لاہور (وقائع نگار خصوصی) – لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2025-26 میں شامل انکم ٹیکس آرڈیننس کی متنازع شق 37AA سمیت کئی تجاویز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ملک کی کاروباری فضا کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ چیمبر کی قیادت نے اس حوالے سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی، جس سے صدر ایل سی سی آئی میاں ابوذر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان، نائب صدر شاہد نذیر چودھری، سابق صدور میاں انجم نثار، محمد علی میاں اور سابق نائب صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے خطاب کیا۔
مقررین نے شق 37AA پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بغیر وارنٹ گرفتاری، بینک اکاؤنٹس فریز کرنے، جائیداد خریدنے پر پابندی عائد کرنے اور دیگر غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں جو آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد نے واضح الفاظ میں کہا”ہم ایف بی آر کو اس قدر لامحدود اختیارات دینے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ تجاویز کاروباری طبقے میں خوف، بے یقینی اور سرمایہ کے انخلاء کا باعث بنیں گی۔”
انہوں نے فاٹا اور پاٹا میں 10 فیصد سیلز ٹیکس اور دیگر علاقوں میں 18 فیصد ٹیکس کے فرق پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس آٹھ فیصد فرق نے مسابقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً چار ارب روپے کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں جبکہ 80 ارب روپے کی سولر پینلز کی اوور انوائسنگ اور 565 ارب روپے کے ریفنڈ اسکینڈل پر حکومتی خاموشی تشویشناک ہے۔
سابق صدر محمد علی میاں نے ایف بی آر کے اختیارات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوذر شاد سے میڈیا کی موجودگی میں براہِ راست مناظرے کا چیلنج دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ”اگر ایف بی آر کی پالیسیاں درست ہیں تو چیئرمین سامنے آئیں اور اوپن فورم میں جواب دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔”
سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان اور نائب صدر شاہد نذیر چودھری نے موجودہ معاشی پالیسیوں اور سیاسی بے یقینی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان عوامل کی وجہ سے سرمایہ تیزی سے ملک سے باہر منتقل ہو رہا ہے۔
سابق صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ شق 37AA آئینی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ایف بی آر ریاست کے اندر ایک ریاست بن جائے گا، جو کسی طور پر قبول نہیں۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت بجٹ تجاویز پر نظرثانی کرے، کاروباری طبقے کو اعتماد میں لے، اور ان تجاویز کو واپس لے جو خوف، غیر یقینی، اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔

