بھی ان کا پیچھا کر رہی ہیں اور خفیہ اطلاعات پر چھاپہ مار کر ان کو جہنم واصل کر رہی ہیں تاہم حالیہ خود کش دھماکے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان خارجیوں کو استعمال کرنے والے بھی نئے نئے رُخ اختیار کرتے ہیں اور یہ طے ہے کہ ان کے سہولت کار بھی موجود ہیں،اس لئے دہشت گردی کا خاتمہ اسی صورت میں جلد ممکن ہو گا جب سب پاکستانی کسی تحفظ کے بغیر متحد ہو کر ان کے مقابلے میں ڈٹ جائیں، یہ ناممکن تو نہیں،لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست کا انداز بھی وہ نہیں جو ہونا چاہئے۔اب تک صرف اطمینان کی بات یہی نظر آئی کہ خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پایا گیا اور بالآخر یہ طے ہو گیا کہ وفاق اور صوبہ مل کر اس برائی کا خاتمہ کریں گے یہ امر بھی ایک حد تک تسلی کا باعث بنا کہ اپوزیشن اور حکمرانوں کے درمیان تھوڑی گنجائش نظر آئی ہے،امام بارگاہ میں یہ واردات ایسے وقت کی گئی جب نمازی جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے اور معمول سے زیادہ نمازی موجود تھے، اس حادثے کی مذمت کرتے ہوئے اہل ِ پاکستان سے اپیل ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کریں کہ اس فتنے سے نجات ملے،اِس بارے میں ہم مسلمانوں کو 1500 سال پہلے خبردار کیا گیا تھا لیکن ہم نے ہی کوئی اثر نہیں لیا۔

قارئین! یقین مانیں دِل تو لکھنے کو بھی نہیں چاہتا لیکن اِس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس سانحہ دلدوز کے حوالے سے جو ردعمل ملک بھر میں ہونا چاہئے تھا وہ نظر نہیں آیا۔ یہ درست کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری طور پر بسنت بہار کی طے شدہ تقریبات منسوخ کردیں،اسی طرح سندھ حکومت نے بھی ایک بڑی تقریب میں میوزک پروگرام ختم کر کے خاموش عشائیہ دیا تاہم عام شہریوں سے وہ توقعات پوری نہیں ہوئیں،افسوس کا اظہار تو ہوا لیکن جو ردعمل ہونا چاہئے اس میں کمی رہ گئی۔پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار پھر سے شروع کرنے کے لئے جو تیاریاں کیں اور جس طرح اس کا جواب دیا گیا اس سے اگر مردہ دِلوں کے دِلوں میں اُمنگ جاگی تو کئی دوسرے پہلو بھی سامنے آئے۔ایک تو یہ کہ جوش نظر آیا،دوسرے شہروں سے رشتہ دار بھی آئے اور دعوتیں بھی ہوئیں، لیکن پتنگ بازی نہ ہو سکی کہ میری نظر میں اصلی پتنگ باز بوڑھے ہو چکے اور پچھلے25سال کی پابندی نے نوجوان نسل کو کھلاڑی نہیں بنایا، ہم بوڑھے ہو گئے ہمارے بچے بھی اب نوجوانی سے آگے بڑھ گئے اس لئے پتنگ بازی تو رنگ نہ جما سکی، اس کے علاوہ معاشی سرگرمی کے حوالے سے گڈی، ڈور کی مہنگائی نے عام آدمی کو ترسنے پر مجبور کر دیا اور ایک درجہ دوم کی نئی ایلیٹ کلاس(اشرافیہ) میدان میں ا ٓگئی،ان کے لئے یہ تہوار اس لحاظ سے خوشی کا ذریعہ بن گیا کہ چھتوں پر اور گھروں میں کھابا گیری ہو گئی اور شہری پتنگ بازی سے زیادہ کھانوں میں دلچسپی لیتے اور بھنگڑے ڈالتے رہے۔ تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود اموات بھی ہوئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے۔سرکاری تقریبات تو ختم ہوئیں لیکن کھابا گیری تاحال جاری جو آج رات ہی کو ختم ہو گی۔

اِس سے آگے قلم نہیں چلتا،پھر اِس دُعا کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں،اللہ ہم پر رحم کرے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے۔