برطانوی حکومت شمیمہ بیگم کی شہریت ختم کرنے کے فیصلے کا دفاع کریگی

لندن ( بی بی سی، رائٹرز، ڈان نیوز)برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت ختم کرنے کے فیصلے کا مضبوطی سے دفاع کرے گی۔

شمیمہ بیگم نے 15 برس کی عمر میں برطانیہ چھوڑ کر داعش کے زیر اثر علاقے میں جا کر جنگجو سے شادی کی تھی۔ ان کے کیس کا یورپی کورٹ آف ہیومن رائٹس (ECHR) کے ججز کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، برطانوی حکومت عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھنے پر قائم رہے گی اور ملکی سلامتی کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی۔

حکومتی موقف کے مطابق، شمیمہ بیگم کو ملکی سلامتی کیلئےخطرہ قرار دے کر شہریت ختم کی گئی تھی۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ نہیں دیکھا کہ شمیمہ بیگم گرومنگ اور اسمگلنگ کی شکار ہوئی تھیں۔

ECHR کے ججز نے ہوم آفس سے پوچھا ہے کہ آیا وزراء نے گرومنگ اور اسمگلنگ کے معاملات پر غور کیا تھا اور برطانیہ کی اس حوالے سے کیا ذمہ داریاں ہیں۔ شمیمہ بیگم کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دسمبر 2024 میں ECHR سے رجوع کیا تھا۔

شمیمہ بیگم کی عمر اب 26 سال ہے، ان کے داعش کے جنگجو سے شادی کے نتیجے میں تین بچے پیدا ہوئے تھے جو بعد میں انتقال کر گئے۔اپوزیشن جماعت کنزرویٹیو پارٹی نے موقف اختیار کیا ہے کہ شمیمہ بیگم کو کسی بھی حالت میں برطانیہ واپس آنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے کہا کہ شمیمہ بیگم نے خود پرتشدد اسلام پسندوں کا انتخاب کیا تھا۔