ایرانی صدر کا اسرائیل پر قتل کی کوشش کا الزام، امریکا سے جوہری مذاکرات کی مشروط آمادگی

تہران( نمائندہ خصوصی)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل پر ان کی جان لینے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، بشرطیکہ واشنگٹن اعتماد بحال کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو انٹرویو میں کیا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک اجلاس کے دوران موجود تھے جب اسرائیلی فضائیہ نے اُس علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ناکام رہا اور ان کی جان بچ گئی۔ انہوں نے اس کارروائی کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کا تسلسل قرار دیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ انہیں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس کے لیے بنیادی شرط اعتماد کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر کیسے یقین کریں کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل دوبارہ حملے نہیں کرے گا؟”

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ان کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا، اور اب ان کی جان لینے کی کوشش کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل کو جان بوجھ کر سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 13 جون کو ایران پر اسرائیل نے فضائی حملے کیے تھے، جس میں امریکا نے بھی مبینہ طور پر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران میں 900 سے زائد افراد شہید ہوئے، جبکہ ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل کے 28 افراد ہلاک ہوئے۔

صدر پزشکیان نے اس 12 روزہ جنگ کو “نیتن یاہو کی جنگ” قرار دیا اور کہا کہ امریکا کو ایسی جنگوں میں شامل ہونے سے باز رہنا چاہیے، جو اس کی اپنی نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کی مسلط کردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا، “میں سمجھتا ہوں کہ امریکی صدر دنیا کو امن کی طرف لے جا سکتے ہیں، یا پھر اسے ایک اور ہمیشہ کی جنگ کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔”

ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں، نہ کبھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا مذہبی فتویٰ ہے کہ جوہری بم بنانا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

امریکی عوام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ “جب ایرانی ’امریکا مردہ باد‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، تو اس کا مطلب امریکی عوام یا حکام کی موت نہیں، بلکہ مظالم، جرائم اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف نفرت ہوتی ہے۔”

انٹرویو کے بعد ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں مسعود پزشکیان نے لکھا، “ہم نیک نیتی سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، لیکن نیتن یاہو نے سفارتکاری پر بمباری کر دی۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے امن کے عمل کو سبوتاژ کیا۔

صدر نے مزید کہا کہ ایران نے نہ تو جنگ شروع کی اور نہ ہی وہ اسے جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ یا تو وہ نیتن یاہو کو لگام دے یا ایک اور “ہمیشہ کی جنگ” کے لیے تیار ہو جائے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو ایران میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی اور کہا کہ ایرانی حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرے گی۔

ایرانی صدر کے ان بیانات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے تعلقات میں نیا موڑ آنے کی امید بھی کی جا رہی ہے، بشرطیکہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں