اور اب کرکٹ کا بحران شدید؟

جنوبی افریقہ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر ہو جانے کے بعد اب ٹی 20اور ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ راولپنڈی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے ٹی 20 میچ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کامیاب ہوئی اور پاکستان کرکٹ ٹیم یہ پہلا میچ 55رنز سے ہار گئی، میچ میں ٹیم کی کارکردگی ویسی ہی رہی جیسی چلی آ رہی ہے اور ٹاپ آرڈر بھی فیل ہو گئے حتیٰ کہ ایک سال بعد واپس آنے والے بابر اعظم کھاتا کھولے بغیر ایک کے بعد دوسرے گیند پر آؤٹ ہو گئے، کپتان سلمان علی آغا بھی دو رنز ہی بنا سکے۔ یوں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کہ باؤلر متاثر کن کارکردگی نہ دکھا پائے۔ نسیم اور صائم نے ہی وکٹیں لیں اور کچھ سکور بھی کئے، صائم ایوب البتہ ابتداء ہی میں ایک چانس مل جانے سے 37سکور کر گزرے۔ یوں ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے کئے گئے تمام دعوے ہی میں تحلیل ہو گئے۔ بیٹنگ تو فلاپ ہوئی، فیلڈنگ بھی بہتر نہیں تھی بابراعظم اچھے فیلڈر ہیں، ان سے بھی ایک کیچ ڈراپ ہوا اور باؤنڈری بھی نہ روک سکے، جبکہ کپتان کی سربراہی کے بارے میں کچھ نہ کہنا بہتر ہے کہ وہ پرچی والے ہیں اور جب تک شاداب خان مکمل فٹ ہو کر واپس ٹیم میں نہیں آتے وہ عبوری حکمرانی قائم رکھیں گے۔ میں نے ایشیا کپ کے وقت ہی یہ عرض کیا تھا کہ اصل کپتان شاداب ہیں جو وقت پر تینوں فارمیٹ سنبھالیں گے کہ ابھی وہ وقت کے منتظر ہیں کہ فٹ ہونے کے بعد ان کو کارکردگی بھی دکھانا ہوگی اب اس حوالے سے سابق کپتان راشد لطیف ذرا کھل کر بولے ہیں اور میں نے بابر اعظم گروپ کے حوالے سے جو عرض کیا تھا کہ پس منظر میں جوا بھی ہے تو اب یہ بات بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

محمد رضوان ہماری کرکٹ ٹیم میں ہاشم آملہ اور معین کے پیروکار ثابت ہوئے انہوں نے اور بابراعظم نے بھی جوا ایپ کا سٹکر لگانے سے انکا رکیا تھا اور یہی ان کا جرم بھی تھا ویسے اگر تحقیق کی جائے تو بابراعظم بتا سکتے ہیں کہ ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے جوا مافیا کی شکائت کی تھی جہاں تک محمد رضوان کا تعلق ہے تو وہ ایک ہاتھ آگے رہے کہ نہ صرف درویشی پن اختیار کیا بلکہ ساتھی کھلاڑیوں پر بھی اثر اندز ہوئے اور نمازیں پڑھاتے رہے، اب ان کے لئے ملکی کرکٹ کے دروازے بند ہونے والے ہیں کہ انہوں نے سنٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کرکے اپنی تنزلی اور ٹیم سے باہر نکالنے کے حوالے سے جواب مانگا ہے، یہ بہت بڑا جرم ہے کہ ”اکبر نام لیتا ہے، خدا کا اس زمانے میں“ یہاں جذبات اور دین کا کیا دخل اس لئے رضوان کاکیرئیر ختم کرنے کا ہی اہتمام کرلیا گیا جیسے کئی نوجوان کھلاڑی بھی اس زد میں آئے۔

آیئے ذرا ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ایک اچھے کھلاڑی کا کیرئیر بھی صرف اس لئے تباہ کر دیا گیا کہ اس نے آئی سی سی قواعد کے مطابق نہ صرف مخصوص ایپ والوں کی طرف سے رابطہ کی اطلاع چیف کوچ اور مینجمنٹ کو دے دی تھی، وہ کرکٹ سے باہر ہوا اور کیرئیر ہی تبا ہ کر بیٹھا، یہ نادان اور ایک حد تک اتھرا کھلاڑی عمر اکمل ہے جو مڈل آرڈر میں بہترین سٹروک پلیئر تھا، اس نے نہ صرف یہ بتایا بلکہ اس وقت کے چیف کوچ مکی آرتھر کی شکائت بھی کہ وہ گالیاں دیتے ہیں اور یہ سب اس کا جرم بنا، اگرچہ خود عمر اکمل بھی جوانی کے اثر کے تحت بعض حرکتوں کے مرتکب ہوتا تھا، مگر اس کا جرم اس کی شکائت سے بڑا نہیں تھا، مگر اس کا کیرئیر تباہ کر دیا گیا اب کوئی اس کا نام بھی نہیں جانتا۔

اب اگلا شکار محمد رضوان ہیں، بقول راشد لطیف اور ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن رضوان کا جرم سیدھا سادا مسلمان ہونا ہے اور جوئے کا لوگو لگانے سے انکار بھی ہے اور یہی الزام بابراعظم پر بھی ہے،اس وقت عاقب جاوید کی سربراہی میں جو منتظمین کرکٹ کی بہترین کے نام پر کام کررہے ہیں، وہ مسلسل نوجوانوں کے نام پر بابر اعظم گروپ کو باہر کرنا چاہتے ہیں ان کی خوش قسمتی کہ نفسیاتی دباؤ کے تحت بابر اعظم بھی اپنی فارم پر واپس نہیں آ پا رہے اور اب محمد رضوان نے کنٹریکٹ پر دستخط نہ کرکے جو موقف اختیار کیا وہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے والی بات ہے کہ اب ان مخالف حضرات کو اور بہانہ مل گیا کہ رضوان نے خود انکار کیا ہے، اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے احتجاج کو آگے بڑھائے اور ریٹائرمنٹ ہی کا اعلان کر دے۔ ان سے پیار کرنے والے ابھی سے فکر مند ہیں اور ان کو ایسے اقدام سے منع کر رہے ہیں۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ یہ سب ٹھیک کیسے ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ چیئرمین پی سی بی اپنی ملکی مصروفیت میں وقت نکال کر اس سارے مسئلہ کی طرف توجہ دیں اور سب سے پہلے عاقب جاوید کے اقدامات کی مکمل تحقیقات کرائیں اور اس سے قبل ان کو فرائض سے فارغ کریں، چیئرمین بورڈ نے عاقب جاوید گروپ پر جو اعتماد کیا وہ نہ صرف اس پر پورا نہیں اترے بلکہ ناجائز فائدہ اٹھایا ہے کہ ان کا اپنا تعلق ایک مخصوص گروپ سے ہے۔ یوں بورڈ میں محسن نقوی سے بھی پہلے پرچی کا رجحان چل رہا ہے،عاقب جاوید تو سب کے سامنے ہیں، اظہر محمود، وسیم اور اسد شفیق اس کی بہترین مثال ہیں جو فرائض ان کے ذمہ ہیں اور جو بھروسہ کیا گیا یہ سب اس پر پورا نہیں اترتے کہ میرٹ کے لحاظ سے بھی ان کا کھیل کا کیریراتنی اہم ذمہ داریوں سے لگا نہیں کھاتا یہ اتنے بڑے کھلاڑی نہیں تھے کہ ان کو استاد کا درجہ دیا جاتا لیکن یہ حضرات نہ صرف موجود ہیں بلکہ میرٹ کا بار بار نام لے کر میرٹ ہی کو بدنام کر رہے ہیں، یہ بات بار بار کہی جا چکی کہ کرکٹ کے انتظامی معاملات میں بھی بڑے آپریشن کی ضرورت ہے،بدقسمتی سے بھارتی بورڈ کی ہٹ دھرمیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے محسن نقوی ملکی مصروفیت کے باعث اس کے لئے وقت نہیں نکال سکے اور جن پر بھروسہ کیا وہ پتے ہوا دینے لگے ہیں، لہٰذا ملک کے سنجیدہ اور سینئر کھلاڑیوں کی کھلی مشاورت لازم ہے، ایسے کسی بھی اجلاس میں نقاد کھلاڑیوں کو ضرور بلایا جائے، مصباح الحق، یونس خان اور انضمام الحق سنجیدہ شمار ہوتے ہیں، نقادوں میں راشد لطیف کا نمبر ایک ہے کہ وہ اب کھل کر بول رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں