ایرانی منصوبے کامیاب ہوئے تو اسرائیل کو تباہ کن نتائج کا سامنا ہوگا: ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل

معاشی، فوجی اور فضائی نظام کو مفلوج کرنے کے ایرانی منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار

تہران / یروشلم(ایجنسیاں) – مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج کے سابق اعلیٰ افسر ریٹائرڈ جنرل یتسحاق بریگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اپنے تزویراتی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اسرائیل کو سنگین اور تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی اخبار تہران ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جنرل بریگ نے کہا ہے کہ ایران کا منصوبہ واضح ہےپہلے مرحلے میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو میزائل حملوں کی طوفانی بارش سے ختم کیا جائےاور دوسرے مرحلے میں ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے (ایئرپورٹس، بندرگاہیں، بجلی اور مواصلاتی نیٹ ورک) کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل اور جوہری صلاحیتیں اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک ایسا سنگین خطرہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی عسکری اور سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ریٹائرڈ جنرل بریگ نے انکشاف کیا کہ ایک ایرانی میزائل کو تباہ کرنے کی لاگت تقریباً 70 لاکھ امریکی ڈالر ہے، اور اسرائیل کے موجودہ دفاعی ذخائر ایسے وسیع حملوں کا طویل مدتی مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے مسلسل اور منظم میزائل حملے شروع ہو گئے تو اسرائیلی معیشت، فوج، اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔ یہ صورت حال ملکی جنگی مشینری کو ناکارہ بنا سکتی ہے، اور اسرائیل کو داخلی سلامتی بحران کا سامنا ہوگا۔

جنرل یتسحاق بریگ نے نیتن یاہو حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت شہری محاذ کی کمزوری اور عوام کو درپیش حقیقی خطرات کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو ایک ایسے تصادم میں دھکیل دیا ہے جس کا کوئی یقینی اختتام نظر نہیں آ رہا۔

اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکی حمایت پر مکمل انحصار غیر دانشمندانہ ہوگا۔ ان کے مطابق، واشنگٹن بھی ایران کے جوہری مسئلے کے فوجی حل پر آمادہ نظر نہیں آتا، جس سے اسرائیلی دفاع کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنرل بریگ نے یاد دلایا کہ ماضی میں اسرائیل نے اگرچہ متعدد جنگوں میں پہل کی، لیکن اکثر کسی نہ کسی معاہدے یا جنگ بندی پر مجبور ہو کر رکنا پڑا۔ ایران کے ساتھ موجودہ تصادم، ان کے بقول، اسرائیل کی تاریخ کی سب سے خطرناک جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں