بھارتی اپوزیشن کا الیکشن کمیشن پر انتخابی فہرست کی تحقیقات روکنے کا الزام

نئی دہلی ( اے ایف پی)بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر فہرست میں مبینہ ہیر پھیر کی تحقیقات روک دی ہیں، جس سے ادارے کی غیرجانبداری اور خودمختاری پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خود پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔

’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں اور ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ووٹنگ کے عمل کو انتخابی فہرستوں میں ہدفی تبدیلیوں کے ذریعے متاثر کیا جا رہا ہے۔

کانگریس پارٹی کے 55 سالہ رہنما راہول گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے اہم تکنیکی ڈیٹا روک رکھا ہے جو مبینہ طور پر ووٹر فہرست میں ہیر پھیر کرنے والوں کی نشاندہی کیلئےضروری ہے۔ ان کے مطابق ای سی آئی کے سربراہ گیانیش کمار ان عناصر کو تحفظ دے رہے ہیں جو آئین پر حملہ آور ہیں۔

راہول گاندھی نے شواہد بھی پیش کیے جنہیں انہوں نے سو فیصد ثبوت قرار دیا کہ ریاست کرناٹک میں خودکار سافٹ ویئر کے ذریعے ہزاروں ووٹروں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کی کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے 18 ماہ میں 18 بار الیکشن کمیشن سے ڈیٹا طلب کیا لیکن وہ فراہم نہیں کیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کی کچھ ناکام کوششیں ہوئی ہیں اور وہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کر رہا ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی تیسری بڑی ریاست بہار میں، جہاں کم از کم 13 کروڑ افراد رہتے ہیں، اکتوبر یا نومبر میں ریاستی انتخابات متوقع ہیں۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ ای سی آئی نے ریاست میں ووٹرز کو محض چند ہفتے دیے کہ وہ اپنی شہریت ثابت کریں اور اس کیلئےوہ دستاویزات طلب کیں جو عام شہریوں کے پاس موجود نہیں ہیں، جس کے باعث لاکھوں ووٹروں کے اندراج کا عمل متاثر ہوا۔

اپوزیشن کے یہ الزامات اور بہار میں متوقع انتخابات نے بھارت میں انتخابی شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اپنی ساکھ اور غیرجانبداری کے دفاع میں سرگرم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں