اونٹاریو لبرل پارٹی کی کارنر میٹنگ میں بونی کرومبی کا آئندہ لائحہ عمل پر اظہارخیال

مسی ساگا (نمائندہ خصوصی) —سماجی شخصیت مرتضیٰ جوئیہ کی رہائش گاہ پر منعقدہ اونٹاریو لبرل پارٹی کی کارنر میٹنگ میں پارٹی کی رہنما بونی کرومبی نے اپنی 13 ماہ کی قیادت، حالیہ انتخابات، فنڈ ریزنگ اور مستقبل کے لائحہ عمل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

بونی کرومبی نے بتایا”قیادت سنبھالنے کے 13 مہینے بعد ہم 33 فیصد پر تھے۔ انتخابات کے دوران بھی ہماری مقبولیت 33 پر ہی عروج پر پہنچی۔ سال 2024 میں ہم نے 6 ملین ڈالر اکٹھے کیے جو کہ نئے قوانین کے تحت کبھی نہیں ہوا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ”جب ہم نے یہ کارکردگی دکھائی، اس کے ایک ماہ بعد دوسری جماعتیں اپنی رپورٹ پیش کریں گی اور یہ دلچسپ ہوگا، کیونکہ وہ اب بھی کم شرحِ مقبولیت میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنا پلیٹ فارم بروقت پیش نہیں کیا، یہی ہماری بڑی کمی رہی۔ ہم نے عوامی مسائل، جیسا کہ افورڈیبیلٹی، صحت اور خاندانی ڈاکٹر کی کمی پر توجہ دی۔ اس وقت 11 ہزار لوگ علاج کے منتظر ہیں، اور روزانہ 2000 مریض ہسپتال کے بجائے ہال وے یا آڈیٹوریم میں زیر علاج ہیں۔ ہال وے ہیلتھ کیئر بد سے بدتر ہو گئی ہے۔”

انہوں نے معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا”اس حکومت کے سات سالوں کے بعد معیشت بدترین حالت میں ہے۔ صوبے میں ملک کی دوسری سب سے زیادہ بے روزگاری ہے، اور نوجوانوں کی بے روزگاری سب سے بلند سطح پر ہے۔ یہ ہمارے لیے شرمناک ہے۔ تعمیراتی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، مینوفیکچرنگ کی نوکریاں بھی جا رہی ہیں۔

ہم پر تنقید ہوئی کہ ہم نے معیشت اور تجارتی تعلقات، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد ٹیرفس پر بات نہیں کی۔ ہم نے انتخابی سوال بدلنے کی کوشش میں مختلف مسائل پر فوکس کیا، لیکن بعد میں یہ ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی۔”

انتخابی حکمتِ عملی میں خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا”ہم نے بروقت امیدواروں کو نامزد نہیں کیا، ڈیجیٹل میڈیا پر اشتہارات دیر سے لگائے اور ڈیٹا کے مسائل بھی تھے۔ ہم نے دیہی علاقوں، شمالی کمیونٹیز اور بزرگ شہریوں تک رسائی نہیں کی۔ کسانوں سے سال بھر ملاقاتوں کے باوجود ان کے مسائل ہمارے پلیٹ فارم میں شامل نہ تھے۔

نوجوانوں اور بزرگوں نے بھی یہی کہا کہ انہیں ہمارے پلیٹ فارم میں اپنی عکاسی نہیں ملی۔ تعلیم کا منصوبہ دوسرے آخری ہفتے میں جاری کیا گیا۔ یہ سب تاخیر ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔”انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا”ہر دن میں یہ سوچتی تھی کہ اب 28 دن رہ گئے ہیں، کل 27 دن رہ جائیں گے۔ وقت تیزی سے گزر گیا۔

مباحثے میں ہم نے اچھی کارکردگی دکھائی لیکن وقت کی کمی کے باعث مؤقف پوری طرح بیان نہ ہو سکا۔” بونی کرومبی نے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا”ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں آگے کیا کرنا ہے۔ ہم امیدواروں کی نامزدگی پہلے کریں گے، پالیسی کنونشن کا انعقاد کریں گے تاکہ پالیسی پر بحث ہو، ڈیجیٹل پر زیادہ سرمایہ لگائیں گے، ڈیٹا کو درست کریں گے اور اپنی شناخت مزید مستحکم بنائیں گے۔

ہم عوام تک رسائی بڑھائیں گے، ان حلقوں تک پہنچیں گے جہاں ہماری موجودگی کمزور ہے۔ ہمارے 14 ایم پی پیز چار پانچ حلقے اپنے ذمے لے چکے ہیں اور ان کی تربیت و رہنمائی کریں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی نتائج کے باوجود پارٹی کو فائدہ یہ ہوا کہ “فی ووٹ سبسڈی” کے تحت تقریباً 4 ملین ڈالر حاصل ہوئے، جس سے پارٹی کو بطور ایک متحد ٹیم کام کرنے کا موقع ملا ہے۔

“اب ہمارے پاس چیف آف اسٹاف، ڈپٹی چیف آف اسٹاف، کمیونیکیشن ڈیسک اور ایشوز مینجمنٹ ڈیسک ہے، جو پہلے نہیں تھے۔”کارنر میٹنگ میں موجود کارکنان اور رہنماؤں نے بونی کرومبی کے خطاب کو توجہ سے سنا اور پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر سوالات بھی کیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں