ریو ڈی جنیرو (نمائندہ خصوصی)برازیل میں جاری برکس سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں یکطرفہ درآمدی محصولات میں اضافے پر “سخت تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اعلامیے میں جون کے وسط سے ایران پر کیے گئے امریکا‑اسرائیل مشترکہ فضائی حملوں کو بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، تاہم کسی ملک یا رہنما کا نام نہیں لیا گیا۔
برکس ارکان نے کہا کہ “غیر جواز یکطرفہ تجارتی پابندیاں اور محصولات عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے اصولوں سے متصادم ہیں اور عالمی سپلائی چین کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس سے چند گھنٹے قبل ٹروتھ سوشل پر انتباہ دیا کہ جو ممالک “برکس کی امریکی مخالف پالیسیوں” سے ہم آہنگ ہوں گے اُن پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
ایران پر حملوں کی مذمت: اعلامیے نے 13 جون کے بعد ایران میں جوہری اور شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو “اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا اور فوری طور پر تحمل کی اپیل کی۔
اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ پہلی مرتبہ شریک نہ ہوئے؛ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جب کہ سعودی وزیر خارجہ ذاتی وجوہات کی بنا پر نہیں آئے۔
رہنماؤں نے تجارتی مصنوعی ذہانت پر امیر ممالک کی اجارہ داری روکنے اور شفاف عالمی فریم ورک مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
برکس کا تازہ اعلامیہ بین الاقوامی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر رکن ممالک کے یکجا مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ سفارتی نزاکتوں کے سبب امریکا اور اسرائیل کا براہِ راست ذکر گریز کیا گیا۔ ٹرمپ کے مجوزہ اضافی محصولات کے اعلان نے عالمی منڈیوں میں مزید بے یقینی پیدا کر دی ہے، جب کہ ایران پر حالیہ حملوں کی مذمت نے خطّے میں نئی سفارتی گرما گرمی کو جنم دیا ہے۔

