برامپٹن میں آصف جاوید کی روایتی حلیم پارٹی، کمیونٹی کی بھرپور شرکت

“آصف جاوید کی حلیم پارٹی — ذائقے کے بہانے دلوں کو جوڑنے کی روایت”

برامپٹن (اشرف خان لودھی سے) —کمیونٹی کی ہر دلعزیز شخصیت آصف جاوید کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی روایتی حلیم پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں کمیونٹی کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر تقریب کی رونقیں اس وقت دوبالا ہو گئیں جب صدر خزانہ بورڈ شفقت علی، میئر برامپٹن پیٹرک براؤن اور ایم پی پی شریف صباوی بھی بطور مہمان شریک ہوئے۔

کمیونٹی کی معروف شخصیت آصف جاوید کی جانب سے منعقدہ سالانہ حلیم پارٹی میں شرکت کے موقع پر کینیڈین پارلیمنٹ کے رکن اور صدر خزانہ بورڈ شفقت علی نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی بننا اور کینیڈا کی تاریخ میں پاکستانی نژاد پہلے فرد کے طور پر وفاقی کابینہ کا حصہ بننا اُن کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا”یہ استحقاق صرف میرا نہیں بلکہ ہماری پوری کمیونٹی کا ہے۔ میں وزیراعظم مارک کارنی کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے دن رات محنت کرنے کیلئےپُرعزم ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس صلاحیت کو دیکھ کر یہ اہم ذمہ داری دی مگر میرا مقصد اپنی ذمے داریوں کو پوری ایمانداری کے ساتھ نبھانا ہے۔”

شفقت علی نے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی مضبوط معیشت کی تعمیر، سرحدوں کی حفاظت اور مسلح افواج میں سرمایہ کاری موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں تاکہ “ہمارے مرد و خواتین کو وہ تمام اوزار فراہم کیے جائیں جو ہمارے ملک کے دفاع اور عوام کی حفاظت کیلئےضروری ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور وزیراعظم کے دفتر نے اس سلسلے میں سی ای او کا تقرر بھی کیا ہے۔تقریب کے اختتام پر شفقت علی نے میزبان آصف جاوید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا”آصف بھائی، آپ کا بہت شکریہ۔ میں عاجز اور معزز محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں اپنے گھر آیا ہوں، اور یہ بات بالکل سچ ہے۔”

تقریب میں آنے والے مہمانوں نے آصف جاوید اور ان کے اہلِ خانہ کے ہاتھوں تیار کردہ مزیدار حلیم کو بے حد سراہا۔ آصف جاوید پوری رات حلیم کی تیاری میں مصروف رہے جبکہ شفقت علی اور میئر پیٹرک براؤن نے بھی حلیم کی تیاری میں عملی طور پر حصہ ڈال کر محفل کا حصہ بننے کا منفرد انداز اپنایا۔

شرکا نے اس موقع پر محبت بھرے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا”تصویرِ دعوت میں جو رنگ آپ کا تھا، ہر نوالے میں محسوس ہوا، نور کا جھلکا تھا۔ آپ آئے تو دعوت میں جان آگئی، مہکتی ہواؤں کا پیغام آگیا۔”

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف جاوید نے کہا”میرے والدین جب انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو حلیم دعوت کی یہ روایت شروع کی گئی، اور پھر جب ہم پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوئے تو یہ روایت یہاں بھی ساتھ لے آئے۔ مجھے لوگوں سے ملنا جلنا بہت پسند ہے، اسی چاہ میں میں حلیم کی دعوت کا اہتمام کرتا ہوں اور اپنے ہاتھوں سے حلیم تیار کرتا ہوں۔”

تقریب میں شریک کمیونٹی اراکین کا کہنا تھا کہ آصف جاوید کی یہ روایت نہ صرف ذائقے کی محفل ہے بلکہ کمیونٹی کو جوڑنے اور محبتیں بانٹنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں