سب سے پہلے میرے ایک دوست کی کہانی اُسی کے الفاظ میں سنیں” ڈھلوں صاحب! گزشتہ روز میرا گرین ٹاﺅن تھانے میں جانا ہوا، وجہ یہ تھی کہ میرے بھتیجے اور بھائی کے گھر آئے مہمان کے بچوں کو پولیس ڈالے میں ڈال کر لے گئی تھی،،، اُسی وقت مجھے گھر سے فون آتا ہے اور میں تھانے چلا جاتا ہوں،، وہاں کے ایس ایچ او شاید اُن کا نام رضوان چیمہ ہے، ،، اُن سے ملتا ہوں جو پہلے ہی خاصے غصے میں لگ رہے تھے،،، نے بغیر بات سنے مجھے کمرے سے نکال دیا،،، وجہ تسمیہ یہ تھی کہ میں اُن کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا تھا،،، جس پر اُنہوں نے ایک اہلکار کو بلایا، اور کہا کہ دیکھو یہ کس کے پیچھے آئے ہیں،،، اور انہیں بھی وہیں بٹھاﺅ ،،، اہلکار مجھے پکڑ کر محرر کے کمرے میں لے گیا،،، جہاں میرا بھتیجا ، مہمان کا بیٹا اور 10سے 12مزید بچے موجود تھے،،، جن کی عمریں 7سے 15سال تک تھیں،،، وہ سب سہمے ہوئے بیٹھے تھے،،، خیر اہلکار نے مجھ سے پوچھا ، آپ کا بھتیجا کون ہے،،، میں نے بتا دیا، اُس نے بھتیجے کی تصویر لی اور مجھے وہیں بٹھا کر ایس ایچ او کے پاس چلا گیا،،، ایس ایچ او صاحب نے اُسی وقت فرمان بھیجا کہ اس لڑکے پر فوراََ پرچہ دے دو،،، میں یہ سب کچھ اپنی کن انکھیوں سے دیکھتا رہا،،، وہاں پر موجود پولیس اہلکار نے ایس ایچ او کا حکم فوری مانا اور فوٹوکاپی شدہ مضمون جس پر پتنگ بازی کے حوالے سے کچھ لکھا ہوا تھا،،، اُسے فل کیا گیا اور بھتیجے کو حوالات میں بند کردیا گیا،،، میں نے اہلکاروں سے منت سماجت کرکے مہمان کا بچہ چھڑوایا اور اُسے گھر بھیجا ،،، اور سوچا کہ پرچہ تو ہو ہی گیا ہے، اب وکیل صاحب کو ہائیر کرکے صبح ضمانت کروالیں گے،،، خیر ہم رات میں بھی تھانے میں گئے مگر اُن سے ملنے نہیں دیا گیا ،،، لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ جب صبح بھتیجے نے شکوہ کیا کہ آپ لوگ رات کو مجھے ”شخصی ضمانت“ پر رہا کروانے کے لیے کیوں نہیں آئے،،، کیوں کہ 2، 2ہزار روپے لے کر پولیس والے شخصی ضمانت پر لڑکوں کو رہا کر رہے تھے،،، بہرحال صبح جب انہیں عدالت لایا گیاتو صبح کا ”ریٹ“ 3ہزار روپے فی کس نکلا،،، یعنی آپ تین ہزار روپے دیں اور اپنا بچہ لے جائیں،،، لیکن چونکہ میں کبھی ان مسئلوں میں پڑا نہیں اس لیے میں نے وکیل ہائیر کروالیا،،، پولیس کو اس بات پر بھی غصہ آیا کہ اس کے ساتھ وکیل کیوں آگیا ہے،،، لہٰذاوہ میرے بھتیجے کو دوبارہ حوالات میں لے گئے،،، جہاں منت سماجت کے بعد اُسے ”رہا“ کروایا گیا،،، ڈھلوں صاحب! مسئلہ یہ نہیں کہ میرے بچوں نے پتنگ بازی کی یا نہیں،،، اگر کی ہے تو اُنہیں واقعی سزا ملنی چاہیے تھے،،، لیکن ان فرعون صفت پولیس اہلکاروں کی تربیت کے حوالے سے بھی کوئی کالم لکھیں،،، تاکہ ہمارے بچے ان سے محفوظ رہیں،،، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ بسنت جیسے تہوار محض دکھاوا اور پولیس کی دہاڑیاں لگانے کے لیے رہ جاتے ہیں،،،وغیرہ وغیرہ “
یہ ایک مختصر تحریردرج ہے، جس میں ایک عام آدمی نے مسئلہ لکھا ہوا ہے، اس طرح کے لاکھوں مسئلے روزانہ عوام جھیلتے ہیں،،، اور جھیل رہے ہیں،،، پہلے کبھی ایسا نہیں سنا تھا کہ اس قسم کے تہواروں میں کہیں پولیس بھی نظر آجائے مگر اب تو یہ روایت ہی بن چکی ہے،،، حالانکہ ”بسنت“ برصغیر کی قدیم تہذیبی روایات میں شمار ہونے والا ایک رنگا رنگ تہوار ہے جو موسمِ بہار کی آمد کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔ یہ تہوار ہمیشہ خوشیوں، موسیقی، رنگوں، پتنگوں اور معاشرتی میل جول کی علامت رہا ہے لہٰذا لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بسنت کبھی ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تہوار خوشی کے بجائے خوف، حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کی علامت بنتا چلا گیا۔جس پر پابندی لگا دی گئی اور اب پچیس سال بعد پنجاب حکومت نے بسنت اور پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اعلان سنتے ہی لاہور کی فضا جیسے ایک پرانی یاد سے بھرگئی، گلیوں میں شور، چھتوں پر رنگ اور بہار کے استقبال کا وہ مخصوص جوش۔ مگر ایسا پراسرار خوف ہم نے کبھی نہیں دیکھا،،،
ایک تو پہلے ہی گزشتہ تین ساڑھے تین سال سے پورے ملک میں پولیس گردی عروج پر ہے،،، ایک سیاسی جماعت کے ہزاروں کارکنان جیلوں میں ناحق قید کی زندگی گزار رہے ہیں،،، اور پھر دوسرا اس قسم کی پابندیوں کے بعد عوام پر مزید ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں،،، اور ظلم و ستم صرف ان تہواروں پر ہی نہیں بلکہ حکومت جو بھی ایکشن لیتی ہے، اُس کے فائدے پولیس کو ہو رہے ہیں،،، جیسے کم عمر ڈرائیونگ کے پرچوں پر دیکھ لیں،، کسی ایک متاثرہ فیملی سے بات کر کے دیکھ لیں،،، آپ کو پولیس گردی کی نئی کہانی سننے کو ملے گی، ،، حالانکہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ یہ عوام کے لیے بہتر نہیں ہے،،، لیکن سب سے پہلے عوام کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا سختیاں کرنے سے مسائل کم ہوئے؟ مسائل تو ویسے کے ویسے ہی ہیں،،، ابھی بھی آپ سڑک پر نکلیں تو آپ کو بہت سے کم عمر ڈرائیور، موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں میں نظر آئیں گے،،، اور اگر آن لائن چالانز کو دیکھ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ جہاں کیمرے لگے ہیں وہاں لوگ لائن میں کھڑے ہیں لیکن جن اشاروں پر کیمرے نہیں ہیں وہاں آپ کو بے ہنگم طریقے سے لوگ اشارہ توڑتے نظر آئیں گے،،،تو ایسی صورت میں کیا حکومت اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری بڑھ نہیں جاتی؟ کہ وہ سب سے پہلے عوام کو ایجوکیٹ کریں،، یہی عوام اگر ایجوکیٹ ہوں گے،،، تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی جان بوجھ کر اور عادتاََ قانون توڑے۔
خیر ان سب چیزوں کا ultimately فائدہ کس کو ہو رہا ہے،،یقینا پولیس کو ہی! اُس کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے،،، بعض جگہوں پر وہ مک مکا کر رہی ہے،،، اور بعض جگہوں پر وہ ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے زیادتی کر رہی ہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ ”کوڈز“ وغیرہ کے چکر میں اب کون چیک کرے گا کہ پتنگ رجسٹرڈ ہے یا نان رجسٹرڈ؟ تو کیا اس سسٹم سے پولیس فائدہ نہیں اُٹھائے گی؟ کیا وہ مک مکا نہیں کرے گی؟ آپ یقین مانیں اس وقت بھی میری ناقص اطلاعات کے مطابق اندرون لاہور میں پتنگ بازی کا سامان بنانے والے ایک ایک تاجر سے 20،20لاکھ روپے وصول کیے جارہے ہیں،،، اور پھر یہی نہیں کہ پتنگ اُڑائی جا رہی ہے، بلکہ اب تو دو درجن نکات پر مشتمل ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا گیا ہے کہ پتنگ پر فلاں فلاں شخصیات کی تصاویر لگانا، سیاسی نعرہ درج کرنے، سیاسی شخصیات کی پروموشن کرنے ،،، اور مزید سو سے زائد گانوں پر پابندی ہوگی،،، مطلب! آپ جان بوجھ کر لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ یہ کام کریں! ،،، یعنی اگر آپ اس حوالے سے بات ہی نہ کرتے تو میرے خیال میں جہاں تحریک انصاف کی پتنگیں اُڑنا تھیں وہیں ن لیگ کی بھی اُڑائی جانی تھیں اور وہیں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کا رنگ نظر آنا تھا،،، لیکن اب چونکہ پابندی لگا دی گئی ہے تو اب لوگ اس کو مذاق میں لیں گے،،، اگر سیاسی شخصیات پر پابندی ہے تو لوگ 804لکھ دیں گے،،، یا فارم 47لکھ دیں گے،،، یا اصل الیکشن نتائج لکھ دیں گے،،، یا بلا بنا دیں گے،،، یعنی ایسا کرنے سے آپ اپنا خود مذاق بنواتے ہیں،،، اور لوگوں کی توجہ خود حاصل کرتے ہیں۔
بہرکیف اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ بسنت کو انجوائے کریں، یا لوگ واقعی اس تہوار سے لطف و اندوز ہوں، تو پھر آپ اُنہیں تنگ کیوں کر رہے ہیں،،، پھر اُڑانے دیں اُنہیں،،، پھر جو وہ چاہتے ہیں اُنہیں کرنے دیں،،، اگر کوئی عمران خان کی نواز شریف کی تصویر کے ساتھ پتنگ اُڑانا چاہتا ہے تو اُڑانے دیں،،، کیا ان دونوں تینوں جماعتوں کے کارکنان کی سوشل میڈیا پر آپس میں جنگ نہیں ہوتی؟
بہرحال ہم بسنت کی بات کریں تو حکومت نے اس بار بڑے دعوے کیے ہیں۔ ”صرف سوتی ڈور“ چلے گی، ہر پتنگ اور ڈور پر کیو آر کوڈ ہوگا، دکاندار سے لے کر بنانے والے تک سب کی رجسٹریشن لازمی۔ دھاتی یا کیمیکل ڈور بنانے اور بیچنے والوں کے لیے تین سے پانچ سال قید اور بھاری جرمانے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے پتنگ اُڑانے پر پابندی، خلاف ورزی پر والدین کو جرمانہ۔ کاغذ اور فریم کے سائز تک ضابطے میں۔ وغیرہ وغیرہ۔کاغذ پر یہ سب کافی مضبوط لگتا ہے۔ مگر سوال وہی پرانا ہے کہ کاغذ کے ضابطے چھتوں پر اڑتی پتنگ کو واقعی کنٹرول کرسکتے ہیں؟ اس ملک میں قانون لکھنے والوں کا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ قانون بنتا ہے، عملدرآمد کہیں ہوا نظر نہیں آتا۔ ”انسداد پتنگ بازی ایکٹ“ بھی لاکھوں گرفتاریوں اور ہزاروں ضبطی کارروائیوں کے باوجود کاغذ ہی میں رہا۔ پتنگیں ضبط ہوئیں، بچے پکڑے گئے، مگر ”قاتل ڈور“ بنانے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی باری کبھی نہیں آئی۔ بازار میں مال آسانی سے دستیاب رہا، اور اوپر کہیں نہ کہیں ”اوپری کمائی“ کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔یہ تضاد پاکستانی معاشرے کا اصل المیہ ہے۔ عملاً حادثات روکے نہیں گئے۔ فیصل آباد سے لاہور تک درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے، بائیک چلانے والے گلے پر ڈور لگنے سے زخمی، بعض مستقل معذور، بعض کی جان تک چلی گئی۔ حکومت پابندی لگاتی رہی، عوام قانون توڑتے رہے، اور درمیان میں اعداد و شمار بڑھتے گئے۔
خیر اب اگر حکومت نے اجازت دی ہے تو میرے خیال میں اُسے عوام کو ایجوکیٹ کرنا چاہیے، ناکہ اُن پر اس قدر سختیاں کرنی چاہیے کہ لوگوں کو پولیس سے پہلے سے زیادہ نفرت ہو جائے،،، بلکہ پولیس کو بچوں کو ایجوکیٹ کرنا چاہیے کہ بسنت کو ثقافتی میل کا درجہ مل چکا ہے،،، بھلے ہی حکومت کہتی ہے کہ اس بار سب کچھ ریگولیٹڈ ہوگا۔ مگر عملدرآمد صرف بیانوں سے نہیں ہوتا۔ پنجاب میں قانون کاغذ پر ہمیشہ مضبوط رہا، مگر گلی میں کمزور۔ اس لیے خدارا پولیس کو لگام دیں ،،، تاکہ وہ عوام کی محافظ بنیں ،،، ناکہ ڈاکو !

