ایران نے میزائل حملوں میں 4 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کا باضابطہ نفاذ کردیا

نیویارک/تل ابیب/تہران/واشنگٹن(پریس ٹی وی (ایران)، رائٹرز، اے ایف پی، اسرائیلی میڈیا، وائٹ ہاؤس)ایران نے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں میں 4 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باضابطہ نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ جنگ بندی سے قبل دونوں فریقین کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری رہیں، جس میں جنوبی اسرائیل کے شہر بئر السبع میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 11 سے زائد زخمی ہوئے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی اور اسرائیلی امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈم (MDA) کے مطابق حملے منگل کی صبح جنگ بندی سے محض چند گھنٹے قبل پیش آئے جب ایران نے اسرائیل پر کم از کم 5 میزائل داغے اور سائرن کئی بار بجائے گئے۔

صدر ٹرمپ کا تصدیقی بیان: “فریقین نے امن کیلئےمجھے کہا، یہی وہ لمحہ تھا”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا“ایران اور اسرائیل ایک ساتھ میرے پاس آئے اور کہا ‘امن! ’… میں جان گیا یہی وہ لمحہ ہے۔ دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ اس جنگ بندی کا اصل فاتح ہے۔”

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے امن، خوشحالی اور باہمی احترام پر مبنی مستقبل کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متنبہ بھی کیا“اگر وہ راستی اور سچائی کے راستے سے ہٹے تو کھونے کے لیے بہت کچھ ہوگا۔”

مرحلہ وار جنگ بندی کا نظام
صدر ٹرمپ نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی کا نفاذ تین مرحلوں میں ہوگاایران کی جانب سے منگل صبح 4 بجے (GMT) یکطرفہ جنگی کارروائیاں روک دی جائیں گی،اسرائیل 12 گھنٹے بعد جنگی کارروائیاں بند کرے گا،24 گھنٹے بعد جنگ بندی کو عالمی سطح پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے گا.

وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ بندی کے عمل کو محفوظ بنانے میں امریکی بی-2 طیاروں کے عملے اور ان کی مہارت نے کلیدی کردار ادا کیا۔

اسرائیلی ردعمل اور نقصانات
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ 12 روزہ جنگ کے دوران500 سے زائد ایرانی میزائل،1000ڈرونز تباہ کیے گئے،ملک بھر میں کم از کم 50 حملوں کے اثرات کی تصدیق ہو چکی ہے،جنگ سے قبل سرکاری ہلاکتوں کی تعداد 24 تھی، منگل کے حملوں میں مزید 4 افراد جاں بحق ہوئے.

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، بئر السبع، اور شمالی علاقوں میں بارہا خطرے کے سائرن بجے۔ تاہم مکمل نقصانات کا اندازہ فوجی سنسرشپ قوانین کی وجہ سے فوری طور پر ممکن نہیں۔

اے ایف پی کے مطابق عالمی رہنماؤں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کو خطے میں ممکنہ وسیع تر تصادم سے بچاؤ کیلئےانتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں