ایک اور سال، وہی سوال: راستہ کہاں ہے؟

اس صدی کے چوبیس برس غیر معمولی رفتار سے گزرے، اور پچیسواں سال بھی بے شمار اچھی بُری یادیں پیچھے چھوڑ کر تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یہ سال ایک طرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت، عالمی روابط میں بہتری اور بعض خطوں میں سفارتی سرگرمیوں کی علامت رہا، تو دوسری جانب جنگوں، تنازعات اور عوامی مشکلات میں اضافے کی تلخ حقیقت بھی اپنے ساتھ لایا۔ وقت کی یہ تیزی محض کیلنڈر کے اوراق نہیں پلٹ رہی تھی بلکہ دنیا کے سیاسی، معاشی اور سماجی نقشے بھی خاموشی سے مگر مسلسل بدلتی چلی گئی۔ گزرے سال پر نظر ڈالیں تو عالمی سطح پر بڑے اور کٹھن واقعات سامنے آئے۔ کہیں جنگوں نے تباہی مچائی، کہیں پرانے تنازعات نے نئی شدت اختیار کی، اور کہیں کہیں وقتی ٹھہراؤ بھی دکھائی دیا۔ مجموعی طور پر عدم استحکام بڑھا، عوامی مسائل میں اضافہ ہوا اور عام انسان مزید دباؤ اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوتا چلا گیا۔ طاقت کی سیاست اور معاشی مفادات کی کشمکش نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ امن آج بھی دنیا کی سب سے قیمتی اور نایاب ضرورت ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر مکمل طور پر مایوس کن نہیں۔ بھارت کے ساتھ مختصر مگر حساس جنگی صورتحال میں پاکستان کی کامیابی نے قومی دفاع پر اعتماد کو تقویت دی۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان ایک طویل عرصے کی سفارتی بے وزنی کے بعد دوبارہ ایک اہم اور قابلِ توجہ ملک کے طور پر ابھرتا دکھائی دیا۔ سفارتی محاذ پر روابط میں بہتری آئی، عالمی فورمز پر پاکستان کی آواز نسبتاً مؤثر انداز میں سنی گئی اور معاشی میدان میں بھی کچھ مثبت اشارے سامنے آئے۔ اگرچہ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان پیش رفتوں نے مستقبل کے حوالے سے محتاط امید کی فضا ضرور قائم کی۔

تاہم اگر ایک شعبہ ایسا ہے جو جوں کا توں رہا بلکہ وقت کے ساتھ مزید بوجھل اور تلخ ہو گیا، تو وہ داخلی سیاست ہے۔ سیاست میں ضد، انا اور مسلسل ٹکراؤ نے قومی زندگی کو یرغمال بنائے رکھا۔ “نہ کھیلو گا نہ کھیلنے دوں گا” کی سوچ نے جمہوری رویّوں کو کمزور کیا اور مسائل کے حل کے بجائے بحرانوں کو جنم دیا۔ جذباتی اور اشتعال انگیز بیانات نے سنجیدہ مکالمے کی گنجائش محدود کر دی، جبکہ ریاست اور عوام کے مفاد سے زیادہ شخصیت پرستی کو فروغ دیا گیا۔ اصول، ادارے اور قانون بارہا افراد کے گرد گھومتے دکھائی دیے۔

اس بگاڑ میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدلیہ کا سیاست میں زیرِ بحث آنا، مین اسٹریم میڈیا کا واضح طور پر سیاسی پسند اور ناپسند میں تقسیم ہونا، اور سوشل میڈیا پر بدتمیزی، کردار کشی اور گالم گلوچ—یہ سب مل کر معاشرتی زوال کا سبب بنے۔ ریٹنگ، ویوز اور فالوورز کی دوڑ میں جھوٹ، آدھے سچ اور لغو پروپیگنڈے کو اس انداز میں پھیلایا گیا کہ عام آدمی کے لیے حقیقت اور فریب میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جانے لگا اور برداشت، شائستگی اور مکالمے جیسے اقدار کمزور پڑتے چلے گئے۔

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں رک کر خود احتسابی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں اور اپنی ضد، انا اور ذاتی مفادات میں ملک کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ کیا واقعی ہر مسئلے کا حل صرف ٹکراؤ، دھرنوں اور الزامات میں مضمر ہے؟ کیا بات چیت، مفاہمت اور سنجیدہ مکالمہ ہمارے لیے ناممکن ہو چکا ہے؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی حقیقی معنوں میں انقلابی نہیں؛ تقریباً سب کی جدوجہد اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔ موقع ملنے پر ہر حربہ آزمایا جاتا ہے اور عوام کے جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ قیمت عام آدمی کو چکانا پڑتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس روش کو روکا جائے۔ سیاست کو مستقل ٹکراؤ کے میدان سے نکال کر مکالمے کے دائرے میں لانا ہوگا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسا باقاعدہ، سنجیدہ اور مؤثر نظام قائم ہونا چاہیے جہاں قومی نوعیت کے معاملات—جیسے معیشت، خارجہ پالیسی اور انتخابی اصلاحات—سڑکوں اور ٹی وی اسکرینوں کے بجائے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حل کیے جائیں۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر اسے انا کی جنگ بنانے کے بجائے دلیل اور برداشت کے ساتھ آگے بڑھانا ہی ریاست اور عوام کے حق میں بہتر ہے۔

سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اشتعال انگیز اور نفرت آمیز زبان بولنے والے ترجمان وقتی شہ سرخیاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر طویل مدت میں وہ سیاست اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مہذب، تعلیم یافتہ اور سنجیدہ ترجمانوں کو آگے لانا اور زبان و رویّے پر ضبط اختیار کرنا صحت مند سیاست کی بنیاد ہے۔ اسی تناظر میں یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں اور حامیوں کو سوشل میڈیا پر مخالفین کے خلاف لغو پروپیگنڈہ پھیلانے اور گھٹیا زبان استعمال کرنے سے سختی سے روکیں، کیونکہ اس طرزِ عمل سے نہ کسی جماعت کی خدمت ہوتی ہے اور نہ ہی عوامی حمایت میں اضافہ، بلکہ نفرت بڑھتی ہے اور عام لوگ سیاست سے مزید متنفر ہوتے جاتے ہیں۔

میڈیا کے کردار پر بھی ازسرِنو غور ناگزیر ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کو ریٹنگ اور سنسنی کے بجائے ذمہ داری اور ساکھ کو اپنا معیار بنانا ہوگا۔ صحافت کا کام سیاست دان بننا نہیں بلکہ سچ سامنے لانا اور سماج میں توازن پیدا کرنا ہے۔ اگر میڈیا آگ پر تیل ڈالنے کے بجائے پانی ڈالے تو بہت سے تنازعات خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹ، بہتان اور نفرت انگیزی کے خلاف شفاف اور مؤثر نظام قائم کرے تاکہ معاشرہ مزید زہریلا نہ ہو۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاست کا مرکز دوبارہ عوام کو بنایا جائے۔ ہر پالیسی، ہر فیصلہ اور ہر موقف کے ساتھ یہ سوال واضح ہونا چاہیے کہ اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ ہوگا۔ مہنگائی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کو اقتدار کی کشمکش سے بالاتر رکھنا ہوگا۔ کارکردگی کو نعرے پر اور نتائج کو بیان بازی پر ترجیح دینا ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو آگے لے جا سکتا ہے۔

نئے سال کا اصل ریزولیوشن یہی ہونا چاہیے کہ پہلے ملک، پھر سیاست؛ پہلے عوام، پھر کوئی شخصیت۔ اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، سیاست ہو مگر تماشا نہ بنے، تنقید ہو مگر جھوٹ کے بغیر، اور اختیار ہو مگر انا کے بغیر۔ اگر ہم اس عزم کو محض تحریر نہیں بلکہ اپنے رویّوں، فیصلوں اور طرزِ فکر کا حصہ بنا لیں تو یہی نیا سال پاکستان کے ایک بہتر، مہذب اور مستحکم مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔