بھارت اپنی دہشت گردی کے کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے:دفتر خارجہ

اسلام آباد ( دفتر خارجہ، دی ہندو، بھارتی میڈیا)دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایک بار پھر ایک ایسے ہمسایہ ملک کے طور پر اپنے تشویشناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارتی وزیر کے ریمارکس کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم یہ ردعمل بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والے ان بیانات کے بعد سامنے آیا جن میں جے شنکر نے دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کا ذکر کرتے ہوئے خراب ہمسایوں کی بات کی۔

دی ہندو کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر کوئی ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بغیر ندامت کے دہشت گردی جاری رکھے تو اسے اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے، جبکہ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہائیوں تک دہشت گردی جاری رہے تو اچھے ہمسائیگی کے فوائد برقرار نہیں رہ سکتے۔

دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر خارجہ کے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ خطے میں بالخصوص پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھارت کے دستاویزی شواہد پر مبنی کردار سے دنیا اچھی طرح واقف ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی نیوی افسر کمانڈر کلبھوشن یادھو کا کیس پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی واضح مثال ہے، جسے مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور جس نے بھارتی خفیہ ایجنسی سے وابستگی اور تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے مطابق سرحد پار قتل، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے متعدد واقعات بھارت کے تشویشناک کردار کو مزید بے نقاب کرتے ہیں، جو ہندوتوا کی انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ سے ہم آہنگ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ طے پایا تھا اور بھارت کی جانب سے اس کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچے گا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کیلئےتمام ضروری اقدامات کرے گا۔یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ڈھاکا میں ایک تقریب کے موقع پر پاکستانی اور بھارتی اعلیٰ حکام کے درمیان محدود سطح کا رابطہ ہوا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کے بعد پہلا اعلیٰ سطح رابطہ تھا۔