بدتمیزی، بد اخلاقی اور ہراسانی کو ‘اسلامی ٹچ’ دینے کی شرمناک روایت

مسلمانوں کی چودہ صدیوں پر محیط تاریخ اپنے اندر علم، تہذیب، عدل اور برداشت کی بے شمار مثالیں سموئے ہوئے ہے۔ اس تاریخ کا حوالہ دینا تو اسلامی اقدار سے متعلق کسی مثبت عمل کی صورت میں ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے اسے اکثر اس وقت پیش کیا جاتا ہے جب کوئی شخص یا گروہ مذہب کو اپنے ذاتی رویوں اور کمزوریوں کے جواز کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹورنٹو میں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی نوعیت کا تھا، جہاں شاہد بھٹی نامی ایک شخص نے معروف صحافی شاہزیب خانزادہ کے ساتھ، ان کی اہلیہ کی موجودگی میں، انتہائی بدتہذیبی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ افسوسناک امر یہ کہ یہ معاملہ صرف اسی حرکت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے بعد جاری ہونے والے ویڈیو بیان میں اس رویے کو “غیرتِ ایمانی” اور “دینی جذبات” سے رنگنے کی کوشش کی گئی۔

عام انسانی اور اخلاقی توقع یہی ہوتی ہے کہ غلطی کرنے والا شخص پشیمانی اختیار کرے، خود احتسابی کرے اور اپنی حرکت پر نادم ہو۔ لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی۔ بجائے اس کے کہ یہ شخص اپنی حرکت پر شرم محسوس کرتا، وہ الٹا دفاعی انداز میں اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ دکھ اس بات کا ہے کہ اس دفاع کے لیے مذہبی حوالوں اور جذبات کا استعمال کیا گیا، گویا بدتہذیبی کا یہ عمل کسی دینی فریضے کی ادائیگی ہو۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس مخصوص طبقے یا کلٹ کے پیروکار اپنی حرکات کے جواز کے طور پر مذہبی دلیل گھڑنے پر کیوں مجبور نظر آتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ شاید وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں شخصیت پرستی، عقل و منطق کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ مرشد یا گروہی شناخت سے وابستگی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز معدوم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حلقے میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں ملتے ہیں جن کے لیے بدتہذیبی، الزام تراشی، گالی گلوچ اور ہراسانی معمول کی سرگرمی بن چکی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رویے ایک “نارمل” ثقافتی رویے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، اور پیروکار خود کو اخلاقی دائرے سے باہر لے جا کر بھی خود کو “حق پر” سمجھتے ہیں۔

یقیناً ایسے عناصر کو اکثر نظر انداز کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ ان کی گفتگو میں نہ دلیل ہوتی ہے نہ اخلاق اور نہ ہی وہ کسی مثبت مباحثے یا اصلاح کی توقع چھوڑتے ہیں۔ البتہ اس واقعے میں ایک پہلو ایسا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ہے مذہب کا غلط استعمال۔ جب کوئی شخص اپنے غیر اخلاقی فعل کو “اسلامی ٹچ” دینے کی کوشش کرے تو وہاں سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ اسلام نے ایسے رویوں کے بارے میں کیا تعلیم دی ہے؟

اگر یہ شخص واقعی اسلام کا درد اپنے دل میں رکھتا ہے، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے اپنے مرشد یا جماعتی سربراہ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیلیفورنیا کی عدالت نے جس فعل پر ان کے خلاف فیصلہ دیا، اسلام اس جیسے افعال کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ تاریخِ اسلام میں ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا جو اپنی ذاتی کمزوریوں کو مذہبی جواز کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتے تھے؟

اسلام کی چودہ صدیاں گواہ ہیں کہ کردار اور اخلاق کو دین میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اخلاقِ حسنہ کو ایمان کا حصہ قرار دیا، صحابہ کرامؓ نے کردار کو معیارِ فضیلت بنایا، اور فقہا نے معاشرتی امن، شرافت اور احترامِ عامہ کو اصولی درجہ دیا۔ اسلام میں ہراسانی، بدتمیزی، بداخلاقی، گالی گلوچ اور عزتِ نفس پامال کرنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ ان رویوں کے مرتکب افراد کو ہمیشہ تنبیہ کی گئی، بعض مواقع پر سزا دی گئی اور ایسے کرداروں پر اعتماد نہیں کیا گیا۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہ مرشد یا قائد، جن کے نام پر یہ لوگ مذہبی جذبات بھڑکاتے ہیں، خود کن معاملات میں ملوث رہے ہیں؟ ان کی حرکات کی فہرست طویل ہے، جس پر ان کے قانونی معاملات اور عدالتی فیصلے گواہ ہیں۔ اگر شاہد بھٹی یا ان جیسے دیگر پیروکار واقعی اسلامی نقطۂ نظر سے رہنمائی چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اپنے رہنماؤں کے ماضی، کردار اور عدالتی حقائق کو دیکھنا چاہیے۔ مگر شخصیت پرستی کا المیہ یہی ہے کہ انہی حقائق کو نظرانداز کر دینا “اخلاص” سمجھا جاتا ہے۔

اسلام کو کسی سیاسی یا گروہی لیڈر کے دفاع کیلئےاستعمال کرنا نہ صرف فکری بددیانتی ہے بلکہ مذہب کے وقار کے لیے نقصان دہ بھی ہے۔ جب کوئی شخص بدتہذیبی کرے اور پھر اسے مذہبی جذبات کا لبادہ پہنا کر درست ثابت کرنے کی کوشش کرے، تو یہ صرف ایک انفرادی غلطی نہیں رہتی بلکہ ایک خطرناک رجحان کی علامت ہوتی ہے۔ ایسا رجحان مذہب کو نفرت، دشمنی، تشدد اور بدتہذیبی کا ذریعہ بنا دیتا ہے، جو اسلامی تہذیب کی روح کے سراسر منافی ہے۔

آخر میں، یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ ایسے رویے نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ معاشرتی اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات دونوں کے خلاف ہیں۔ جو لوگ گالی گلوچ، بدتمیزی، خوف پھیلانے یا دوسروں کو ہراساں کرنے کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں، وہ معاشرے کے امن اور اسلامی اخلاق کے دشمن ہیں۔ صحت مند معاشرے دلیل، احترام اور کردار کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں، نہ کہ شور، دھمکی اور بدتہذیبی پر۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مذہب کو کب اور کیسے استعمال کیا جانا چاہیے؟ کیا ہم اسے اپنی ذاتی کمزوریوں کو چھپانے کا ہتھیار بنائیں گے، یا اخلاق و کردار کو بہتر بنانے کا ذریعہ؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہمیں بحیثیت قوم اپنے رویوں میں تلاش کرنا ہوگا۔