ایک اچھا کمشنراور کمشنری نظام

پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان،سرکاری افسروں کے بڑے شاندار باس ہیں،ہمہ وقت اس تلاش میں رہتے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو وہاں کام کرنے والا اچھا افسر لگایا جائے،ویسے بھی دو بالکل نئے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کامیاب ہونا،ان کا اعتماد حاصل کرنا بھی آسان کام نہیں تھا، کسی کمزور چیف سیکرٹری کے لئے یہ ممکن نہ تھا اس کے لئے زاہد زمان جیسا مثبت طرزِ فکر اور نظر شناس افسر ہونا ضروری تھا،کچھ روز قبل ان کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تو میں نے انہیں کہا کہ اللہ نے آپ کو اس عہدے پر بہت عزت دی ہے، دو سال سے زیادہ عرصہ سے یہاں تعینات ہیں،قبل ازیں بے شمار چیف سیکرٹریوں کے ساتھ کام بھی کیا ہے،آپ کی نظر میں بہترین چیف سیکرٹری یا آپ کا آئیڈیل چیف سیکرٹری کون تھا؟ انہوں نے مجھے کافی ایسے نام گنوائے جو واقعی بہت اچھے چیف سیکرٹری تھے،جو اچھے نہیں تھے ان کا ذکر ہی نہ کیا، مگر ناصر محمود کھوسہ ان کے آئیڈیل چیف سیکرٹری تھے،کھوسہ صاحب نے بھی اپنے دور میں انتہائی اچھے افسروں کا نہ صرف انتخاب کیا،ان سے کام بھی لیا اور انہیں تحفظ بھی دیا،اب زاہد زمان صاحب کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے صوبے میں کلیدی عہدوں پر چن چن کر بہترین افسروں کی نہ صرف تعیناتی کی راہ ہموار کی بلکہ انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے اچھا عرصہ تعیناتی بھی فراہم کیا،اب یہ ان افسروں پر منحصر ہے کہ وہ چیف سیکرٹری کی توقعات پر پورا اتریں،ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب احمد رضا سرور،سول سروس میں آنے سے پہلے بڑے دبنگ صحافی اور نوائے وقت،نیشن میں ہمارے کولیگ تھے، بڑے ہی محنتی اور ویژنری افسر ہیں، چیف سیکرٹری کی،وزیراعلیٰ کے ساتھ مصروفیات کے دوران سول سیکریٹیریٹ میں وہی متحرک اور قائم مقام ہوتے ہیں، اس وقت اگر آپ ٹاپ سے باٹم تک پنجاب میں تعینات افسروں کو شمار کریں تو ان میں اکثر بہترین،اچھے اور کام کرنے والے افسر آپ کو ملیں گے،اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سب اچھا ہے اور دال میں کچھ کالا نہیں،دال میں کالوں کا ذکر پھر کسی وقت، ابھی تو مجھے ایک کمشنر بارے بات کرنی ہے، جس نے صرف ایک ہی مہینے میں کمال کر دیا،یہ کمشنر ملتان عامر کریم خان ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فیصل آباد کی موجودہ کمشنر مریم خان نے بھی ملتان میں بہت مثالی کام کیا،جسے عامر کریم خان نے مزید بہتر بنا دیا ہے،عامر کو ملتان کے حالات کا اِس لئے بھی ادراک اور سمجھ بوجھ ہے کہ وہ ملتان کے ڈپٹی کمشنر بھی رہے ہیں،عامر کریم کے بارے میں ایک دفعہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ انہیں کام آتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر دور کے حاکم کی ضرورت بن جاتے ہیں،اِسی طرح انہوں نے بہت سا عرصہ تعیناتی ایوان وزیراعلیٰ میں گزارا ہے اور اسے پنجاب کے طول و عرض کے معاملات،مسائل،عوامی خواہشات کا علم ہے۔ اس لئے قحط الافسران کے اس دور میں بھی ان جیسا کوئی نہ کوئی فرہاد ہمیں دکھائی دے ہی جاتا ہے جو سنگلاخ چٹانوں سے دودھ کی نہر نکالنے کے لئے تیشہ اٹھائے محنت شاقہ میں مصروف ہے،ایسے ہی سر پھروں میں یہ عامر کریم خان بھی ہے جس نے14جنوری کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا اور صرف30دن کی مدت میں اپنی کمشنری میں آنے والے اضلاع کی جون ہی بدل ڈالی، عامر کریم خان نے اس مختصر مدت میں عوامی مسائل و مشکلات کو دور کرنے کے ساتھ سسٹم کو بھی درست کر کے حکومتی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کی بھر پور کوشش کی،اس کار خیر میں معمول کے کاموں کاکوئی دستاویزی ثبوت بھی نہیں رکھاکہ اس خدمت کو خود نمائی سے تعبیر نہ کیا جا سکے،تاہم ضروری منصوبوں کو دستاویزی شکل بھی دی، مطلب ”کارروائی“ نہیں ڈالی،بلکہ کچھ کر کے دکھایا، ملتان ڈویژن کے چاروں اضلاع کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی،ان کے مسائل کو دستیاب وسائل میں مقامی طور پر حل کیا،عوامی مسائل کے حل کے لئے ”خدمت سنٹر“ قائم کئے،تجاوزات کا خاتمہ کیا،صفائی پر توجہ دی،سڑکوں کی مرمت کرائی،ہسپتالوں کے نظام کو درست کیا،پبلک پارکس کی حالت بہتر بنائی،ڈویژن میں موجود تاریخی ورثہ کی حفاظت یقینی بنائی،یہ ہے خدمت اور انتظامیہ کے کرنے کے کام۔

ماضی قریب میں جب ڈویژن میں کمشنر اور ضلع میں ڈپٹی کمشنر ہی حکومتی نمایندہ ہوتاتھا،ہر حکومتی ادارہ انہیں جوابدہ ہوتا،یہ عہدیدار عوام سے براہِ راست رابطہ میں رہتے،پولیس افسروں کے ذریعے امن و امان دیکھتے،پٹوار اور گرداور سے دیہی معاملات بارے معلومات لیتے، پنچائت سسٹم کی مدد سے عوامی معاملات کی خبر رکھتے، ڈویژن میں قائم ہسپتالوں،تعلیمی اداروں کی حالت زار پر نگاہ رکھتے،مہنگائی،ذخیرہ اندوزی،قلت اجناس کا جائزہ لیتے،حکومت کو عوامی مسائل سے آگاہ کرتے اور ان کے حل میں دلچسپی لیتے،گلیوں،نالیوں،سڑکوں،پارکس کی مرمت کے کاموں کی نگرانی کرتے تھے مگر سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی تقسیم نے اس آزمودہ نظام کی دھجیاں اُڑا دیں،نگرانی نہ ہونے سے کرپشن بھی عروج پر پہنچی،سرکاری ملازمین بھی مادر پدر آزاد ہو چکے ہیں ان کو احتساب اور جوابدہی کا کوئی خوف نہیں،ہر جائز کام کے لئے عوام سے رشوت بٹوری جاتی ہے نہ دینے پر رکاوٹ کھڑی کی جاتی ہے۔قبل ازیں عوام کے پاس ڈپٹی کمشنر کا آفس اُمید ہوتا تھا،جہاں شکایت ہوتی ڈپٹی کمشنر آفس سے رابطہ کر کے عام شہری مسئلہ حل کرا لیتا تھا اب اس کے پاس آخری راستہ عدالت کا بچا ہے اور عدالتوں میں مقدمات کی کیا حالت ہوتی اور فیصلہ میں کتنا عرصہ درکار ہوتا ہے یہ کوئی ڈھکا چھپا خفیہ راز نہیں۔اب بھی اگر کمشنری نظام کو آئین کی پوری روح کیساتھ نافذ کیا جائے تو حکومتی اداروں پر کام کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے اور عوامی مسائل کو نچلی سطح پر بغیر کسی تاخیر کے حل کیا جا سکتا ہے،جس سے عوام کا حکومت اور ریاست پر اعتماد بحال ہو گا اور مسائل میں تیزی سے کمی آئے گی۔

انتظامی معاملات کو انتظامی مشینری کے ذریعے حل کرنا دانشمندی ہے،عملدرآمد کے دوران سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کے بعد درستی کا عمل بھی دراصل نظام اور ملک کی بڑی خدمت ہے،نشاندہی کی ذمہ داری بھی ان سرکاری افسروں کو سونپی جانا سود مند ہو گی جو براہ راست حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں مصروف ہیں،اس سارے نظام میں غیر متعلقہ خصوصی طور پر سیاسی مداخلت کے دروازے مستقل طور پر بند کرنا ہوں گے،سیاسی لوگوں کی اپنی ذمہ داریاں ہیں،مگر یہ بات اب ایک انمٹ حقیقت ہے کہ سیاسی اور غیر ضروری مداخلت،قواعد و ضوابط کے بجائے زبانی اور اپنی خواہش پر مبنی احکامات نے سسٹم کا بیڑہ غرق کر دیا ہے،اگر چہ آئینی طور پر ہر عہدیدار کی حدود قیود مقرر ہیں اور ہر شخص اپنی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینے کا پابند ہے،مگر ہمارا باوا آدم نرالا ہے ہم اپنے فرض کی ادائیگی سے کنی کتراتے اور دوسروں کے سر پر ذمہ داری کا بوجھ ڈال کر ان کی راہ بھی کھوٹی کرتے ہیں،اس کے باوجود عامر کریم جیسے افسر نہ صرف غنیمت،بلکہ لائق تحسین ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں