اوٹاوا:مارک کارنی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا عندیہ دیدیا

اوٹاوا(نمائندہ خصوصی) ٹرمپ کے کینیڈا سے متعلق بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تو کارنی نے انہیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی مذاکرات تب تک نہیں ہوں گے “جب تک ہمیں ایک خودمختار قوم کے طور پر وہ عزت نہیں ملتی جس کے ہم مستحق ہیں۔”

“آخرکار امریکی ہی امریکہ کی تجارتی کارروائیوں سے نقصان اٹھائیں گے،” کارنی نے جمعہ کواوٹاوا میں کینیڈا کے وار میوزیم میں تجارتی جنگ پر ہونیوالے مذاکرات کے دوران کینیڈا کے صوبائی رہنماؤں سے ملاقات میں کہاجیسا کہ ہفتے کے روز اے بی سی نیوز کی رپورٹ میں شائع ہوا۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر تجارتی مذاکرات کیلئےآمادہ ہو جائیں گے، کیونکہ واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کا اصل بوجھ امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑیگا۔

“یہی وہ وجوہات میں سے ایک ہے جس کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ یہ بات چیت مناسب احترام اور وسعت کے ساتھ ہوگی۔ میں اس کیلئے ہر وقت تیار ہوں جب بھی وہ تیار ہوں۔”

کارنی، جو گزشتہ ہفتے حلف بردار ہوئے، ابھی تک ٹرمپ سے براہ راست بات نہیں کر سکے۔ ٹرمپ اکثر کینیڈا کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ “کینیڈا کو سہارا دیتا ہے” اور یہ تجویز دیتے ہوئے کہ اسے “اکیاونواں ریاست” بن جانا چاہیے۔

جب ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تو کارنی نے انہیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی مذاکرات تب تک نہیں ہوں گے “جب تک ہمیں ایک خودمختار قوم کے طور پر وہ عزت نہیں ملتی جس کے ہم مستحق ہیں۔ ویسے، یہ کوئی زیادہ بڑی شرط نہیں ہے۔”

وزیرِاعظم کاکہناتھا کینیڈا کا ہدف آزاد داخلی تجارت ہے جو کسی بھی امریکی محصولات کا ازالہ کر سکے. ملک اپنی 75 فیصد برآمدات امریکہ بھیجتا ہے اور مجموعی درآمدات کا ایک تہائی حصہ امریکہ سے آتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی معیشت تجارتی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔

امریکہ نے کینیڈین اسٹیل اور ایلومینیم پر 25 فیصد محصولات عائد کر دیے ہیں اور 2 اپریل سے تمام کینیڈین برآمدات پر مزید وسیع محصولات لگانے کی دھمکی دے رہا ہے۔

جواباً، کارنی اور صوبائی رہنماؤں نے ملکی سپلائی چین کو بہتر بنانے اور امریکی منڈیوں پر انحصار کم کرنے کیلئےایک قومی تجارتی اور توانائی راہداری کے منصوبے کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

معاشی نقصان کو کم کرنے کیلئے اوٹاوا ان مزدوروں کیلئے روزگار بیمہ کی ایک ہفتے کی انتظار کی مدت ختم کر دیگا جو ان محصولات سے متاثر ہونگے اور ان کاروباروں کو عارضی ٹیکس ریلیف فراہم کریگا جو مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

کارنی نے جسٹن ٹروڈو کے استعفے کے بعد لبرل پارٹی کی قیادت سنبھالی متوقع طور پر اس ہفتے کے آخر میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے عمل کا آغاز کریں گے، جس کے تحت 28 اپریل کو ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔

لبرلز انتخابی شکست کی طرف بڑھ رہے تھے تاہم ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے کینیڈا میں قوم پرستی کی لہر کو ہوا دی جس سے ان کی پوزیشن عوامی سروے میں مضبوط ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کے مشیر کا کہنا ہے کہ کینیڈین دھاتوں پر محصولات دوگنا کرنے کا فیصلہ روک دیا گیا ہے۔یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب اونٹاریو کی صوبائی حکومت نے امریکہ کو فروخت کی جانے والی بجلی پر مجوزہ اضافی چارجز معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں