باندہ:بچوں کی فحش فلمیں فروخت کرنے والے جوڑے کو سزائے موت

سابق جونیئر انجینئر اور اہلیہ نے 10 سال تک 34 بچوں کو ہوس کا نشانہ بنایا، 2 لاکھ ویڈیوز تیار کیں: بھارتی عدالت

باندہ ( ایجنسیاں) اتر پردیش کی خصوصی پاکسو (POCSO) عدالت نے بچوں کے جنسی استحصال اور ان کی نازیبا ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے کے سنگین جرم میں ملوث معطل جونیئر انجینئر رام بھون اور اس کی اہلیہ درگاوتی کو سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالت نے مجرم جوڑے پر 10، 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جو متاثرہ بچوں میں تقسیم کیا جائیگا۔

ڈارک ویب کے ذریعے 47 ممالک میں گھناؤنا کاروبار سرکاری وکیل سوربھ کمار سنگھ کے مطابق سی بی آئی (CBI) کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مجرم رام بھون گزشتہ 10 سال سے معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا تھا۔ جوڑے نے چترکوٹ میں کرائے کے مکان میں رہائش کے دوران 3 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 34 بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور ان کی 2 لاکھ سے زائد غیر قانونی ویڈیوز بنائیں۔ یہ ویڈیوز ڈارک ویب کے ذریعے دنیا کے 47 ممالک میں فروخت کی جاتی تھیں۔

گھر سے برآمد نقدی بھی متاثرہ بچوں کو ملے گی عدالت نے حکم دیا ہے کہ مجرموں کے گھر سے برآمد ہونے والی 8 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی اور جرمانے کی رقم مجموعی طور پر ان بچوں میں تقسیم کی جائے گی جن کی زندگی اس سفاک جوڑے نے برباد کی۔ ٹرائل کے دوران 34 متاثرہ بچوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جنہوں نے اس لرزہ خیز کہانی کی تصدیق کی۔

سی بی آئی کی کارروائی واضح رہے کہ سی بی آئی نے 31 اکتوبر 2020 کو دہلی میں اس جوڑے کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس کے بعد سے وہ زیر حراست تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل جرائم اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے یہ بھارت کی تاریخ کا ایک اہم ترین فیصلہ ہے جو مستقبل میں ایسے گھناؤنے جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا۔