اوٹاوا(نامہ نگار)کنزرویٹو لیڈر پیئر پوئیلیور نے لبرل حکومت کو مغربی ساحل کی نئی پائپ لائن کی حمایت کیلئےمجبور کرنے کی کوشش کی، جس پر منگل کو ہاؤس آف کامنز میں بحث اور ریکارڈ شدہ ووٹ ہوگا۔
یہ تحریک شمالی برٹش کولمبیا میں آئل ٹینکر پر پابندی کو بھی عبور کرنے کیلئے لبرلز کی یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ پائپ لائن تعمیر ہو سکے حالانکہ کوسٹل فرسٹ نیشنز اور برٹش کولمبیا حکومت اس کے مخالف ہیں۔
لبرل وزراء نے کہا کہ وہ تحریک کیخلاف ووٹ دینگے اور پوئیلیور پر تقسیم پیدا کرنے اور “سیاسی کھیل کھیلنے” کا الزام لگایا۔ انڈین سروسز منسٹر مینڈی گل-ماسٹی نے اس تحریک کو “پارلیمانی وقت کا ضیاع” اور “آبادیاتی لوگوں کے لیے توہین” قرار دیا۔
پوئیلیور نے کہا کہ وہ ہر لبرل ایم پی کو ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ آیا وہ اب پائپ لائن اور ٹینکر پابندی میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم یہ تحریک قانون سازی نہیں ہے اور کسی خاص منصوبے کی اجازت خود بخود نہیں دیتی۔
وزیر توانائی ٹم ہاجسن اور دیگر وزراء نے کہا کہ لبرل حکومت پورے مفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت مشاورت اور تعاون کے عزم پر قائم ہے، جس میں کاربن کیپچر، قابل تجدید توانائی اور صنعتی کاربن پرائس اپ ڈیٹس بھی شامل ہیں، جن کا ذکر کنزرویٹو تحریک میں نہیں۔
کوسٹل فرسٹ نیشنز کے نمائندوں نے کہا کہ آئندہ منصوبوں میں برادریوں کی خودمختاری اور حقوق کا احترام برقرار رکھنا ضروری ہے، اور کسی منصوبے کو زبردستی نافذ کرنا تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سابق وزیر ماحولیات سٹیون گلوبو نے MOU کو “ماحولیاتی تناظر میں بڑا قدم پیچھے” قرار دیتے ہوئے اس سے متعلق تحفظات ظاہر کیے۔

