ایران کا اسرائیل پر تازہ جوابی حملہ، تل ابیب، حیفہ اور مقبوضہ علاقوں کو نشانہ بنایا گیا

تہران / یروشلم (عالمی خبر رساں ادارے)ایران نے اسرائیلی جارحیت کے چوتھے روز بھی بھرپور اور شدید جوابی کارروائی کرتے ہوئے ’آپریشن وعدۂ صادق 3‘ کے تحت اسرائیل کے اہم شہروں تل ابیب اور حیفہ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی میزائل حملے کے بعد ان دونوں شہروں میں خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے،شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔ایرانی حکام کے مطابق کارروائی کا آغاز رات 1 بجکر 20 منٹ پر کیا گیا جس میں جدید بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ حملے کا مقصد اسرائیلی فوجی تنصیبات اور حساس اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔

ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے حملے سے چند گھنٹے قبل واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ”اسرائیلی جارحیت نے ایران کو دفاع میں پہل کرنے پر مجبور کیا ہے اورآج کی رات دن کے نظارے میں بدل جائے گی۔”تل ابیب، حیفہ اور دارالحکومت میں سائرن اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئے ہیں.

حملے کے فوری بعد اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، حیفہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں سائرن کی آوازیں سنائی دیں.متعدد علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنی گئی.اسرائیلی دارالحکومت میں بھی فضائی حملوں کی وارننگ جاری کر دی گئی.

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ایرانی میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے۔
فوج نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے اور ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق”ایران کی جانب سے داغے گئے بعض میزائل کامیابی سے روکے گئے ہیں
تاہم صورتحال ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔”

ایران نے اپنے سرکاری بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ جوابی کارروائی آج صبح تک جاری رہے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے ہیں اور اس کا مقصد اسرائیلی جارحیت کا بھرپور جواب دینا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں