ایران میں احتجاج کا 12 واں روز، مظاہرے کے دوران پولیس افسر جاں بحق

تہران( فارس نیوز ایجنسی، اے ایف پی)ایران میں مہنگائی کیخلاف جاری احتجاج کے 12ویں روز دارالحکومت تہران میں مظاہرے کے دوران چاقو لگنے سے ایک پولیس افسر جاں بحق ہو گیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے مغرب میں واقع ضلع ملارد میں پولیس فورس کے رکن شاہین دہقان مشتعل مظاہرین کو قابو میں کرنے کی کوشش کے دوران چاقو لگنے سے شہید ہو گئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کیلئےسیکیورٹی اداروں کی جانب سے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو اس وقت ہوا جب تہران کے تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس کے بعد احتجاج کی لہر ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گئی۔

سرکاری بیانات اور مقامی میڈیا پر مبنی اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں، جن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یہ حالیہ احتجاجی لہر اسلامی جمہوریہ ایران میں 23-2022 کے ملک گیر مظاہروں کے بعد سب سے شدید تحریک قرار دی جا رہی ہے، جو خواتین کیلئے لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔