برامپٹن( نمائندہ خصوصی)کینیڈا کی خواتین ہاکی ٹیم کی نامور اولمپک گولڈ میڈلسٹ بلیئر ٹرنبل اور ری ناتا فاسٹ اس سال میئر پیٹرک براؤن کی میزبانی میں ہونے والی ہاکی نائٹ ان برامپٹن میں حصہ لیں گی جو 20 اگست 2025 کو سی اے اے سینٹر برامپٹن میں منعقد ہو گی۔
برامپٹن میں 20 اگست کو ہونے والی “ہاکی نائٹ ان برامپٹن” میں پہلی بار اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور ٹورنٹو سیپٹرز کی کپتان بلیئر ٹرنبل شریک ہوں گی۔ ان کے ہمراہ کینیڈین ویمنز ہاکی ٹیم کی مستقل رکن اور اولمپک گولڈ و سلور میڈلسٹ ری ناتا فاسٹ بھی اس ایونٹ کا حصہ بنیں گی، جو پچھلے سال بھی اس تقریب میں شریک تھیں۔
دونوں کھلاڑی پیشہ ور خواتین ہاکی لیگ (PWHL) کی سرکردہ اراکین ہیں اور کینیڈا کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف عالمی سطح پر سونے کے تمغے جیت چکی ہیں بلکہ وہ خواتین کے کھیل کو فروغ دینے میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایونٹ میں ایک بار پھر راڈ بلیک بطور ریفری اور میزبان شرکت کریں گے۔ وہ کینیڈین کھیلوں کے حلقوں میں ایک جانی پہچانی آواز ہیں اور اپنی بھرپور توانائی، دلچسپ کہانیوں اور کھیل کیلئے محبت کی وجہ سے شائقین میں بے حد مقبول ہیں۔
تقریب بدھ 20 اگست 2025کو CAA Centre، 7575 Kennedy Rd. S., Brampton, ONپر ہوگی. دروازے کھلنے کا وقت شام 6 بجےمقررکیا گیا ہے جبکہ پک ڈراپ شام 7 بجے ہوگا.ٹکٹ(ہاکی نائٹ برامپٹن ڈاٹ سی اے سے دستیاب)قیمت 25 کینیڈین ڈالر سے شروع ہوگی.
گزشتہ سال اس خیراتی ایونٹ نے 14 ملین ڈالر جمع کیے جو کینیڈا کی تاریخ کا سب سے بڑا چیریٹی ہاکی میچ ثابت ہوا۔برامپٹن نے ایونٹ کے “چینج میکر” اسپانسرز کا شکریہ ادا کیا جن میں شامل ہیں: ARGO TFP Brampton، Capital Power، DG Group، Great Gulf، Paradise Developments، اور Regency Homes۔
کھلاڑیوں میں بلیئر ٹرنبل: دو مرتبہ کی اولمپک میڈلسٹ بلیئر ٹرنبل نے 2022 کے بیجنگ اولمپکس اور 2021 و 2022 کی IIHF ویمنز ورلڈ چیمپئن شپ میں سونے کے تمغے جیتے۔ وہ ٹورنٹو سیپٹرز کی کپتان ہیں اور اپنی رفتار، قیادت اور فتح کا تجربہ ہر کھیل میں لاتی ہیں۔
ری ناتا فاسٹ :اولمپک گولڈ (2022) اور سلور (2018) میڈلسٹ ری ناتا فاسٹ کینیڈین ٹیم کی گزشتہ دہائی کی مستقل رکن ہیں۔ وہ دفاعی مہارت، تیزرفتاری اور قائدانہ صلاحیتوں کیلئے معروف ہیں اور فی الوقت بلیئر ٹرنبل کے ساتھ ٹورنٹو سیپٹرز کی ٹیم میں کھیل رہی ہیں۔
میئر پیٹرک براؤن کا کہنا تھا”بلیئر ٹرنبل اور ری ناتا فاسٹ صرف اولمپک چیمپئن ہی نہیں بلکہ خواتین کی ہاکی کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی موجودگی نئی نسل کیلئےتحریک ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ کھیل کس طرح ہمارے معاشروں میں مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔”

