نیویارک(نمائندہ خصوصی) اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندوں نے بھارتی اشتعال انگیزیوں، شہری آبادی کو نشانہ بنانے، اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی یہ کارروائیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئےخطرناک ہیں۔
یہ سخت مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں “مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ” پر ہونے والے خصوصی اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ اجلاس کے دوران پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارتی افواج کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جھڑپوں میں بھارت نے نہتے شہریوں پر بلا امتیاز بمباری کی۔
بھارتی مندوب پروتنینی ہریش نے حسب روایت دہشت گردی کے الزامات دہراتے ہوئے پاکستان پر تنقید کی، جس پر پاکستان کی مستقل نمائندہ صائمہ سلیم نے بھرپور جواب دیا۔
صائمہ سلیم نے بھارتی سفیر پر “گمراہ کن بیانیہ، موضوع سے انحراف اور حقیقت سے انکار” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ”کوئی بھی چیز حقائق کو چھپا نہیں سکتی۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے شہریوں پر گولیاں چلاتا ہے، پاکستان میں دراندازی کر کے شہری علاقوں کو نشانہ بناتا ہے، اور دنیا بھر میں دہشت گردی اور قتل کی کارروائیوں کی سرپرستی کرتا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریاؤں کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگیوں کیلئےناگزیر ہیں۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے پاہلگام حملے کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ”اگر بھارت کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو وہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدار آزاد اور قابل اعتبار تحقیقات کی اجازت دے۔”
پاکستان نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا نوٹس لیں.دریا جیسے قدرتی وسائل کو بطور “ہتھیار” استعمال کرنے کی مذمت کریں.مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ یقینی بنائیں۔

