گزشتہ صدی کے خطرناک ترین مرض ایڈز کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔ ایڈز یعنی ایچ آئی وی وائرس وہ مرض ہے جو انسان کی اخلاقی بے راہ روی، ڈاکٹروں کی غفلت، نشے کے مریضوں کے ایک ہی سرنج بار بار استعمال کرنے، خون کی منتقلی، ناک کان چھیدنے کے اوزاروں، دانتوں کی سرجری کے دوران استعمال ہونے والے آلات اور ہسپتالوں میں آلات سرجری کے بغیر سٹرلائز کئے استعمال ہونے سے پھیلتا ہے۔ ایڈز 1981ء میں پہلی مرتبہ سامنے آیا اور آج تک یعنی 56 برسوں میں بھی اس کا علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ 1987ء میں ایڈز کا پہلا عالمی دن یکم دسمبر کو منایا گیا۔ تاکہ دنیا کو اس خوفناک اور خطرناک مرض کے حوالے سے آگہی مہیا کی جا سکے۔ دنیا میں اس وقت چار کروڑ افراد ایسے ہیں جن کے اندر ایڈز کا وائرس یعنی ایچ آئی وی موجود ہے اور وہ زندہ ہیں، اگر دوائیاں استعمال کریں تو زندہ رہ بھی سکتے ہیں۔ 2023ء میں تین لاکھ 60 ہزار ایڈز میں مبتلا افراد انتقال کر گئے جبکہ پاکستان میں سال 2023ء میں ایڈز میں مبتلا 13 ہزار افراد جان سے گئے۔ایڈز سے 56 برسوں میں دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 75 لاکھ افراد ایڈز متاثرہ ہیں۔ پاکستان میں سال 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 15 سال سے زائد عمر کے دو لاکھ 10 ہزار افراد ایڈز سے متاثرہ ہیں، جن میں 41 ہزار خواتین اور ایک لاکھ 47 ہزار مرد ہیں۔ ان تمام مریضوں میں سے صرف 54 ہزار مریض حکومتی مراکز پر رجسٹرڈ ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ برس 14 سال سے کم عمر کے 40 بچے بھی ایڈز کا شکار پائے گئے۔ پاکستان میں ایڈز میں مبتلا ہونے کا پتہ نہیں چلتا کہ ایڈز ہوئی ہے لوگ ”سرکاری چھتری“ کے نیچے سے غائب ہو جاتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں۔
پاکستان کے بارے گلوبل فنڈ آڈٹ کی ایک رپورٹ جو رواں سال جولائی میں شائع ہوئی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں ایڈز کے مریضوں کی اموات میں 400 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گلوبل فنڈ آڈٹ کی رپورٹ میں پاکستان میں اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ صحت کے نظام اور پروگرام کی ناکامی ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ 2003ء سے اب تک پاکستان کو 1-1 ارب ڈالر ایڈز کے مرض پر قابو پانے کے لئے دیئے گئے، جو کہ پاکستان میں ناکارہ طرزِ حکمرانی، مالی بے ضابطگیوں اور ادویات کی خریداری کے کمزور نظام کی بدولت صحیح استعمال نہیں ہو سکے۔ سندھ میں ایڈز کا شکار افراد کی سب سے زیادہ تعداد سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے آبائی ضلع لاڑکانہ میں ہے۔ جہاں 1144 ایڈز زدہ بچے شناخت کیے جا چکے ہیں شکارپور میں 509، شہید بے نظیر بھٹو ضلع میں 256 اور میرپور خاص میں ایڈز زدہ بچوں کی تعداد 228 ہے۔ یہ رپورٹیں ملنے کے بعد صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا ہے۔ سندھ کے عطائی ڈاکٹروں کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر مظفر گھنگرو ہے،جس کا سراغ اس وقت ملا جب لاڑکانہ کی تحصیل رتو ڈیرو کے ایک تھانے میں تعینات کانسٹیبل اپنے پوتے کا علاج کرانے اسے سرکاری ڈسپنسری میں لایا تو پتہ چلا کہ بچے کو ایڈز ہے، جس پر تحقیقات کی گئیں تو بچے کے دادا نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈاکٹر مظفر گھنگھرو سے اس بچے کا علاج کرا رہے ہیں اور وہ روزانہ چار سے پانچ ٹیکے بچے کو لگاتا رہا ہے، جس کے بعد رتو ڈیرو سرکاری ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر مظفر گھنگھرو کو جو شام کو پرائیویٹ پریکٹس کرتا تھا حراست میں لے لیا گیا۔ ہنگامی بنیادوں پر رتو ڈیرو کے 16 ہزار افراد کے ٹیسٹ کرائے گئے تو 638 افراد میں ایڈز کا وائرس پایا گیا۔ تفصیلی تحقیقات میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر مظفر گھنگھرو خود بھی ایڈز کا مریض ہے اور اپنے تمام مریضوں کو ایک ہی سرنج سے بار بار ٹیکے لگاتا ہے۔ ڈاکٹر گھنگھرو 2003ء میں ایم بی بی ایس پاس کر کے اس شعبے میں آئے تھے۔ سندھ کے بارے ایک اور رپورٹ کے مطابق سکریننگ کے نتیجے میں 3228 ایسے افراد جن میں ایڈز کا وائرس تشخیص ہوا غائب ہو گئے۔ اب یہ غائب ہونا کہنا سرکاری کاغذوں میں یقینا آسان ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ لوگ جن کا باقاعدہ تمام ریکارڈ موجود ہو کیسے غائب ہو سکتے ہیں۔ ان کے گھر والوں کی موجودگی میں انہیں ڈھونڈنا کون سا مشکل کام ہے، جبکہ گمشدہ 3280 افراد میں 116 بچے بھی شامل ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے خطے میں ایڈز کے مریضوں کے حوالے سے بھارت پہلے اور نیبال دوسرے نمبر پر تھا جبکہ پاکستان کا نمبر تیسرا تھا، لیکن بدقسمتی سے پاکستان اب ایڈز میں بھی ”ترقی“ کر رہا ہے۔
پنجاب بھی ”ایڈز کے معاملے“ میں دوسرے صوبوں سے پیچھے نہیں اور یہاں بھی ”ترقی کا عمل“ تیزی سے جاری ہے۔ گزشتہ سال دسمبر تک پنجاب میں ایڈز کے 23 ہزار مریضوں کی شناخت کی گئی تھی، جن میں 48 فیصد نشئی تھے۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ ایڈز کے مریض جلال پور جٹاں (گجرات) دوسرے نمبر پر کوٹ عمرانہ (سرگودھا)، نمبر تین پر ڈیرہ غازی خان اور پھر لاہور کا نمبر آتا ہے۔ پنجاب میں جیلیں بھی ایڈز کے مریضوں سے پاک نہیں ہیں۔ پنجاب کی 43 جیلوں میں 645 ایڈز کے مریض ہیں۔ اڈیالہ جیل میں 148، کیمپ جیل لاہور میں 83 فیصل آباد 37، لاہور اور گجرانوالہ سینٹرل جیل میں 27 – 27 مریض ہیں۔ پنجاب میں صرف سرگودھا میں عطائی ڈاکٹروں کی تعداد 8 ہزار بتائی جاتی ہے اور یہ عطائی ہیپاٹائٹس بی اور سی، ایڈز پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ کے پی کے میں رواں سال جون میں شائع سروے رپورٹ کے مطابق ایڈز کے 8400 مریض ہیں جن میں پشاور میں 1724 اور بنوں میں 939 مریض ہیں۔
ایڈز سے بچنے کے لئے اپنی اہلیہ کے سوا کسی غیر فرد کے ساتھ جنسی تعلقات نہ رکھیں، نشہ مت کریں، کان چھدواتے ہوئے، کسی بھی آپریشن اور دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنے کے وقت احتیاط کریں۔ یہ احتیاط ہی اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔

