برامپٹن: خودکار اسپیڈ انفورسمنٹ پروگرام سے اوسط رفتار میں 9 کلومیٹر کمی

برامپٹن(نمائندہ خصوصی)برامپٹن نے اپنے خودکار اسپیڈ انفورسمنٹ (ASE) پروگرام کے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق پروگرام نے رفتار میں نمایاں کمی، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں اضافہ اور محفوظ سڑکوں کو یقینی بنایا ہے۔

تمام ASE کیمرا سائٹس پر اوسط رفتار میں 9 کلومیٹر فی گھنٹہ کمی۔
5 سائٹس پر ڈرائیوروں نے اوسطاً 20 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کم کی، 62 سے 39 کلومیٹر فی گھنٹہ تک۔
رفتار کی حد کی پابندی میں اوسطاً 38 فیصد اضافہ، 13 سائٹس پر یہ شرح 70 فیصد سے زائد رہی۔
مین اسٹریٹ ساؤتھ پر رفتار کی حد کی تعمیل 96 فیصد تک جا پہنچی۔
86 فیصد شہری کمیونٹی سیفٹی زونز میں ASE کے استعمال کی حمایت کرتے ہیں۔

برامپٹن کا ASE پروسیسنگ سینٹر اب شہر برینٹ فورڈ کو بھی خدمات فراہم کرے گا۔ رواں سال کے اختتام تک برینٹ فورڈ کے ASE ٹکٹس برامپٹن کے پروسیسنگ سینٹر میں پروسیس کیے جائیں گے۔ اس پیش رفت کو دونوں شہروں کے درمیان تعاون اور محفوظ سڑکوں کی فراہمی کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ASE پروگرام 2020ء میں شروع کیا گیا تھا تاکہ ہائی رسک علاقوں میں اوور اسپیڈنگ کو روکا جا سکے اور کمزور روڈ یوزرز کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ستمبر 2024ء میں بریمپٹن نے اپنا پروسیسنگ سینٹر قائم کیا تاکہ عمل درآمد کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ اس وقت شہر میں تقریباً 200 کمیونٹی سیفٹی زونز اور 185 فعال کیمرہ سائٹس موجود ہیں۔

پیٹرک براؤن، میئر برامپٹن کاکہناتھا ’’تازہ ڈیٹا واضح کرتا ہے کہ ASE پروگرام ڈرائیوروں کی رفتار کم کرنے اور سڑکوں کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ ہمارا مقصد ڈرائیوروں کے رویے کو تبدیل کرنا اور حادثات کو روکنا ہے تاکہ ہر رہائشی دن رات کسی بھی وقت محفوظ محسوس کرے۔‘‘

روینا سانتوس، ریجنل کونسلر (وارڈز 1 اور 5)کے مطابق ’’پروگرام کے آغاز سے ہم نے رفتار میں نمایاں کمی اور رفتار کی حد پر عمل درآمد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے، خاص طور پر اسکولوں، پارکوں اور ہسپتالوں کے قریب۔ ہر کلومیٹر فی گھنٹہ اضافی رفتار سانحے کے خطرے کو بڑھاتی ہے، اور ASE ایک مؤثر حل ہے۔‘‘

کےون ڈیوس، میئر برینٹ فورڈ نے بتایا ’’برامپٹن کے ASE ماڈل کو اپنانا اسکول زونز اور محلوں میں مزید حفاظت فراہم کرے گا۔ یہ تعاون ہمارے وژن زیرو روڈ سیفٹی پلان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘‘

اپنا تبصرہ لکھیں