امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر اپنی جنگی طاقت کے بل بوتے پر حملہ کر کے جس طرح ایک آزاد ریاست وینزویلا کے صدر مڈورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے گھسیٹ کر نکالا اور اپنے جہازوں میں ڈال کر اغوا کر کے نیویارک پہنچایا اس سے لاہور کی نصف صدی سے پہلے کی تاریخ یاد آگئی۔ لاہور میں بھی ایک بدمعاش نے اپنے علاقے کے لوگوں کو پریشان کر رکھا تھا۔ اسی دوران ایک امیر آدمی نے وہاں ایک فیکٹری قائم کی اور لوگوں نے ”مدد کی اُمید“ میں اس امیر آدمی سے رابطے شروع کر دیئے۔ وہ امیر آدمی اگرچہ بدمعاش نہیں تھا مگر اس نے علاقے کے واحد بدمعاش کا مقابلہ کرنے کے لئے بدمعاشوں کو اکٹھا کیا اور پھر بچ مقابلہ شروع ہوا جس میں دوسرے درجے کے چھوٹے بدمعاشوں کے علاوہ بڑے بدمعاش اور ”سرپرست“بھی مارے گئے۔ یہی کہانی آج امریکہ اس گلوبل ولیج کے ساتھ دہرا رہا ہے۔ 1978ء میں جب روس افغانستان میں گھس آیا تو امریکن ڈالرز پر پلنے والی ہماری اشرافیہ، ہماری ”لکھاری اشرافیہ“ نے پاکستانی قوم کے دِل میں خوف پیدا کیا کہ روس ایک ایسا سفید ریچھ جو جہاں گھس جائے اسے اس بری طرح ”جپھا“ ڈالتا ہے کہ دم نکال دیتا ہے۔ امریکہ کو ایک ”خوبصورت جنت“ کے روپ میں اور روس کو ”سائبرین عذاب“ کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اسلام میں جہاد کے فلسفے کو ”استعمال“ کیا گیا۔دنیا بھر سے ”مجاہدین“جمع کئے گئے۔امریکی ڈالر، سعودی ریال، گلف اور دیگر مسلمان ریاستوں کے پیسے سے مجاہدین کو میدان جنگ میں اتارا گیا۔ پاکستان کے سربراہ جنرل ضیا الحق نے ”پاکستان“کو بطور ٹریننگ کیمپ پیش کیا۔ اس”اجتماعی“ جدوجہد کا نتیجہ بالآخر روس کی شکست کی صورت میں نکلا۔ روس تو ہار کر افغانستان سے نکل گیا اور اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔ روس کی میدانِ جنگ میں شکست اور پھر ”ٹوٹ پھوٹ“ نے اِس دنیا کو ایک ”اکیلے بدمعاش“ کے حوالے کر دیا۔ ایک ایسا بدمعاش جس کی جارحیت کی ڈھائی سو سالہ تاریخ پہلے ہی موجود ہے۔
امریکی قتل و غارت کا سلسلہ امریکہ کے دنیا کے نقشے پر وجود میں آنے سے پہلے شروع ہو گیا تھا۔ یورپ سے جانے والے مہم جوؤں نے جزائر غرب الہند، بہاماس، ہیٹی اور پھر امریکہ کے وسیع اور عریض میدانوں میں ریڈ انڈینز کو جس طرح قتل کیا وہ تاریخ کا انتہائی بد نما حصہ ہے۔ یورپی مہم جوؤں نے بچوں کو مار کے اپنے کتوں کو کھلایا۔ عورتوں کے ساتھ تب تک براسلوک کیا جب تک وہ مر نہیں گئیں، بوڑھوں کو میدانوں میں دوڑا کر تیروں کا نشانہ بنایا اور جوانوں کو غلام بنا لیا۔ تاریخ دانوں نے اس قتل عام میں مارے جانے والے ریڈ انڈینز کی تعداد دو کروڑ تک بتائی ہے۔ امریکہ کے وجود میں آنے کے بعد امریکہ نے ریڈ انڈینز پر کیے ظلم و ستم باقی دنیا پہ آزمانا شروع کئے۔ میکسیکو، ہیٹی، نکارا گوا، کوریا، کیوبا، فلپائن، ہنڈوراس، ہیٹی پر دوبارہ قبضہ، ڈومینیکن ری پبلک اور کیوبا پر قبضہ، چین پہ قبضہ کر کے فوجی اڈوں کا قیام، جاپان کے جزائر پہ قبضہ، شام کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اسرائیل کا قیام، ایران میں ڈاکٹر مصدق کا تختہ اُلٹ دیا اور پھر جنرل سہارتو کے ذریعے انڈونیشیا میں قتل عام کروایا گیا جس میں ایک رپورٹ کے مطابق 10 لاکھ افراد مارے گئے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو تاریخ میں ڈھونڈنے پڑتے ہیں، لیکن 1970ء کے بعد کا تو ابھی نیا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال ملکوں کے حکمرانوں کا قتل عام جس میں سر فہرست سعودی عرب کے شاہ فیصل تھے اور پھر عراق ایران کی جنگ، عراق کا کویت پہ حملہ جو امریکی سازش تھی اس میں بھی لاکھوں لوگ مارے گئے۔ پھر عراق پر امریکہ کا حملہ (ایک جھوٹ کی بنیاد پر) جس میں پانچ لاکھ سے زیادہ بچے مارے گئے اور اس بارے میں امریکہ کی سیکرٹری خارجہ میڈلن البرائٹ کا کہنا تھا کہ یہ تو ہونا تھا یہ ناگزیر تھا۔ یہ پچھلی صدی کے قصے ہیں صدام حسین کی پھانسی لیبیا کے کرنل قذافی کے ملک کی تباہی اور ان کی اپنی المناک موت۔پاکستان بھی امریکی ”محبت“ سے نوازا جا چکا ہے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل میں امریکی سازش کا کہا گیا،لیکن اس قتل کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جب وہ فائل لیکر پنڈی جارہے تھے تو طیارہ ”حادثے کا شکار“ ہو گیا یا کر دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے قتل کی ”اصلیت یا حقیقت“ اس ہوائی جہاز کے ساتھ جل گئی۔1971ء میں پاکستان ٹوٹ گیا ہم (قوم) انتظار کرتے رہ گئے، مگر امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ نہیں پہنچا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عربوں کو عالمی اسلامی بنک بنانے، امریکی بنکوں اور عالمی بنک سے دولت نکلوانے، تیل کا ہتھیار استعمال کرنے پر راضی کیا اور ایٹم بم بنانے کی کوششیں شروع کر دیں، تو امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کیسنجر نے انہیں مسلمان ممالک کو اکٹھا کرنے،امریکہ کے خلاف ”مہم جوئی“ اور ایٹم بم بنانے کے ارادوں کو ترک کرنے کا ”مشورہ“ دیا جسے بھٹو نے مسترد کر دیا تو پھر امریکہ نے بھٹو کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا،ہنری کیسنجر نے اُنہیں برے وقت کے لئے تیار رہنے کی ”دھمکی“دے ڈالی،بھٹو نے اس دھمکی کو جوتے کی نوک پر رکھا اور پھر اس کا خمیازہ بھٹو کو اپنی حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پہ قبضہ کیا اور دو سال بعد بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا۔ ہنری کیسنجر کی دھمکی پوری ہو گئی۔ یہ گزشتہ صدی کے قصے ہیں اب اس نئی صدی میں بھی امریکہ کی مدد سے اسرائیل نے غزہ میں فلسطین کے مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے ہیں، خود امریکہ نے افغانستان میں جس طرح انسانی تاریخ کے سب سے بڑے بموں کو آزمایا ہے۔ امریکہ نے اسامہ بن لادن پر ایک کروڑ ڈالر انعام رکھا اور پھر ایک رات وینزویلا کے صدر مادورو کو اٹھانے والے آپریشن کی طرح اسامہ بن لادن کو بھی ”ایبٹ آباد“ سے اٹھا لیا گیا۔ (کیا، کیوں، کیسے۔ یہ وقت بتائے گا)۔ یہ سب آج کی ”جین زی“ کو بھی یاد ہونا چاہئے۔امریکی صدر ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد ہماری”جمہوری اشرافیہ“ نے انہیں نوبل انعام دینے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن صدر ٹرمپ کی جارحانہ فطرت نے ثابت کیا وہ امن کے نوبل انعام کے حقدار نہیں ہیں۔ وینزویلا کے صدر مڈورو کو ان کے محل سے اٹھوا لینا، کولمبیا کے صدر کو بدترین نتائج کی دھمکیاں، گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش اور ڈنمارک کو دھمکیاں، ایران پر حملے کی تیاریاں یہ سب بتاتی ہیں کہ جب محلے میں ”اکیلا بدمعاش“ رہ جائے تو پھر ہمسایوں کا محلے میں جینا مشکل ہو جاتا ہے۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور امریکہ اب اس گلوبل ویلج کا اکیلا بدمعاش ہے دیکھتے ہیں لاہور کی آبادی کی طرح امریکہ کا مد مقابل آخر کب سامنے آئے گا۔
(چین سے امید ہے۔ کاش)

