اوٹاوا:کنزرویٹو ڈپٹی لیڈر میلیسا لینٹسمین کی حکومت پر سخت تنقید

وزیرِ امیگریشن سے’کینیڈین اینٹی ہیٹ نیٹ ورک‘ کی فنڈنگ روکنے کا مطالبہ

اوٹاوا (نامہ نگار) کینیڈین پارلیمنٹ میں کنزرویٹو پارٹی کی ڈپٹی لیڈر اور تھورن ہل سے رکن پارلیمنٹ میلیسا لینٹسمین (Melissa Lantsman) نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ حکومت ایسے ادارے کو کیوں فنڈ کر رہی ہے جو سیاسی جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے مخالفین کو نشانہ بناتا ہے۔

ایوانِ زیریں میں خطاب کرتے ہوئے میلیسا لینٹسمین نے وزیرِ امیگریشن (اس وقت شان فریزر) سے استفسار کیا کہ”حکومت ایک ایسی تنظیم کو کیوں فنڈ دے رہی ہے جو کھلے عام جانبدار ہے، کنزرویٹو اراکینِ پارلیمنٹ، صحافیوں، اور ماہرینِ تعلیم پر حملے کرتی ہے، اور بدترین طور پر ایسے گروہوں کے ساتھ کام کرتی ہے جن کے انتہا پسند نظریات واضح ہیں؟”

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والی تنظیم Canadian Anti-Hate Network (CAHN) دراصل ایک سیاسی تنظیم کی طرح کام کر رہی ہے جو کنزرویٹو ارکان کے خلاف مہم چلاتی ہے۔

میلیسا لینٹسمین نے مزید کہا کہ”یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ایسے گروہ کو فنڈ کیا جائے جو نفرت کیخلاف نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کیخلاف استعمال ہو رہا ہے۔”انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس تنظیم کی فنڈنگ فوری طور پر بند کی جائے اور ایسے اداروں کے مالیاتی معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، CAHN کی سرگرمیاں حالیہ برسوں میں متنازع رہی ہیں، کیونکہ کنزرویٹو رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم ’’انتہا پسند بائیں بازو‘‘ کے مؤقف کے قریب سمجھی جاتی ہے اور بعض اوقات Antifa سے تعلق رکھنے والے عناصر کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ Canadian Anti-Hate Network کا مقصد نفرت انگیز بیانیے اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد ہے، اور یہ تنظیم انسانی حقوق کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔

میلیسا لینٹسمین کے اس بیان کے بعد ایوان میں ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ایک بار پھر اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی غیرجانبداری پر بحث چھڑ گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں