کوئینز پارک+ ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) اونٹاریو لبرل پارٹی کی قائد بونی کرومبی نے آج کے پیش کردہ صوبائی بجٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈَگ فورڈ کی حکومت عام عوام کیلئے نہیں بلکہ مخصوص حلقوں کے مفاد میں فیصلے کر رہی ہے۔

“جب چھت گر رہی ہو تو دیواروں پر رنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔” – بونی کرومبی
بجٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود کوئی براہ راست ریلیف نہیں دیا گیا،رہائش، تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں،بچوں کی کلاس رومز میں بھیڑ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے،سینیئرز کی صحت کی سہولیات مسلسل متاثر ہو رہی ہیں اورطلباء اور تعلیمی اداروں کو بجٹ میں کٹوتیوں کا سامنا ہے.
بونی کرومبی کا کہنا تھا”یہ بجٹ اُن لابی گروپس، ڈونرز اور اندر کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ ہے جن کے پاس وزیر اعلیٰ کا فون نمبر ہے، جبکہ عام اونٹاریو کے شہریوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ کم پر اکتفا کریں۔”
قرض میں تاریخی اضافہ
بجٹ کے مطابق، اونٹاریو کا مجموعی قرض 500 ارب ڈالر تک پہنچنے والا ہے – جو کہ صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود انفراسٹرکچر، اسپتال، رہائش اور تعلیمی نظام میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں دکھائی جا رہی۔
اونٹاریو لبرل پارٹی کی فنانس نقاد اسٹیفنی باؤمن نے کہا”یہ حکومت فی کس سب سے زیادہ رقم خرچ کر رہی ہے، لیکن نتیجہ صرف بحران اور بگاڑ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔”
اونٹاریو لبرل پارٹی ایک ایسے بجٹ کی حامی ہے جوعام لوگوں کی ضروریات کو ترجیح دے،صحت، تعلیم، اور رہائش میں سرمایہ کاری کرے اورنوجوانوں، سینیئرز اور محنت کش خاندانوں کو ریلیف فراہم کرے.
بونی کرومبی نے آخر میں کہا”ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ اونٹاریو کے اصل مسائل کا حل نہیں بلکہ صرف ظاہری نمائشی اقدامات کا مجموعہ ہے۔”

