اوٹاوا:وفاقی بجٹ 2025میں بارڈر سیکیورٹی اور مسافروں کی اسکریننگ کیلئے نئے اقدامات

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) حکومتِ کینیڈا کی جانب سے پیش کیے گئے وفاقی بجٹ 2025 میں سرحدی تحفظ (بارڈر سیکیورٹی) کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی سفر کرنے والے مسافروں کی جدید ڈیجیٹل اسکریننگ کے نظام متعارف کرانے کے منصوبے شامل ہیں، تاہم تفصیلات فی الحال محدود ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق یہ نئے اقدامات دسمبر 2024 میں اعلان کیے گئے 1.3 ارب ڈالر کے بارڈر سیکیورٹی پلان کی تکمیل ہوں گے، جس میں سے 81 ملین ڈالر رواں مالی سال کے اختتام تک خرچ کیے جائیں گے۔

“نیا پری کلیئرنس نظام”
بجٹ کے مطابق حکومت اگلے چار سال میں 14.8 ملین ڈالر کی رقم ٹرانسپورٹ کینیڈا کو دے گی تاکہ ایک نیا پری کلیئرنس ایکسس ریجیم تیار کیا جا سکے، جس کا مقصد “کینیڈا کے لیے زیادہ محفوظ ٹرانسپورٹیشن نظام کو یقینی بنانا” ہے۔

یہ رقم ڈیجیٹل حل (Digital Solutions) کے فروغ پر بھی خرچ کی جائے گی تاکہ سیکیورٹی اسکریننگ، خاص طور پر ٹرانسپورٹیشن سہولیات میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے، زیادہ مؤثر بنائی جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام ٹورنٹو کے بلی بشپ ایئرپورٹ میں تعمیر کیے جا رہے نئے امریکی پری کلیئرنس سینٹر کیلئے معاون ثابت ہوگا، جہاں مسافر پرواز سے پہلے ہی امریکی امیگریشن اور کسٹمز کلیئر کر سکیں گے۔ اس سہولت کیلئے30 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے، جو رواں سال کے اختتام سے قبل کھلنے کی توقع ہے۔

” CATSA میں اصلاحات اور خودکار نظام”
بجٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈین ایئر ٹرانسپورٹ سیکیورٹی اتھارٹی (CATSA) اپنی روزمرہ اخراجات میں کمی لائے گی، پیشہ ورانہ خدمات پر انحصار کم کرے گی، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بعض عمل خودکار بنائے گی۔
اتھارٹی نئے خودکار نظام (Automated Systems) نصب کرے گی جو بورڈنگ سے قبل ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کر سکیں گے اور اسکریننگ کو تیز تر بنائیں گے۔

دستاویز میں وعدہ کیا گیا کہ اس سے “مسافروں کی سیکیورٹی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔”CATSA کے جدید کاری کے منصوبے امریکہ میں حالیہ اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے۔

“بایومیٹرک ڈیٹا شیئرنگ پر ابہام”
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ دسمبر 2025 سے امریکہ میں داخل ہونے یا ملک چھوڑنے والے تمام مسافروں کی فوٹو شناخت (چہرے کی شناخت) لی جائے گی، جبکہ غیر ملکی مسافروں (کینیڈینز کے سوا) سے فنگر پرنٹس بھی لیے جائیں گے۔

دوسری جانب، کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) صرف 10 بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر رضاکارانہ بایومیٹرک اسکریننگ فراہم کرتی ہے اور اس نظام کو وسعت دینے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

سی بی ایس اے کے ترجمان کے مطابق”ہم فی الحال ملک چھوڑنے والے مسافروں کی بایومیٹرک تصدیق کا نظام نافذ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، لیکن سیکیورٹی کی ضرورتوں کے مطابق اپنے نظاموں کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔”

ایجنسی نے تصدیق کی کہ امریکہ کی جانب سے جمع کردہ بایومیٹرک ڈیٹا خودکار طور پر کینیڈا سے شیئر نہیں کیا جائے گا۔”ہمیں صرف کینیڈین شہری کے امریکہ میں داخلے کی اطلاع ملے گی، تصویر یا فنگر پرنٹ نہیں۔”

ایسا ڈیٹا شیئر کرنے کیلئے 2019 کے ڈیٹا شیئرنگ معاہدے میں قانونی ترامیم کی ضرورت ہوگی، جو فی الحال صرف مسافروں کے بایوگرافیکل (ذاتی) ڈیٹا تک محدود ہے۔

“اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام”
بجٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کی استعداد بڑھانے کیلئے617.7 ملین ڈالر (پانچ سالوں میں) خرچ کرے گی تاکہ غیر قانونی سامان کی نشاندہی اور تجارتی قوانین کے نفاذ میں بہتری لائی جا سکے۔

کینیڈین تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بجٹ ملک کے سیکیورٹی ڈھانچے کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے، تاہم بایومیٹرک ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق پالیسی پر ابھی بھی کئی سوالات باقی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں