جہاں تک میں امریکیوں کی نفسیات کو سمجھتا ہوں وہ خوشامد پسند نہیں ہوتے اور اتنے خوشامد پسند تو بالکل ہی نہیں ہوتے آپ ان کے منہ پر ان کی ایسی خوبیاں بیان کریں جو خود انہیں معلوم نہ ہوں ، ایسی جھوٹی تعریفیں وہ سن ضرور لیتے ہیں لیکن اس کے پیچھے جو”مقاصد“ ہوتے ہیں ان سے بھی وہ بخوبی واقف ہوتے ہیں ، پاکستان میں اگر جمہوریت آٹے میں نمک کے برابر بھی ہوتی اور ہمارے حکمرانوں کو یہ یقین ہوتا وہ الیکشن صرف اور صرف عوام میں اپنی پسندیدگی کی بنیاد پر جیتیں گے یا ناپسندیدگی کی بنیاد پر ہاریں گے کوئی غیر ملکی مداخلت انہیں الیکشن جتوا سکتی ہے نہ ہروا سکتی ہے اس کے بعد وہ کسی امریکی صدر کی غیر ضروری خوشامد یا جھوٹی تعریفیں کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے سامنے ان کی جو جھوٹی تعریف یا خوشامد کی پاکستان میں اسے صرف ان ہی لوگوں نے سراہا جو ان کی حکومت میں کسی نہ کسی عہدے پر ہیں ، یا پھر ان کی جماعت کے کچھ راہنما اس کی تعریف کر کے اب اپنا منہ چھپائے پھرتے ہیں ، پاکستان کے کسی سنجیدہ سیاست دان ، کسی مفکر کسی دانشور نے انہیں نہیں سراہا ، حتی کہ ”سرکاری دانشور “ بھی اپنا حق نمک ادا نہیں کر سکے ، ممکن ہے شہباز شریف نے بھی اس کے بعد اکیلے بیٹھ کر سوچا ہو اس معاملے میں وہ حد سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے تھے ، شہباز شریف نے تو پتہ نہیں سوچا ہے یا نہیں سوچا ؟ صدر ٹرمپ نے ضرور سوچا ہوگا کہ پاکستانی وزیراعظم ان کی تعریف کے معاملے میں ان کی خواہش یا حکم سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا ہے“ ، شہباز شریف جب امریکی صدر کی جھوٹی تعریفیں کر رہے تھے ان کے پیچھے کھڑی اٹلی کی وزیراعظم منہ پر ہاتھ رکھے حیران ہو رہی تھی ، وہ شاید یہ سوچ رہی ہوگی”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جن خوبیوں کا پاکستانی وزیراعظم ذکر کر رہے ہیں وہ آج تک انہیں کیوں معلوم نہیں ہوئیں ؟ فرض کر لیں وہ خوبیاں ڈونلڈ ٹرمپ میں موجود ہوتی بھی اٹلی کی وزیراعظم کبھی ایسے ان کے منہ پر اس کا اظہار نہ کرتی ، یہ”اعزاز“ صرف ہمارے حکمرانوں کو حاصل ہے وہ اکثر اپنے آقاوں کے سامنے اپنی گریس کا خیال نہیں رکھتے ، میں نے اکثر گورے ممالک کے حکمرانوں کے بارے میں نوٹ کیا ہے وہ کسی صورت میں اپنی گریس متاثر نہیں ہونے دیتے چاہے اس کے بدلے میں انہیں کتنا ہی نقصان یا فائدہ کیوں نہ ہو رہا ہو ، ایک ہم ہیں اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی فائدوں کے لیے اپنے عہدے کی ساری گریس داو پر لگا دیتے ہیں ، وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یہی کیا ، امریکی صدر کو پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے اپنے منہ پر سراہے جانے سے یقینا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، ان کی تعریفوں سے ان کی امریکی حکومت مضبوط ہوگی نہ کمزور ہوگی ، البتہ پاکستانی حکمران یہ سمجھتے ہیں ایسی جھوٹی تعریفوں یا خوشامد سے پاکستان میں ان کی حکومت شاید مضبوط ہو جائے ، یہ ان کی غلط فہمی ہے ، تاریخ بتاتی ہے امریکہ صرف اپنے مفاد دیکھتا ہے ، عارضی طور پر پاکستانی حکمرانوں کے ذاتی مفادات کا تحفظ وہ صرف اپنے قومی مفاد میں کرتا رہا ہے ، وہ پاکستان کا کبھی خیر خواہ نہیں رہا ، پاکستان میں کمزور سی جمہوریت کو سبوتاز کرنے ، سیاسی حکومتوں کو ختم کرنے اور غیر آئینی حکومتوں کو طول دینے میں کسی نہ کسی طرح ا±س کا ہاتھ ضرور رہا ہے ، میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم سے اپنی تعریفیں کسی خاص مقصد کے لئے کروائی ہیں ، ممکن ہے اس نے دنیا کو یہ پیغام دینا ہو”ایٹمی قوت کا وزیراعظم اپنے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے کے بجائے صرف ہمارے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے ، یا صرف وہی کرتا ہے جس کا ہم اسے حکم دیتے ہیں ، اس موقع پر شہباز شریف کی باڈی لینگویج ایسی تھی یوں محسوس ہو رہا تھا ہم لکشمی چوک کے کسی تھیٹر میں کوئی مزاحیہ اسٹیج ڈرامہ دیکھ رہے ہیں ، وزیراعظم شہباز شریف کو یقینا اس بات کی پرواہ نہیں ہوگی پاکستانی عوام نے ان کے اس اقدام کو عزت و قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا ، اس کی پروا انہیں شاید اس لیے نہیں ہوگی پاکستانی عوام کی حیثیت کا انہیں اچھی طرح اندازہ ہے ، انہیں اچھی طرح معلوم ہے پاکستانی عوام کے جذبات کو خاطر میں لا کر انہیں ماضی میں کچھ حاصل ہوا نہ اب ہوگا ، انہیں جو کچھ حاصل ہوا اپنے باس کی اور آگے سے ان کے باس کی جھوٹی تعریفیں یا خوشامد وغیرہ کر کے حاصل ہوا ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمارے فیلڈ مارشل کی کمی بہت محسوس کی جس کا اظہار بھی انہوں نے کیا ، اپنے فیلڈ مارشل کی کمی اس موقع پر ہم نے بھی بہت محسوس کی ، وہ اگر موجودہوتے اور امریکی صدر کی انہیں بھی تعریف کرنی پڑ جاتی وہ شاید اس معاملے میں اپنی گریس اتنی متاثر نہ ہونے دیتے جتنی ان کے ماتحت وزیراعظم نے کھل کھلا کر متاثر ہونے دی ، دوسری صورت میں یہ بھی ممکن تھا وہ شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہوتے انہیں ”کہنی“ یا آنکھ مار دیتے کہ جو تعریفیں میں نے کرنی ہیں آپ کیوں خوامخواہ منہ و دیگر اعضاءوغیرہ چک چکا کے کرتے جا رہے ہو “ ، اصل میں ہمارے حکمرانوں کا اتنا قصور نہیں ہوتا ، پاکستان میں انہیں اپنی غیر ضروری جھوٹی تعریفیں اور خوشامد وغیرہ کروانے کی جو عادت پڑی ہوتی ہے ، جو انہیں خوش کرتی ہے اور انہیں ”صحت مند و توانا“ رکھتی ہے وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا بھر کے حکمران ایسے ہی خوشامد پسند ہوتے ہیں ، جبکہ دنیا کے مہذب ممالک کے اکثر حکمران اپنے بارے میں جھوٹ سن کر یعنی اپنی خوشامد یا تعریفیں وغیرہ خصوصاً اپنے منہ پر سن کر ذرا خوش نہیں ہوتے ، امریکی صدر بھی ذرا خوش نہیں ہوئے ہوں گے مگر اس سے جو مقاصد وہ حاصل کرنا چاہتے تھے یقینا انہوں نے حاصل کر لیے ہوں گے ، کیونکہ ایسے لوگوں کا کوئی اقدام جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے بغیر کسی مقصد کے نہیںہوتا ، البتہ ہ، جو امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات کے خواہشمند ہیں جو ظاہر ہے کسی نوکر کے اپنے مالک کے ساتھ نہیں ہوسکتے ہماری خواہش تھی جیسی تعریف یا خوشامد ہمارے وزیراعظم ، امریکی صدر کی کر رہے تھے ویسی تعریف یا خوشامد امریکی صدر بھی ہمارے وزیراعظم کی کردیتے ، وہ بھی یہ کہہ دیتے ”پاکستان کے جتنے وزرائے اعظم اب تک گزرے ہیں شہباز شریف ان سب سے بہتر اس لیے ہیں کہ ہماری ایسی باتیں بھی وہ نہیں ٹالتے جو صرف ہمارے مفاد میں ہوتی ہیں
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

