برطانیہ نے 20 برس گوانتانامو میں قید ابو زبیدہ کو زرتلافی کی ادائیگی کی

لندن (ایجنسیاں)برطانوی حکومت نے گوانتانامو بے جیل میں 20 برس قید رہنے والے ابو زبیدہ کو زرتلافی کے طور پر بھاری رقم ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابو زبیدہ پر القاعدہ کے سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم امریکی حکومت اب ان دعوؤں سے دستبردار ہو چکی ہے۔

ابو زبیدہ کو بغیر جرم ثابت ہوئے 20 برس تک قید رکھا گیا، اور دوران تفتیش سی آئی اے نے انہیں تشدد، واٹر بورڈنگ، نیند سے محروم رکھنے اور تابوت نما ڈبے میں قید کرنے جیسے سخت مظالم کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔

ابو زبیدہ کے وکیل پروفیسر ہیلین ڈفی نے کہا کہ برطانوی حکومت کا یہ معاوضہ اہم اور غیر معمولی ہے، لیکن ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور دیگر حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابو زبیدہ پر تشدد اور غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کی رہائی یقینی بنائیں۔

برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ڈومینک گریو نے کہا کہ ابو زبیدہ کو زر تلافی ملنا غیر معمولی ہے، لیکن جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ بہت غلط ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ابو زبیدہ وہ پہلے قیدی تھے جنہیں سی آئی اے کے بلیک سائٹس میں منتقل کیا گیا، جہاں امریکی عدالتی نظام لاگو نہیں ہوتا۔

ابو زبیدہ نے اپنے وکیل کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بھی ان سے تفتیش کے دوران سخت سوالات کیے گئے، جس سے ان پر مزید تشدد ہوا۔