‎بسنت ، دہشت گردی اور آئی جی پنجاب پولیس

ایک طویل عرصے بعد لاہور میں بسنت کا انعقاد محض ایک تہوار کی واپسی نہیں ،خوشیوں بھری  زندگی کے  رنگوں کی جیت  ہے   ، بسنت  سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف  کی خواہش تھی اور   چیف سیکرٹری زاہد زمان نے اسکی مخالفت کی بجائے اس پرکامیابی سے  عمل درآمد کرا دیا ،  کریڈٹ بلاشبہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے   جنہوں نے ایک سیاسی خطرہ مول لے کر وہ فیصلہ کیا جس سے برسوں سے محروم لاہور نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھا  اور آسمان نے جواب میں رنگ بکھیر دیے،بسنت کے انعقاد نے واضح کر دیا کہ موسمِ بہار محض کیلنڈر کا ایک باب نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ہے، رنگوں سے سجا آسمان اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ زندگی صرف خوف اور پابندیوں کا نام نہیں، خوشی بھی ایک بنیادی حق ہے، گھروں کی چھتوں ، پارکوں ، سڑکوں کے کناروں پر لوگوں نے برسوں بعد وہ منظر دیکھا جو کبھی لاہور کی پہچان ہوا کرتا تھا۔تاہم اس خوشی کے بیچ ایک تلخ حقیقت بھی نمایاں رہی  یہ بسنت زیادہ تر امیروں  اور پہنچ والوں  کی بسنت نظر آئی، پتنگیں اور ڈور  بہت زیادہ  مہنگی  اور  کم یاب  تھیں کہ متوسط اور نچلے طبقے کے لیے محض تماشہ بن کر رہ گئیں، کئی علاقوں میں بچے چھتوں پر کھڑے آسمان کو حسرت سے دیکھتے رہے، مگر ہاتھوں میں  پتنگ تھی نہ ڈور، وجہ  بھی  سمجھ آتی ہے  ، فیصلہ اچانک ہوا، تیاری کا وقت کم تھا، سپلائی چین فعال نہ ہو سکی  اور مارکیٹ نے موقع سے خوب  فائدہ اٹھایا۔

‎حکومت کے سامنے چیلنج یہ تھا کہ ایک ایسے تہوار کو کیسے بحال کیا جائے جس کے ساتھ ماضی کے تلخ حادثات بھی جڑے  ہوئے ہیں، یہی وہ مقام تھا جہاں انتظامیہ اور پولیس نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کیا،انتظامیہ نے مربوط حکمتِ عملی اپنائی، پولیس نے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے، دھاتی اور کیمیائی ڈور کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، چھاپے مارے گئے، گرفتاریاں ہوئیں، اور مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال قابو میں رہی،برسوں بعد یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ بسنت منائی جا رہی ہے اور شہر خون سے نہیں، رنگوں سے سجا ہوا ہے، یہ انتظامی کامیابی معمولی نہیں تھی،پولیس کا کردار خاص طور پر قابلِ ذکر رہا، ایک طرف سیکیورٹی کے خدشات، دوسری طرف عوامی جوش، اور تیسری جانب سیاسی دباؤ،ان سب کے بیچ نظم و ضبط برقرار رکھنا آسان نہیں تھا  مگر  کیپٹل سٹی پولیس افسر  لاہور  بلال کامیانہ  اور انکی ٹیم، کمشنر لاہور مریم خان، ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن علی اعجاز اور انکی ٹیم    نے ثابت کیا کہ اگر نیت واضح ہو اور قیادت فیصلہ کن ہو تو بڑے  سے بڑے  مشکل  تہوار بھی  اچھے  انداز میں منائے جا سکتے ہیں۔

‎اس سب کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بسنت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا، اگر حکومت اس فیصلے کو کچھ ماہ پہلے لے لیتی تو پتنگ اور ڈور کی مناسب قیمت پر دستیابی ممکن ہوتی،اس کا معیار بہتر ہوتا  اور یہ تہوار صرف اشرافیہ تک محدود نہ رہتا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بسنت کے انعقاد نے لاہور کی معیشت میں بھی وقتی جان ڈال دی، ہوٹل، ریسٹورنٹ، چھوٹے دکاندار، فوڈ اسٹریٹس  سب نے اس دن گہرا،سکھ کا  سانس لیا، یہ تہوار اگر باقاعدہ، منظم اور سالانہ بنیادوں پر منعقد ہو تو نہ صرف ثقافتی شناخت بحال ہو سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

‎ اب سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ برس بسنت مزید جامع، سستی،  آسان  اور عوامی ہو گی؟لاہور نے اس بسنت میں یہ ثابت کر دیا کہ یہ شہر خوشی منانا نہیں بھولا، بس اسے موقع درکار تھا، حکومت نے وہ موقع دیا، انتظامیہ نے اسے ممکن بنایا، اور عوام نے اسے دل سے قبول کیا، مگر اگلا قدم اس سے بھی زیادہ اہم ہے  بسنت کو امیر اور غریب، چھت اور گلی، ڈیفنس اور اندرون شہر کے فرق سے نکال کر ایک حقیقی عوامی تہوار بنانا،اگر حکومت نے اس تجربے سے سیکھا، منصوبہ بندی بروقت کی، اور مارکیٹ کو ریگولیٹ کیا تو آئندہ بسنت صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک ثقافتی بحالی کی علامت بن سکتی ہے، لاہور نے پہلا قدم اٹھا  لیا ہے، اب سوال یہ نہیں کہ بسنت ہو سکتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اسے کتنا بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

‎اسلام آباد کی خدیجہ مسجد میں اللہ کی حاضری دینے والوں  کے ساتھ ظلم و بر بریت  کا  حساب  ، ریاست  کی بجائے سب سے بڑی  ریاست کا مالک  ہی لے گا ، اللہ خود ہی  ان مظلوم حسینیوں کو انصاف دے گا ،بتایا جا رہا ہے کہ دہشت گرد بار بار افغانستان کے چکر لگاتا رہا ہے،سازش کے تانے بانے  بھارت اور افغانستان  سے ہی ملتے نظر آتے ہیں  مگر اسلام آباد  میں ہونے والی دہشت گردی   ،  محض سکیورٹی بریک نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور انتظامی شکست ہے، یہ اس ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے جو دن رات امن، استحکام اور کنٹرول کے دعوے کرتی ہے مگر شہری کو عبادت گاہ کے اندر تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے، سوال یہ نہیں کہ دہشت گرد کہاں سے آیا، سوال یہ ہے کہ وہ خلا کیسے پیدا ہوا جس میں اس نے جنم لیا، سوال یہ بھی  ہے کہ وہ ریاست کہاں تھی جو ہر بجٹ میں اربوں روپے سکیورٹی کے نام پر خرچ کرنے کے دعوے کرتی ہے، وہ ریاست مسجد کے دروازے پر کیوں ہار گئی، وہاں اس کا نظام  کیوں  ناکام ہو گیا جہاں اسے سب سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے تھا۔ہم نے سکیورٹی کو بندوق، ناکے، کیمرے اور پروٹوکول تک محدود کر دیا ہے اور ماننے کو تیار نہیں کہ اصل سکیورٹی انصاف، اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور مسلسل ریاستی موجودگی سے جنم لیتی ہے، جب معاشرہ فکری خلا، عدم برداشت اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہو جائے تو دہشت گرد بارڈر پار سے نہیں آتا بلکہ اسی خلا سے جنم لیتا ہے اور پھر ریاست صرف لاشیں گننے پر مجبور رہ جاتی ہے۔

‎پنجاب کے  سینئر اور  اچھے  انتظامی افسروں  کو بدلنے کا طریقہ  میری سمجھ میں  نہیں آ سکا،  آئی جی پنجاب کا تبادلہ کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ صوبے کے امن و امان کی سمت کا تعین کرتا ہے، مگر ہمارے ہاں اس عہدے کو بھی سیاسی طاقت آزمائی، ذاتی انا اور مرکز و صوبے کی کشمکش بنا   دیا جاتا ہے،کہا جا رہا ہے  کہ وفاق  کافی عرصے سے  انکی خدمات لینا چاہ رہا تھا ، ڈاکٹر عثمان انور کا  تبادلہ    روایتی تبادلہ سمجھا جاتا تو شاید بات یہیں ختم ہو جاتی،  مگر معاملہ اس وقت غیر معمولی بن گیا جب اسی افسر کو وفاق میں ڈی جی ایف آئی اے لگا دیا گیا،  اور پھر معاملہ یہاں بھی نہیں رکا، وفاقی وزیر داخلہ خود اگلے دن ان کے دفتر جا پہنچے،  پاکستانی سیاست میں بعض اوقات ایک تصویر، ایک ملاقات، ایک مسکراہٹ، سو بیانات پر بھاری ہوتی ہے۔پنجاب کے نئے آئی جی عبدالکریم راو  کو ایک شریف اور مثبت پولیس افسر گردانا جا رہا ہے ،وہ اس عہدے کے خواہش مند بھی نہیں تھے،سی سی پی او لاہور بلال کامیانہ کو آئی جی ریلوے لگانے کے لئے وفاق نے پنجاب سے پوچھا  ضرور  تھا ،مگر خبر یہ ہے کہ وہ ابھی کہیں نہیں جا رہے۔