وزیراعظم محمد شہباز شریف دوحہ سے واپس آنے کے بعد گذشتہ روز سعودی عرب روانہ ہو گئے جہاں وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے اور آج لندن روانہ ہو جائیں گے،وہ وہاں دو روز قیام کریں گے۔ان کے بڑے بھائی اور مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف پہلے ہی لندن میں ہیں۔وہ معمول کا طبی معائنہ کرانے گئے ہیں،لندن میں موجود ہونے کی بدولت دونوں بھائی ملاقات کر کے حالاتِ حاضرہ پر بھی غور کر لیں گے کہ اس اثناء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی برطانیہ کے سہ روزہ دورے پر برطانیہ پہنچ چکے اور وہ شاہی مہمان ہیں،ان کا استقبال بھی شاہ کے نمائندے نے کیا اور شاہ چارلس کی طرف سے ان کے اعزاز میں عشایہ بھی دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ پھر سے دعویدار ہیں کہ انہوں نے جنگیں رکوائیں اور ان کو اس کا انعام دیا جانا چاہئے جبکہ برطانیہ کے لئے روانگی سے قبل انہوں نے ایک بار پھر اپنی دھمکی دہرائی کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کو ڈھال بنایا تو بہت بُرا ہو گا اور یہ بہت بُرا ہو گا، کے الفاظ وہ کئی بار دہرا چکے ہیں۔اگر ذرا گریبان میں جھانک کر سوچا جائے کہ کیا بُرا ہو گا تو اِس سے زیادہ کیا ہو گا کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری اور اب اسرائیل نے امریکی وزیر خارجہ کی نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد اپنی زمینی افواج غزہ میں داخل کی ہیں اور بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔یہ افواج مسلسل فلسطینیوں کو غزہ سے باہر دھکیل رہی ہیں اور مکمل قبضہ کے لئے راہ ہموار کرتی چلی جا رہی ہیں۔یہ سب دوحہ کانفرنس کے اعلامیہ کے باوجود ہو رہا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اعلامیہ میں مصر اور قطر کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا گیا۔ اب اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کیا ہو سکتی ہے کہ قطر کی سلامتی کے لئے یکجہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ غزہ پر اسرائیلی قبضے کے اعلان کی بھی پُرزور مذمت کی گئی اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے اسرئیل میں ہوتے ہوئے پھر اعلان کیا کہ امریکہ، اسرائیل کے ساتھ ہے۔ اتنے بڑے واضح اقدامات کے باوجود مسلم اُمہ اب بھی اسرائیلی منصوبہ مسترد کرنے اور مذمت کرنے کے سوا کوئی عملی قدم نہیں اٹھا ر ہی،ابھی ایک ہی روز قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں غزہ تنازعہ کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ بھی منظور کی گئی ہے جس کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا اور اسے سزا ملنا چاہئے۔ معمول کی طرح اسرائیل نے یہ رپورٹ مسترد کر دی جس کے مطابق شہداء میں 50فیصد خواتین اور بچے ہیں۔
ان حالات میں دوحہ فیصلوں کے بعد وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے پہلے ہی روانہ ہوئے اور سعودی پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اگرچہ دوحہ میں بھی یہ مل چکے تھے، دوحہ میں اتحاد اُمہ اور جواب اُمہ کے حوالے سے بہت فیصلے ہوئے اور ان کا اثر یہ ہے کہ غزہ میں ظلم اور بڑھا دیا گیا۔ غالباً 20ستمبر سے پہلے اسرائیل غزہ کو خای کرا کے قبضہ کرنا چاہتا ہے اور یہی ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی مقصد ہے جو ایک اچھے پراپرٹی ڈیلر کی طرح غزہ کو تفریحی مقام میں تبدیل کر کے امریکی آمدنی میں اضافہ چاہتا ہے ہم نوبل انعام کے ئے ٹرمپ کے تجویز کنندہ ہیں۔وزیراعظم نے یہ سب پروگرام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے حوالے سے ترتیب دیا کہ وہ26ستمبر کو خطاب کریں گے اور یہ امکان بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہو جائے، ویسے بھی22ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کئی یورپی ملک فلسطین کی ریاست کو تسلیم کریں گے۔
ہم پاکستانی سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہیں ا اب پانی اترنا شروع ہو گیا اور اندازہ ہو رہا ہے کہ کیا کچھ نہیں ہو گیا،جہاں جہاں سے پانی اتر رہا ہے وہاں وہاں سے نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں اور مزید پانی اُتر جانے کے بعد ہی اندازہ ہو گا کہ کس قدر اور کتنا نقصان ہو چکا اور حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود متاثرین کی وہ مدد نہ ہو سکے گی جس کی انہیں ضرورت ہے کہ لوگوں کے گھر ڈوب گئے، مال مویشی بہہ گئے اور فصلیں تباہ ہو گئیں، ایسے میں ان لوگوں کی بحالی کتنا بڑا کام ہے صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔سندھ میں 2022ء کے سیلاب سے جو نقصان ہوا، سندھ حکومت کی طرف سے نئے گھر بنا کر دینے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا وہ ابھی تک پورا نہیں ہو سکا اس لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹھوس سروے کے ذریعے نقصانات کا تخمینہ لگا کر اس کا انسداد کرنا چاہئے کہ چھوٹا کسان فاقہ کشی پر آ چکا ہے۔ ہم ان حالات میں پھنس چکے،قطر پر حملہ ہو گیا۔اسرائیل، حوثیوں سے بھی نبرد آزما ہے ایسے میں مسلم اُمہ نے جس اتحاد اور عمل کا اعادہ کیا وہ کون کرے گا؟ اسی لئے میں بھی آج معمول سے ہٹ کر پھر سے غزہ اور سیلاب کا ذکر کر رہا ہوں کہ ہر دو طرف پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے۔
قارئین! امت پر جو وقت آن پڑا ہے وہ کانفرنسوں اور دُعاؤں سے حل ہونے والا نہیں، اسرائیل مسلسل قدم بڑھا رہا، امریکہ اُمہ کو دلاسہ دے کراسرائیل کی کامیابی کو مستحکم بناتا چلا جا رہا ہے اور ہم بلکہ پوری اُمت امریکہ کے دام میں ہے۔اب بھی ہم اس ذات باری اور حکمت والے اللہ کے حضور سرسجود ہو کر توبہ نہیں کر رہے کہ ظالموں کا پڑا بھاری ہونے کی وجہ بھی ہمارا اپنا ہی دوغلاپن ہے کہ ہم نمازیں پڑھ کر بھی پُرخلوص نہیں ہوئے،اللہ سے ڈرنے اور توبہ کرنے والے ہی سرخرو ہوں گے۔

