بماکو :اماراتی شہزادے کی رہائی کے بدلے 5 کروڑ ڈالر تاوان کی ادائیگی

بماکو (ڈی ڈبلیو)مغربی افریقی ملک مالی میں القاعدہ سے منسلک جہادی گروہ ’جماعۃ نصرۃ الاسلام والمسلمین‘ (جے این آئی ایم) کو متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے ایک رکن کی رہائی کے بدلے کم از کم 5 کروڑ ڈالر تاوان ادا کیا گیا۔ سونے کے کاروبار سے وابستہ اس اماراتی شہزادے کے ساتھ ایک پاکستانی اور ایک ایرانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق جے این آئی ایم مالی کی فوجی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں شریعت نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے ’اقتصادی جہاد‘ کو اپنی بنیادی حکمت عملی بنا رکھا ہے، جس میں تاوان اور ایندھن دونوں اہم ہتھیار ہیں۔ گروہ نے غیر ملکی کمپنیوں اور کارخانوں پر حملوں کی دھمکیاں بھی دے رکھی ہیں اور متعدد ٹینکرز، کانوں، فیکٹریوں اور غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

عالمی تنظیم اے سی ایل ای ڈی کے مطابق مئی سے اکتوبر 2025 کے دوران کم از کم 22 غیر ملکی شہری اغوا کیے گئے، جو 2022 کے مقابلے میں تقریباً دگنی تعداد ہے۔ مغویوں میں چینی، بھارتی، مصری، اماراتی، ایرانی، سربیائی، کروشیائی اور بوسنیائی شہری شامل تھے۔

26 ستمبر کو سونے کے کاروبار سے وابستہ اماراتی شہزادے اور اس کے دو ساتھیوں کو دارالحکومت بماکو کے قریب اغوا کیا گیا۔ مذاکرات کے دوران پہلے ان کے زندہ ہونے کا ثبوت لینے کے لیے 40 کروڑ سی ایف اے فرانک (تقریباً 70 لاکھ ڈالر) ادا کیے گئے، جب کہ اکتوبر کے آخر میں کم از کم 5 کروڑ ڈالر کے عوض تینوں کو رہا کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ خطے میں اب تک ادا کیا جانے والا سب سے بڑا معلوم تاوان ہے، جس کے بدلے جے این آئی ایم کے تقریباً 30 قیدی اور کچھ مالی فوجی بھی تبادلے میں رہا کیے گئے۔