اوٹاوا(اشرف خان لودھی سے)ہاؤس آف کامنز میں بل C‑233 نو مور لوپ ہولز ایکٹ پر ووٹنگ ہوئی، جسے نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی وینکوور ایسٹ سےایم پی جینی کوان نے پیش کیا۔ بل کامقصد امریکی راستے سے کینیڈین فوجی سازوسامان کی کسی بھی دوسرے ملک میںبغیرکسی جائزہ یا رپورٹنگ سےترسیل کوروکنا ہے.جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اور کینیڈین فوجی سازوسامان بغیرکسی رکاوٹ کے فلسطین،لبنان سمیت دیگر تشددکی شکارریاستوں پراستعمال کیاجاتاہے.
بل دوسری ریڈنگ میں ناکام رہا، جس کے بعد اسے کمیٹی میں مطالعے کیلئے بھی نہیں بھیجا گیا۔ووٹنگ کے سرکاری نتائج کے مطابق بل C‑233 نو مور لوپ ہولز ایکٹ کی حمایت میں 22،مخالفت میں 295جبکہ 6 ووٹ شامل نہیں تھے.ہاؤس آف کامنزمیں موجود6پاکستانی نژادرکن پارلیمان میں سے صرف ایک چینگوزی پارک سےرکن پارلیمنٹ اور خزانہ بورڈکے صدر شفقت علی نے بل کی مخالفت میں ووٹ کیا.
شفقت علی کےعلاوہ باقی 5پاکستانی نژادرکن پارلیمان نے اس بلC‑233 نو مور لوپ ہولز ایکٹ کی حمایت میں ووٹ کیا۔ ان میںہملٹن سینٹرسے اسلم رانا،ایرن ملزمسی ساگا سے اقراخالد، سکاربورو سینٹر سے سلمیٰ زاہد، سمیرزبیری اوراوٹاوا سینٹر سےیاسرنقوی شامل ہیں۔ان رکن پارلیمنٹکے بل کی حمایت میں ووٹ کرنے کوسراہاجارہاہے.
حق میں ووٹ دینے والے 22 اراکین میں تمام این ڈی پی (NDP) ممبران، گرین پارٹی کے لوگ اور متعدد لبرل اراکین شامل تھے، جنہوں نے اپنے پارٹی لیڈر کی پوزیشن سے مختلف سوچ کے ساتھ ووٹ دیا۔حکمران لبرل جماعت کے دیگر اراکین جنہوں نے بل کی حمایت میں ووٹ کیا ان میں فلیٹ ووڈپورٹ کیلس سے گربکس سینی،ملٹن ایسٹسے کریسٹینا ٹیسسر ڈرکسن،ویسٹ وینکوورسن شائن کوسٹ سے پاتریک ویلر، سپیڈینا ہاربور فرنٹ سے چی نگوین،مسی ساگاسینٹرسے فارس السعود،سین کیسی،گریگ فیرگس،نیتھنل ایرسکن سمتھ،میچل کوٹییو،لوری ایڈلٹ،سٹیون گویلبیولٹ شامل ہیں.
بل C‑233 نو مور لوپ ہولز ایکٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے والے295اراکین میں زیادہ تر کنزرویٹو پارٹی ،بلاک کیوبیکوس اورمتعدد لبرل اراکین شامل ہیں.
بل کا مقصد کینیڈا کے ہتھیاروں کی برآمدات پر شفافیت لانا اور امریکہ کو جانے والے فوجی ساز و سامان پر بھی وہی انسانی حقوق کے جائزے اور پرمٹس کا اطلاق کرنا تھا جو دیگر ممالک کیلئے ہوتے ہیں، تاکہ ان کا استعمال فلسطین میں خواتین اور بچوں کے قتل کیلئے نہ ہو۔

