بھارت اور چین کا براہ راست پروازوں کی بحالی، تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے پر اتفاق

نئی دہلی/بیجنگ ( رائٹرز ) — بھارت اور چین نے تعلقات میں بہتری کیلئے اہم اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، سرحدی تجارت کا دوبارہ آغاز اور ویزا سہولت میں اضافہ شامل ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ رہے، تاہم اب فریقین محتاط انداز میں تعلقات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک تین مخصوص پوائنٹس پر سرحدی تجارت بحال کریں گے، جبکہ براہ راست پروازوں کی بحالی کی تاریخ بعد میں طے کی جائے گی۔

یہ پیش رفت چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے دورۂ دہلی اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ مذاکرات کے بعد سامنے آئی۔ مذاکرات میں سرحدی تنازعات، فوجیوں کے انخلا اور سرحدی نشاندہی کے معاملات پر بات ہوئی۔

چینی وزارت خارجہ نے بتایا کہ سرحدی مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئےایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو مشرقی اور درمیانی حصوں پر توجہ دے گا جبکہ مغربی حصے کیلئےمذاکرات جلد ہوں گے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا”بھارت اور چین کے درمیان مستحکم اور تعمیری تعلقات خطے اور دنیا میں امن و خوشحالی کیلئے اہم ہیں۔”

واضح رہے کہ وزیراعظم مودی رواں ماہ کے آخر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئےچین جائیں گے، جو سات سال بعد ان کا پہلا دورۂ چین ہوگا۔

“تبت کا ڈیم معاملہ”
بھارت نے مذاکرات میں چین کے زیرِ تعمیر یارلُنگ زانگبو (برہم پترا) ڈیم پر خدشات ظاہر کیے، جس کے بارے میں نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ یہ زیریں علاقوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ چین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر بھارت کو ہائیڈرولوجیکل معلومات فراہم کرے گا اور سیلابی انتظامات پر تعاون بڑھایا جائے گا۔

چین کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبے ماحول اور زیریں علاقوں میں پانی کی فراہمی پر بڑا اثر نہیں ڈالیں گے، تاہم بھارت اور بنگلہ دیش نے اس پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں