بھارت امریکا کا بہترین فرمانبردار ملک ثابت ہوا ہے:امریکی وزیرِ خزانہ

واشنگٹن/نیو دہلی (واشنگٹن پوسٹ/رائٹرز) امریکا نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کیلئے بھارت کو عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی اجازت دی ہے۔ یہ اجازت صرف اُس تیل کیلئے ہے جو پہلے ہی جہازوں میں لدا ہوا اور سمندر میں موجود ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت امریکا کا بہترین فرمانبردار ملک ثابت ہوا ہے۔ بیسینٹ کے مطابق بھارت نے امریکا کی ہدایت کے مطابق اس سال روسی تیل کی خریداری کم کی اور امریکی تیل خریدنے کا منصوبہ بنایا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سپلائی کے دباؤ کے باعث امریکا نے وقتی طور پر بھارت کو یہ رعایت دی ہے۔

اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق سمندر میں روسی خام تیل کی کروڑوں بیرل مقدار موجود ہے، جسے فروخت کی اجازت دینے سے عالمی منڈی میں فوری سپلائی بڑھ سکتی ہے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ بھارت کو جنوبی ایشیاء کے قریب موجود روسی تیل خریدنے اور اپنی ریفائنریوں میں پراسیس کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی تیزی سے بڑھ سکے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جہاں سے گزرنے والی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت کو 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، جس کے تحت 5 مارچ 2026ء تک جہازوں میں لدا روسی تیل بھارت پہنچا کر فروخت کیا جا سکے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف عارضی ہے اور اس سے روس کو بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس میں صرف پہلے سے موجود ذخیرے کی فروخت شامل ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا، تاہم بعد میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی فریم ورک طے پانے کے بعد یہ ٹیرف ختم کر دیا گیا تھا۔