“ایران کو تاحال جنگ بندی سے متعلق کوئی سرکاری تجویز موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی
کسی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔” ایران کے سینئر عہدیدار کی عالمی میڈیا سے گفتگو
واشنگٹن / تہران / یروشلم(وائٹ ہاؤس پریس آفس، رائٹرز، الجزیرہ، تسنیم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل نے جاری جنگ بندی مذاکرات میں جنگ ختم کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو امن کی جانب پیش قدمی پر مبارکباد دی ہے۔
واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا”ایران کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے 12 گھنٹے بعد اسرائیل بھی جنگ بندی کرے گا۔ اس طرح آئندہ 24 گھنٹوں میں مشرق وسطیٰ میں جاری 12 روزہ جنگ مکمل ختم ہو جائے گی۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا”ہر فریق کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوران پرامن، محتاط اور بااحترام طرز عمل اختیار کرے گا۔”
ان کا کہنا تھا کہ”یہ ایک ایسی جنگ تھی جو برسوں جاری رہ سکتی تھی اور پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر لے جاتی، لیکن دونوں ملکوں نے استقامت، ہمت اور ذہانت سے فیصلے کیے۔”
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا”خدا اسرائیل، ایران، مشرق وسطیٰ، امریکا اور دنیا بھر پر اپنا رحم کرے۔”
دوسری جانب ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ”ایران کو تاحال جنگ بندی سے متعلق کوئی سرکاری تجویز موصول نہیں ہوئی ہے، اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔”
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا معاہدے کیلئےباضابطہ مذاکرات اور شرائط کی وضاحت ناگزیر ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ 12 روز سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور میزائل حملوں نے خطے میں ایک مکمل جنگ کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ ایران نے امریکی حملوں کے ردعمل میں قطر اور عراق میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔موجودہ جنگ بندی کو خطے میں قیامِ امن کیلئےاہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے.
تاہم ایران کی جانب سے سرکاری تصدیق آنا ابھی باقی ہے۔

