تہران/یروشلم (ایجنسیاں)اسرائیلی حملوں کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے اتوار کے روز اسرائیل بھر پر بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں کی بارش کر دی، جس سے کم از کم 6 اسرائیلی زخمی اور کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
ایرانی میزائل حملوں کے بعد تل ابیب، حیفہ، یروشلم اور شمالی اسرائیل کے دیگر علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے، شہریوں کو فوری طور پر شیلٹرز میں پناہ لینے اور باہر نہ نکلنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ایران کے جوابی حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی فضائی حدود اور تمام ہوائی اڈے بند کر دیے ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل، جیرؤسلم پوسٹ اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے درجنوں میزائل اسرائیلی شہروں میں ٹکرائے، جن کے نتیجے میں حیفہ میں آگ بھڑک اٹھی، جنوبی اور شمالی اسرائیل میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ایرانی میڈیا ’تہران ٹائمز‘ اور ’ارنا‘ کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ”یہودی قابضین مقبوضہ علاقے چھوڑ دیں، یہی ان کی بقا کا واحد راستہ ہے۔ جرائم پیشہ افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل شادمانی نے کہا کہ”اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور مکمل پچھتاوے تک جوابی کارروائیاں شدت سے جاری رہیں گی۔ ہماری مسلح افواج اپنی دفاعی طاقت کے عروج پر ہیں اور حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔”
ذرائع کے مطابق ایرانی حملوں میں نیتن یاہو کا خاندانی گھر بھی قیصریہ میں متاثر ہوا ہے، جب کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران سے بھیجے گئے 100 سے زائد ڈرونز کو فضاء میں تباہ کر دیا ہے۔
آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) کے مطابق”اب تک اسرائیل کی حدود میں کسی ایرانی ڈرون کے گرنے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ اسرائیلی فضائیہ، بحریہ اور فضائی دفاعی نظام مسلسل ایران کے حملوں کو روکنے میں مصروف ہیں۔”

