اینٹورپ کی سب سے کم عمر پہلی پاکستانی نژاد مسلم کونسلر”راویل علی “سے خصوصی گفتگو

اینٹورپ ،بیلجیم (اشرف خان لودھی)—بیلجیم کے شہر اینٹورپ میں مقیم پاکستانی نژاد نوجوان خاتون راویل علی نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کونسل کی سب سے کم عمر اور پہلی مسلمان رکن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اشرف خان لودھی نے اینٹورپ میں ان سے خصوصی گفتگو کی جو نذرِ قارئین ہے۔

سوال: سب سے پہلے اپنے بارے میں بتائیے۔ کہاں پیدا ہوئیں اور کہاں تعلیم حاصل کی؟
راویل علی: ہم ایک بہت خوبصورت ملک میں پیدا ہوئے۔ میرے بڑے بھائی اور میں میلان، اٹلی میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد، جب ہم تقریباً سات یا آٹھ سال کے تھے تو اینٹورپ، بیلجیم آ گئے۔ یہاں ہمیں اچھی تعلیم ملی۔ ہم اسلئےیہاں منتقل ہوئے کیونکہ یہاں کا تعلیمی نظام بہت اچھا ہے۔ فی الحال میں ایک یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی فعال ہوں۔

سوال: سیاست میں آنے کا فیصلہ کیسے ہوا؟
راویل علی: یہ سب کچھ میرے لئےغیر متوقع تھا۔ ہمیں پارٹی کی طرف سے ٹکٹ ملا تو ظاہر ہے بہت دلچسپی پیدا ہوئی۔ میرے والد کو بھی پاکستان اور یہاں بیلجیم میں سیاست سے بہت شغف رہا ہے۔ ہم نے یہ قدم اپنی پاکستانی کمیونٹی اور دیگر مسلمانوں کیلئے اٹھایا تاکہ سب کو معلوم ہو کہ ہم موجود ہیں اور ہماری ایک آواز ہے۔

سوال: انتخابی مہم میں کن کمیونٹیز نے آپ کا ساتھ دیا؟
راویل علی: پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ انڈین کمیونٹی نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ سکھ برادری نے ہمیں گوردوارے میں کئی بار مدعو کیا اور عزت و احترام سے نوازا۔ اس کے بعد ہماری نیپالی، بنگالی، افغانی، پٹھان، مراکشی، ترک اور تمام مسلم کمیونٹی نے ساتھ دیا۔ مسلمانوں نے اسلئےبھی ہمارا ساتھ دیا کہ وہ چاہتے ہیں ان کی نمائندگی ہو۔ اس کے علاوہ مسیحی برادری نے بھی ہماری پارٹی کے اچھے منشور کی وجہ سے حمایت کی۔

سوال: آپ کی بنیادی ترجیحات اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟
راویل علی: فی الحال ایک اہم مسئلہ مسجد کا ہے، جس کیلئےہم تمام معلومات اکٹھی کر رہے ہیں تاکہ اسے جمع کرایا جا سکے۔ خواتین کی حفاظت کیلئےہم “پرپل پوائنٹ” قائم کرنا چاہتے ہیں، جہاں خواتین 24 گھنٹے مدد حاصل کر سکیں۔ میں ذاتی طور پر حجاب کے حق میں آواز اٹھاتی ہوں تاکہ مسلمان خواتین اسکولوں اور نوکریوں میں حجاب پہن سکیں۔ جیسے مرد سکھوں کیلئےپگڑی پہننا ضروری ہے، انہیں بھی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ آزادی ہر مذہب کے ماننے والوں کو حاصل ہونی چاہیے۔

سوال: کیا یہاں حجاب یا پگڑی پہننے کی اجازت نہیں ہے؟
راویل علی: نہیں، اجازت نہیں ہے۔ میں نے کیتھولک اسکول میں پڑھائی کی جہاں اجازت نہیں تھی۔ یہاں کے سرکاری اسکولوں اور کچھ سرکاری ملازمتوں میں بھی یہ پابندی ہے۔ اسکول ٹیچرز کو اسکارف پہننے کی اجازت نہیں جس سے اساتذہ کی کمی اور بچوں کے تعلیمی مستقبل پر اثر پڑ رہا ہے۔ اسلئےضروری ہے کہ ہر کسی کو مذہبی آزادی دی جائے۔

سوال: کیا نماز پڑھنے پر بھی پابندی ہے؟
راویل علی: جی ہاں، اگر آپ کسی سرکاری جگہ پر ہوں جیسے لائبریری، تو وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے اور آپ کو کہا جا سکتا ہے کہ باہر جائیں۔ اس کا اختیار صرف سٹی حکومت کے پاس ہے۔ یہاں اوپر سے نیچے تک ایک ہی حکومت ہےاسلئے اگر ہم یہاں آواز اٹھائیں تو وہ اعلیٰ سطح تک جائیگی۔

سوال: مستقبل کیلئےآپ کا کیا پیغام ہے؟
راویل علی: ہمیں اپنی آواز اتنی مضبوط بنانی ہے کہ پورے بیلجیم میں ہمیں اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کی اجازت ہو، بغیر کسی پابندی کے۔ کیونکہ ہم کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے۔

نوٹ:اینٹورپ میں 6 جنوری 2025 کو منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں راویل علی صرف 20 سال کی عمر میں ڈسٹرکٹ کونسل کی سب سے کم عمر رکن بن گئیں۔اینٹورپ ڈسٹرکٹ کونسل کی نئی مدت کے آغاز پر 33 اراکین نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔

ان میں 18 نئے اراکین شامل تھے، جن میں سب سے کم عمر راویل علی اور سب سے زیادہ عمر کی رکن 74 سالہ لورا گریٹن تھیں۔ راویل علی حزبِ اختلاف کی جماعت پی وی ڈی اے (PVDA) کی نمائندگی کرتی ہیں اور دیگر اپوزیشن جماعتوں میں گرون (Groen)، فلامش بلانگ (Vlaams Belang) اور اوپن وی ایل ڈی (Open VLD) شامل ہیں۔

تقریب میں منتخب اراکین نے آئندہ چھ سال شہر کی ترقی اور عوامی خدمت کیلئے بھرپور محنت کا عزم کیا۔راویل علی کی کم عمری میں کونسلر منتخب ہونا اینٹورپ کی سیاست میں نوجوان قیادت کے ابھرتے ہوئے کردار کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں