انسانی وحشت کی تاریخ آج کی نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی ہے،ہر دور میں انسان ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرتا آیا ہے، جن کے اکثر تذکرے پرانی کتابوں سے بھی ملتے ہیں،،، جیسے 3ہزار سال قبل کی ایک چینی کتاب The Art of Warجس کا موضوع جنگ ہے کو پڑھ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اُس وقت بھی جنگ کی حکمت عملیاں ’اشرف المخلوقات ‘ کی طرف سے بنائی جاتی تھی، مگرجب سے انسان نے سرحدیں قائم کی ہیں تب سے آج تک ہر دور میں کوئی نہ کوئی یہاں پر ”سپرپاور “ رہا۔ جو اپنے سے کم تر ممالک پر اپنا رعب و دبدبہ بنائے رکھتا آیا ہے،،،جیسے 500قبل مسیح فارسی سلطنت حکمرانی کرتی رہی،،، 27قبل مسیح سے 476ءعیسوی تک رومی سلطنت کی حکمرانی رہی، پھر 661سے 750عیسوی تک اُموی خلافت کا دور رہا، پھر 750ءسے 1258ءتک عباسی ”سپرپاور“ میں رہے،عین اسی دوران منگولوں نے 1368ءتک ڈیڑھ سو سال دنیا پر خاص طور پر ایشیا میں حکمرانی کی۔ پھر 13ویں صدی عیسوی سے 1922ءتک سلطنت عثمانیہ نے دنیا پر راج کیا۔ اسی دوران تاج برطانیہ نے سراُٹھایا اور اٹھارویں صدی سے 20ویں صدی کے اوائل تک دنیا پر راج کیا ،،، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ختم ہوا۔ پھر 1991ءتک دنیا پر راج کرنے والا سوویت یونین تھا، ، اور اب جدید دور میں امریکا سپرپاور ہے،،، اور اس میں شک بھی کوئی نہیں،،، کیوں کہ اُس کے دنیا بھر کے 70سے زائد ممالک پر اپنے فوجی اڈے ہیں،،، اور کئی سمندری حصوں پر قابض ہے۔ امریکا بلکہ ہر دور کے سپرپاور کی خواہش رہی ہے، کہ ہر ملک اُس کے تابع ہو،،، جیسے پاکستان اس وقت امریکا کے تابع ہے،،، اور باعث مجبوری یا باعث شوق امریکا کی ہر اچھی یا بری بات پر اُس کی خوشامد کرتا ہے۔ اور اگر کوئی اس کی بات نہیں مانتا تو جو کچھ آج ایران کے ساتھ کیا جا رہا ہے، پھر وہ وہی حال سب کا کرتا ہے،،، جیسے حال ہی میں وینزویلا کے صدر کو خاتون اول سمیت اُس کے ملک سے اُٹھا کر امریکا لے جایا گیا،،، پھر ایران کی صف اول کی قیادت کو ایک جھٹکے میں شہادت کے رتبے پر پہنچا دیا ۔ جبکہ ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ دو چار اسلامی ملک کھڑے ہو جاتے تو ایران بچ سکتا تھا،،، لیکن اس پر مجھے اختلاف ہے کہ آخر کب تک ؟ آخر کب تک ہم ایک دوسرے کو بچاتے رہیں گے،،،
بلکہ اب تو ہم بچا بھی نہیں رہے،،، اب تو بادی النظر میں تمام اسلامی ممالک کو بھی اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے،،، جیسے سینئر صحافی حامد میر کے مطابق ایک قریبی اسلامی خلیجی ملک جس کی طرف انہوں نے اشارہ کیا مگر نام نہیں لیا، غالباََ میرے خیال میں شاید وہ یو اے ای ہی گا ، جس کے کہنے پر پاک افغان جنگ چھیڑی گئی ،، تاکہ پاکستان کو اس طرف Engageکیا جائے،،، حالانکہ یہ بات بہت سے لوگوں کے قریب ماننے والی نہیں ہے ،، کہ دو اسلامی ممالک کو لڑانے والا بھی ایک اسلامی ملک ہی ہے،،، لیکن خبر تو وہیں بنتی ہے جہاں کچھ چل رہا ہو،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ مفادات کی ایک اور گیم دیکھ لیں کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کہہ رہا ہے کہ ایران پر حملے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلے میں دو بڑی وجوہات سے دباؤشامل تھا:پہلا یہ کہ بنجمن نیتن یاہو نے طویل عرصے سے ایران کے خلاف جارحانہ اقدام پر زور دیا، کیونکہ وہ ایران کو اپنا سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔دوسرا محمد بن سلمان (سعودی ولی عہد) نے نجی طور پر صدر ٹرمپ کو متعدد بار فون کر کے کہا کہ اگر اب امریکہ نے کارروائی نہ کی تو ایران مضبوط ہو جائے گا اور خطے میں مزید خطرہ بن جائے گا۔یعنی امریکی اخبارکے مطابق اسرائیل اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے پبلک طور پر سفارتی حل کی حمایت ظاہر کی، لیکن خفیہ طور پر امریکی صدر پر سخت دباؤ ڈالا کہ وہ سخت کارروائی کرے ۔
اب ایسی صورتحال میں مجھے بتایا جائے کہ کونسا اسلام ، کونسا اسلامی اتحاد، اور کونسے اسلامی ملک اور کونسے اسلامی سربراہان؟ لہٰذامیرے خیال میں جب آپ اپنے اپنے مفادات دیکھ ہی رہے ہیں تو پھر اپنے اپنے ملکوں میں سائنسی علوم کو اتنی جگہ کیوں نہیں دیتے جتنی جگہ مغربی ممالک دے رہے ہیں،،،؟ تبھی وہ اپنی ٹیکنالوجی کی بدولت ہم مسلمانوں کو مات دے رہے ہیں،،، اور ہم ٹیکنالوجی کی بدولت اُن کے تابع ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اور پھر آپ ایران کو لاکھ غداروں کی سرزمین کہیں ، مگر آپ اس بات کو کبھی رد نہیں کر سکتے، کہ اس وقت اُن کے استعمال میں جتنی بھی الیکٹرانک ڈیوائز ہیں اُس میں ٹیکنالوجی امریکی ، اسرائیلی یا مغربی ساختہ ہے۔ خواہ وہ کمپیوٹر ہوں، موبائل ہوںیا کچھ اور ،،، چلیں آپ موبائل، واکی ٹاکی، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ وغیرہ کا استعمال ترک بھی کر دیں تو کیا آپ کے کمرے میں موجود فریج، اے سی، گھڑی ، اوون یا کوئی اور الیکٹرانک چیز آپ کے ملک میں بنی ہوئی ہے؟ یقینا وہ بھی بیرون ملک سے ہی آپ نے امپورٹ کی ہوںگی،،، یا آپ کے گھر میں جو گاڑی ہے، کیا وہ آپ کے ملک میں بنی ہے؟ آپ لاکھ سگنل روکنے والے آلات لگا لیں،،، لیکن دشمن آپ سے دو قدم آگے کی سوچ رکھتا ہے،،، وہ جانتا ہے کہ کس ملک میں کونسی ڈیوائز کارگر ثابت ہو سکتی ہے،،، وہ اگر آپ کے میزائلوں کا توڑ جانتا ہے تو یقینا آپ کو ٹریس کرنے کی بھی قابلیت رکھتا ہے،،، اس لیے میرے خیال میں ایران نے دو چیزوں سے مار کھائی ہے ایک تو داخلی سیکیورٹی پہ توجہ نہیں دی، یعنی دو دن کی جنگ میں اپنا سپریم لیڈر گنوا بیٹھے۔۔ سیکورٹی میں اتنی زیادہ لیکج ہے کہ پتہ نہیں ایرانی کیا کرتے رہے ابتک۔۔ اگر اُنہیں علم تھا کہ اُن کی مخبری ہو رہی ہے، اور اس کا ثبوت 6ماہ قبل کی جنگ میں امریکا و اسرائیل کئی صف اول کے مسلمان رہنماﺅں کو ٹارگٹ کر کے دے بھی چکے ہیں بلکہ اُس وقت تو صف اول کے سائنسدان چن چن کر ہلاک کر دیے گئے تھے۔۔ تو بدلے میں ایران نے ان چھ مہینوں میں نہ تو غدار ڈھونڈے اور نہ ہی الیکٹرانک ڈیوائز تلاش کرسکے جن سے ان کی لوکیشن پتہ چل سکے۔ پھر دوسری خامی یہ کہ ائیر فورس کو مضبوط نہیں کیا، بلکہ ائیر فورس پر کام ہی نہیں کیا،،،ا ور نہ ہی قابل ذکر ائیر ڈیفنس سسٹم بنایا،،جس کی وجہ سے اسرائیلی اور امریکی طیارے آج بھی بآسانی ایرانی کی فضاﺅں میں گھوم رہے ہیں،،، اور اہداف کا تعاقب کر رہے ہیں۔۔۔
اور پھر یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ دنیا میں کہیں مذہب کی جنگ ہے ہی نہیں، اسرائیل یہودی ملک ہے، امریکا عیسائی ملک ہے،،، دوسری جنگ عظیم میں امریکا و برطانیہ نے جرمنی و اٹلی کو تباہ کیا ،یہ چاروں عیسائی ملک تھے،،، ساری زندگی جرمنی ، فرانس، برطانیہ آپس میں لڑتے رہے ہیں،،، عراق ، ایران جنگ کئی سال تک لڑی گئی،،، سعودی عرب و ایران آج بھی ایک دوسرے کو دل سے تسلیم نہیں کرتے،،، تو پھر مذہبی بنیادوں پر ایک دوسرے کے حلیف کہاں سے آگئے؟ اور پھر اس وقت ہماری افغانستان سے جنگ نہیں ہو رہی؟ اس جنگ میں بھی دونوں کے مفادات الگ الگ ہیں، اس لیے یہ نہ سوچیں کہ مذہب کی بنیاد پر سارے اسلامی ممالک اکٹھے ہو کر امریکا پر چڑھ دوڑیں گے!
لہٰذاہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم مغربی دنیا سے ٹیکنالوجی میں مقابلہ کرنے کے قابل ہوتے تو ہم ایک ایک کرکے کبھی شکست نہ کھا رہے ہوتے۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ کی تیاری نہیں تھی اور آپ ٹیکنالوجی بھی اُنہی کی استعمال کر رہے تھے تو میرے خیال میں پھر آپ کبھی جنگ نہیں جیت سکتے،،، اور جنگ کی دعوت دے کر اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں،،، یا تو آپ کو ان کی ٹیکنالوجی کا توڑ نکالنا چاہیے تھا اگر نہیں تو پھر آپ کو ایسے نعرے مارنے نہیں چاہیے تھے،،، البتہ چین نے اس کا توڑ ضرور نکالا ہوا ہے،،، کہ آپ جیسے ہی چین پہنچتے ہیں تو وہاں،، نہ تو گوگل تک رسائی ہوتی ہے، نہ جی میل وغیرہ تک رسائی ہوتی ہے، نہ وٹس ایپ، نہ فیس بک اور نہ ہی کوئی دوسری ایپ چلتی ہے،،،، بلکہ انہوں نے اپنے صارفین کے لیے اپنے ملک میں بنائے سافٹ وئیر اور کمپیوٹر بنا رکھے ہیں۔۔ تاکہ ہیکنگ والے معاملے سے چین باہر رہے اور کوئی اُن کو Access نہ کر سکے۔
لیکن چین کا سب سے بڑا فالٹ یہ ہے کہ چین اپنے دوستوں کے لیے کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا،،، جیسے ہم سب یہی سمجھتے تھے کہ چین ، ایران، روس، شمالی کوریا، ترکی وغیرہ سب ایک بلاک میں ہیں،،، لیکن ان حملوں کے بعد مجال ہے چین نے کوئی پوزیشن لی ہو،،، محض ایک دو مذمتی بیان جا ری کر دیے گئے ہیں ،،، اور کہا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں،،، اور چین کی یہی مصلحت پسندی اُس کے دوستوں کو سخت ناپسند ہے۔ مطلب! جب دوستوں پر برا وقت آتا ہے تو چین سائیڈ لائن ہو جاتا ہے،،، اور اگر وہ کسی کے کام آئے گا بھی تو سب سے پہلے وہ اپنے کاروبار کو سامنے رکھے گا،،، جیسے جب ایران کے ساتھ کوئی نہیں تھا تو اُس نے ایران سے سستے ترین ریٹس پر تیل خریدا۔ اس طرح اُس نے ایران کی مدد نہیں کی، بلکہ اُس نے اپنی مدد کی ہے،،، اور جب سب کو پتہ تھا کہ ایران پر حملہ ہونے والا ہے تو چین نے اپنے اتحادی کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس لیے چین پر آپ مکمل بھروسہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کے برعکس امریکا اپنے دوست ممالک کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے،،، جیسے وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، کھل کر کھڑا ہے، جیسے وہ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے تو کھل کر کھڑا ہے،،، اور پھر جیسے ایران والی جنگ میں وہ صرف دوستوں کے کہنے پر ہی کودا ہے،،، جیسے اسرائیل تو دوست ہے ہی،،، مگر بقول واشنگٹن پوسٹ سعودیہ اور یواے ای کے کہنے پر ہی وہ دباﺅ میں آیا اور حملہ کرنے کو آگیا۔
بہرکیف سادہ سی بات ہے کہ اگر آپ جذبہ جذبہ کی گردان لگائے بیٹھے ہےں، یہ سوچ کر کہ جنگیں صرف جذبوں سے لڑی جاتی ہیں۔ لیکن اس بات کو آپ تسلیم کر لیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے تو جذبے واڑ کر رکھ دیے ہیں۔ یاد رکھیں، جب 200 جدید جنگی طیارے آپ کی فضاو¿ں پر عملی کنٹرول حاصل کر لیں اور ایک ہی دن میں 500 اہداف کو نشانہ بنا دیں ، جیسا کہ حال ہی میں اسرائیل نے ایران پر اپنے تاریخ کے سب سے بڑے ایئر آپریشن میں کیاہے، تو وہاں محض بہادری یا جذبے کی بات نہیں ہوتی بلکہ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، فضائی برتری، الیکٹرانک وارفیئر، AWACS، سیٹلائٹ انٹیلی جنس اور مربوط نیٹ ورک سینٹرڈ وارفیئر کی بات ہوتی ہے۔جدید جنگیں بنیادی طور پر فضائی، سائبر اور ٹیکنالوجیکل جنگیں بن چکی ہیں اور اگر آپ کے پاس جدید ہتھیار، جدید انٹیلیجنس، پرسیڑن سٹرائیکس اور فضائی برتری موجود نہیں تو اگلے سائیں آپ کو ایسی جگہ ماریں گے، جہاں آپ پانی بھی نہیں مانگ سکیں گے،،، اور ویسے بھی قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اور (اے مسلمانو!) ان کے مقابلے کے لیے تم سے جس قدر ہو سکے قوت مہیا رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی (تیاری بھی)، اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو (اپنے اوپر حملہ آور ہونے سے) ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور تم جو کچھ (بھی اپنے دفاع کی خاطر) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے ناانصافی نہ کی جائے گی۔“یعنی اللہ نے خود مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ”گھوڑوں کی تیاری“ کرو یعنی جدید ترین طاقت، ٹیکنالوجی، ہتھیار اور فضائی برتری جمع کرو تاکہ دشمن دہشت زدہ ہو جائے!

