اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)حکومتِ پاکستان نے وفاقی اور صوبائی سطح پر خصوصی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا ہے تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے جائیداد سے متعلق تنازعات کو فوری اور شفاف طریقے سے حل کیا جا سکے۔ ان عدالتوں میں ای۔فائلنگ اور ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت پیش کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی۔
اوٹاوا سے جاری ہونے والی پریس ریلیز نمبر 29/2025 کے مطابق حکومتِ پاکستان نے وزیرِاعظم کی ہدایت پر ’’اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2024‘‘ کے تحت اسلام آباد اور وفاقی دائرۂ اختیار میں خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا ہے۔ ان عدالتوں کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد سے متعلق تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنانا ہے۔
اسی طرح صوبہ پنجاب میں ’’پنجاب اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2025‘‘ منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں ایسے قانونی میکنزم قائم کیے جا رہے ہیں جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انصاف کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں گے۔ دیگر صوبوں اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی ایسے اقدامات جاری ہیں تاکہ پورے ملک میں یکساں نظام قائم کیا جا سکے۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ خصوصی عدالتیں ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی جن میں ای۔فائلنگ، آن لائن کیس مینجمنٹ اور ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت پیش کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔ اس سے مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر ختم ہو گی اور اوورسیز پاکستانی اپنے مسائل گھر بیٹھے حل کر سکیں گے۔
یہ اقدام حکومتِ پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ان کیلئےشفاف، تیز رفتار اور جدید نظامِ انصاف فراہم کیا جائے۔

