اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملکی ترقی، خوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے پرامن سیاسی بات چیت کے اصولی موقف پر قائم ہے، تاہم سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ متعدد بار تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مکالمے پر یقین رکھتی ہے، مگر ریاستی رٹ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئینِ پاکستان (TTAP) کی قومی کانفرنس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا تھا کہ جمہوریت میں مکالمے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے اور موجودہ قومی بحران کے پیش نظر ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سیاسی استحکام کے لیے تحمل اور مکالمے کی اپیلیں سامنے آتی رہی ہیں۔
ادھر اپوزیشن، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا معاملہ گزشتہ ایک سال سے زیرِ بحث ہے۔ دسمبر 2024 میں شروع ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تھے، جبکہ پی ٹی آئی 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشنز کے قیام اور گرفتار کارکنان و رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل بھی فروری اور بعد ازاں اگست میں مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں، تاہم ان کوششوں میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

