اٹھہتر برس پہلے، یہ دھرتی ایک خواب کے بدلے میں ملی تھی ، ایک ایسا خواب جس میں ہر شخص کو عزت، انصاف اور آزادی میسر ہو۔ آج جب ہم پاکستان کا 78واں یومِ آزادی منا رہے ہیں، ہمیں جشن کے ساتھ یہ سوال بھی کرنا ہوگا: کیا ہم اس خواب کے قریب پہنچے ہیں یا اس سے دور جا رہے ہیں؟
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے پاس فخر کرنے کو بہت کچھ ہے۔ ہم ایٹمی طاقت ہیں، دنیا کی بہترین فوج رکھتے ہیں، طب، تعلیم، کھیل اور فلاح میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہمارے نوجوان عالمی اداروں میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے ہیں، جس کی بے شمار مثالیں اور بے حساب نام ہماری تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے درج ہیں۔ یہ سب اسی مٹی کی خوشبو ہیں۔
مگر اس روشنی کے ساتھ سائے بھی گہرے ہیں۔ آج بھی ایک عام پاکستانی انصاف، تحفظ اور باعزت زندگی سے محروم ہے۔ سیاست ذاتی دشمنیوں کا کھیل ہے، عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہے، میڈیا افواہوں کی مشین بن چکا ہے، اور عام آدمی بجلی کے بل، آٹے کی قطار اور دوا کی قیمت سے نبردآزما ہے۔ ایک کسان اپنے کھیت کے لیے پانی کو ترس رہا ہے، اور ایک طالبہ فیس نہ بھرنے پر یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور ہے ، یہ کہانیاں لاکھوں میں بکھری ہوئی ہیں۔
آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں، ہزاروں مریض علاج کے بغیر دم توڑ دیتے ہیں، کروڑوں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں؟
دہائیوں سے ہر طاقتور دوسرے پر الزام لگاتا آیا ہے۔ سیاست دان فوجی مداخلت کو برا کہتے ہیں مگر بار بار اپنے مخالفین کو گرانے کے لیے جرنیلوں سے مدد لیتے ہیں۔ عدلیہ دباؤ کی شکایت کرتی ہے، مگر غیر آئینی حکومتوں کو جواز فراہم کرتی ہے۔ بیوروکریسی سیاسی مداخلت پر روتی ہے، مگر طاقتوروں کے سامنے جھک جاتی ہے۔ میڈیا، مذہبی ادارے اور دیگر سماجی ستون بھی موقع ملتے ہی اصول بھلا دیتے ہیں۔ فوج نے بھی اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور سیاست میں مداخلت کر کے جمہوری اقدار کو کمزور کیا۔
اگر پاکستان کو بچانا اور آگے بڑھانا ہے تو ہر قوت کو الزام تراشی چھوڑ کر خود احتسابی اپنانی ہوگی۔ حقیقی آزادی تب ہی آئے گی جب سب کردار دیانت، آئین کی پاسداری اور عوام کی خدمت کو سب سے مقدم رکھیں۔ یہ تبدیلی کسی اور کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔
خصوصاً سیاست دانوں پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ احتجاج، گالم گلوچ اور مخالفت برائے مخالفت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مل بیٹھ کر مکالمہ کریں، اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، اور آئندہ کے لیے جرنیلوں کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے عوام کی طاقت پر بھروسہ کریں۔ حکومت اور اپوزیشن مہذب جمہوریتوں کی طرح اپنا آئینی کردار ادا کریں اور ملک کے امن، ترقی اور خوشحالی کو اپنا محور بنائیں۔
جب سیاست دان اپنا قبلہ درست کر لیں گے تو بہت کچھ خودبخود درست ہو جائے گا — میڈیا سنسنی کے بجائے شعور پھیلائے گا، عدلیہ غیرجانبدار ہو گی، جرنیل اپنی حدود میں رہیں گے، اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ اصل بھلائی صرف ایک دوسرے کے احترام اور ہر ادارے کے اپنے دائرۂ کار میں رہنے میں ہے۔
ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے؟ کب تک طاقت کے کھیل میں آئین اور اداروں کو روندا جائیگا؟ کب تک عوام کا اعتماد ٹوٹتا رہے گا؟ اب وقت ہے کہ ہم رکیں، سوچیں، اور ایک نئی شروعات کریں۔ ہمیں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے — ایسا معاہدہ جو ماضی کو دفن کر کے مستقبل پر مرکوز ہو۔
ہمیں طے کرنا ہوگا کہ سیاست نفرت اور انتقام سے نکل کر عوامی خدمت اور مسائل کے حل پر مرکوز ہو۔ عدلیہ آزاد اور خودمختار ہو تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔ میڈیا خبر کو امانت سمجھے، افواہ نہیں۔ ریاست ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو جھوٹ اور فتنہ پھیلاتے ہیں۔
کرپشن کا خاتمہ محض نعرہ نہیں بلکہ مستقل مزاج، بلاتفریق احتساب سے ممکن ہے — ایسا احتساب جو ہر طاقتور تک پہنچے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ جیسے بنیادی حقوق ہر پاکستانی کو ملنے چاہییں، اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ مسائل کا حل نچلی سطح سے نکلے۔ اردو زبان کو علامتی نہیں بلکہ عملی قومی زبان بنایا جائے تاکہ ریاست اور شہری کا رشتہ مضبوط ہو۔
اداروں کے درمیان طاقت کی رسہ کشی نے ہمیں کمزور کیا ہے۔ اب ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں کام کرے اور سب قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں۔ یہ ملک زرخیز ہے، اس میں صلاحیت اور محنت ہے ، بس اسے اتحاد، ایثار اور نیتِ خیر کی روشنی چاہیے۔
آج اگر ہم انا، تعصب اور ذاتی مفادات کو پیچھے چھوڑ کر ماضی کی تلخیوں کو دفن کر دیں اور صرف عمل سے بہتری لائیں تو کل کا پاکستان وہی ہوگا جس کا وعدہ تھا ، ایک فلاحی، مضبوط اور باوقار ریاست۔ ورنہ ہر نعرہ نیا ہوگا، مگر راستہ پرانا۔
آیئے ، 14 اگست کو صرف جشن نہ منائیں، یہ تجدیدِ عہد کا دن ہو۔
بس کریں… اب آگے بڑھنا ہے۔
78 سال ، اب کوئی بہانہ نہیں۔

