بجٹ، احتجاج، عوام اور خودپسندی!

بات تو اصولی طور پر بجٹ کے حوالے سے کرنا چاہیے لیکن قلم اس طرف رواں نہیں ہو پا رہا کہ بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہوتا ہے اور اسے سمجھنے اور پرکھنے کے لئے مغز اور وقت دونوں درکار ہوتے ہیں کہ متعدد دستاویزات (بجٹ والی) کی چھان بین کرنا ہوتی ہے،اس لئے آسان کام یہ ہوتا ہے کہ وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر اور فنانس بل کو دیکھ کر ہی رائے قائم کرلی جائے۔جہاں تک بجٹ تقریر کا تعلق ہے تو یہ ہمیشہ کی طرح مشکل حالات سے گزر کر ترقی کی راہ پرگامزن ہونے کی نوید ہوتی ہے۔ البتہ فنانس بل پر توجہ دی جائے تو کم از کم یہ علم ہو جاتا ہے کہ اگلے پورے ایک سال میں کیا گزرے گی اور یہ فنانس بل سے نظر ہی نہیں آ گیا بلکہ خود حکومت نے ہی بتا دیا ہے کہ نئے مالی سال میں مہنگائی 5فیصد سے7فیصد تک بڑھے گی،بجٹ تقریر میں یہ بتا دیا گیا کہ بجلی کے نرخ کم کئے گئے لیکن یہ اعلان نہیں ہوا کہ مزید کتنی کمی ہوئی یا ہو رہی ہے۔ فکس آمدن یا تنخواہ دار طبقے کی قربانیوں کی تعریف تو وزیراعظم نے خود کردی، تاہم اس کا صلہ تنخواہوں میں دس فیصد اور بوڑھوں کی پنشن میں سات فیصد اضافے کی خوشخبری دیا گیا، تعجب اس بات پر ہوا کہ اس بار اشرافیہ سے قربانی کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس طبقے کے لئے سپرٹیکس میں رعائت دی گئی ہے۔ قارئین کو یاد ہے کہ معیشت کی بحالی کے لئے اس اشرافیہ کے سپرٹیکس میں معمولی سا اضافہ کیا گیا تو ان کی طرف سے انکار کر دیا گیا تھااور عدالت سے رجوع کرکے اضافے کو منظور کرنے سے قطعی انکار کر دیا گیا تھا، بہرحال بجٹ سب کے سامنے ہے اور اس کے اطلاق سے عوام پر بالواسطہ بوجھ میں اور اضافہ ہوگا کہ فنانس بل میں پٹرولیم مصنوعات کی لیوی میں ڈھائی فیصد کا اضافہ کرکے یہ خوشخبری بھی دی گئی ہے کہ اسے پانچ فیصد تک بڑھایا جائے گا، یہ عمل پہلے ہی کئی بار کرکے پٹرولیم مصنوعات کے عالمی نرخوں میں کمی کا فائدہ صارفین کی بجائے خود حاصل کیا گیا اور اب مزید دودھ دھویا جا رہا ہے،اسی صورت حال پر ایک بزرگ نے تبصرہ کیا،

”ہم پہ یہ احساں جو نہ کرتے تو احسان ہوتا“

قارئین کرام! بجٹ پر بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن حالات سے آنکھ بھی نہیں چرائی جا سکتی۔اس پر طرہ یہ کہ اپوزیشن نے دل دکھا دیا، بجٹ کی کتابوں میں سرکھپائی کی بجائے ان حضرات نے ان دستاویزات سے ڈیسک بجا کر شور اور ہنگامہ کرنے کی روایت برقرار رکھی اور بجٹ تقریر پھاڑ کر اسے ہوا میں اچھال دیا، یوں ان کی طرف سے ”سنجیدگی“ کا مظاہرہ کر دیا گیا،مجھے ان کے رویے سے سخت مایوسی ہوئی کہ رپورٹنگ کے دور میں پارلیمانی رپورٹنگ کے دوران کئی صوبائی اور وفاقی بجٹ بھی نبھائے لیکن ایساکبھی نہیں دیکھا، احتجاج بھی ہوئے، منی اپوزیشن بھی دیکھیں، لیکن ایوان میں اپوزیشن کی کارکردگی ہمیشہ بہتر نظر آئی اور حزبِ اقتدار کو جواب دہ ہونا پڑا، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 2018ء میں عمران خان کی تقریر کے دوران اس وقت کی اپوزیشن کے عام احتجاج اور عمران خان کے برملا غصے کا اظہار کرنے کے بعد سے اب تک تحریک انصاف کا بدلہ پورا نہیں ہوا، حالیہ حکمران اتحاد کے خلاف مسلسل احتجاج اور پارلیمان میں عوامی مسائل کا ذکر کرکے حکومت کو کچھ کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے ان سب کو اپنی اپنی فکر ہے اور اس سب پر حاوی رہائی، رہائی والی دہائی ہے،حالانکہ حال ہی میں ان حضرات کی طرف سے عدلیہ سے ریلیف کی بات کی گئی، جہاں سے تحریک انصاف کو ملنے والی ریلیف بھی ایک ریکارڈ ہے،جس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ لیڈر ضمانتوں پر اور کارکن جیلوں میں ہیں اور ان رہنماؤں کی ڈیوٹی رہائی کی پکار ہے۔

میں نے اپنے عدالتی رپورٹنگ کے تجربے کی بنیاد پر ایک بار یہ عرض کیا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت ماہرین آئین و قانون کے پاس ہے اور ان میں 90فیصدسے بھی زیادہ بیرسٹر ہیں اور یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ”ڈی جیورو“ اور ”ڈی فیکٹو“ میں کیا فرق ہے، اگر یہ حضرات موجودہ حکومت کو آئینی اور قانونی حکومت نہیں مانتے تو اس وقت عملی حیثیت کو تو تسلیم کئے ہوئے ہیں، پارلیمان میں آتے،معاوضہ اور مراعات بھی لیتے ہیں، مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ بھی قبول کرلیا، لیکن پارلیمانی کارروائی میں حصہ نہیں لیتے اور شور شرابا کر کے بائیکاٹ کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوانین اور قراردادیں یکطرفہ طور پر منظور ہو جاتی ہیں،یہ حضرات ایوان سے باہر آکر میڈیا کے سامنے بڑھکیں مارتے اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اگر میڈیا ان کی یہ کوریج بند کردے تو پھر یہ ”بنیرے تے بہ کے کاں کاں کرن گے“ معذرت کہ عوامی مسائل کی وجہ سے یہ تنقیدی پہلو اختیار کرناپڑا۔ میری درخواست اور خواہش ہے کہ جس قدر بھی جلد یہ حضرات اپنا رویہ پارلیمانی بنا لیں اتنا ہی ان کے اور عوام کے حق میں بہتر ہوگا۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، یہ بھی کریں تاہم قواعد و ضوابط کو برقرار رکھیں اور سلطان راہی کو بھی روکیں کہ ڈبل ایجنٹ ہمیشہ نقصان ہی میں رہتے ہیں۔

قارئین! سوچا تو بہت کچھ تھا، لیکن بجٹ نے مجبورکر دیا،اب حکمرانوں کی توجہ اس طرف دلاتا ہوں کہ خود ان کی طرف سے سولر انرجی کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، سولر کا کاروباربھی پھیل چکا، اب نرخ اس حد تک آ گئے تھے کہ سفید پوش طبقے نے بھی حوصلہ کرلیا تھا، فنانس بل میں 18فیصد درآمدی ڈیوٹی سے یہ نظام قریباً 30فیصد مہنگا ہو جائے گا جس کا مطلب سفیدپوش طبقے کی حوصلہ شکنی ہے کچھ تو اس خوددار طبقے کی معاشرے میں عزت رہنے دیں، یوں پہلے بھی یہ سب جو عوام کہلاتے ہیں، بالواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں کہ سانس لینے پر بھی جیب ہی سے کچھ دینا پڑتا ہے۔اس لئے اگر آپ ٹیکس نظام کو درست ہی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر بالواسطہ ٹیکس ختم کریں، مافیاز کی لوٹ مار پر توجہ دیں، عوام پریشان ہیں، باتوں سے تسلی نہیں ہوتی، عمل سے ثابت کریں۔

بجٹ پر اور بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے تاہم بات مکمل کرنے سے پہلے قارئین سمیت سب کی توجہ خودپرستی بلکہ خودترسی کی طرف دلانا چاہتا ہوں اور میڈیا کی بھی توجہ ضروری ہے ہر حج کے موقع پر روایت ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے مختلف ممالک کے معزز حجاج کرام کے اعزاز میں ظہرانے کا سلسلہ ہوتا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے اعزاز میں خصوصی ظہرانہ ہوا، ولی عہد اور وزیراعظم کے درمیان تبادلہ خیال ہوا، وزیراعظم نے ولی عہد محمد بن سلمان کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا، انہوں نے قبول کیا، اس کے بعد جو سلسلہ جاری تھا اس کے ایک روز گورنر سندھ محترم ٹیسوری نے شرکت کی اور ولی عہد سے ملاقات کے وقت تہنیت بھی کی۔ گورنر ہاؤس کراچی سے جو پریس ریلیز جاری ہوئی اس میں اس ملاقات کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ کامران ٹیسوری نے ولی عہد کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ بہتر ہوتا کہ میڈیا انتظامیہ والے دعوت والا حصہ حذف کر دیتے کہ محترم ٹیسوری وفا ق کے نامزد کردہ گورنر ہیں، خود کسی سٹیٹ (ریاست) کے سربراہ نہیں یا پھر ان کے سر میں بطور ایم کیو ایم کے رکن خود مختاری کا کیڑا کلبلا رہا ہے۔ ان کے مقابلے میں سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کی ظہرانے میں شرکت اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی خبر اور تصویر ریلیز ہوئی، اس میں ایسا کوئی ذکر نہیں تھا، خود پسندی سے گریز ممکن ہے یا نہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں