واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت اپنے آپ کو ’وشوا گرو‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہے، بھارتی جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور کسی بھی وجہ سے دو طرفہ تصادم ایک بڑی غلطی ہو گی۔
تفصیلات کے مطابق امریکا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکر گزار ہے جن کی اسٹریٹجک قیادت نے نہ صرف پاک بھارت جنگ بلکہ دنیا کی کئی جنگوں کو روکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اشتعال انگیزی کا پُرعزم اور بھرپور جواب دیا اور واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی، حالیہ بھارتی جارحیت شرم ناک بہانوں کے تحت کی گئی اور اس میں پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کے ساتھ معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی کی ٹرانس نیشنل دہشت گرد سرگرمیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل، قطر میں 8 بھارتی نیول افسران کا معاملہ اور کلبھوشن جادھو جیسے واقعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا ڈیڑھ ماہ میں دوسرا دورہ امریکا پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت کی علامت ہے، جن کا مقصد تعلقات کو تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کو ’برین گین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ وطن عزیز کے لیے عزت اور وقار کا باعث ہیں، ہر مشکل وقت میں سب سے پہلے امداد فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ غزہ میں جاری نسل کشی بدترین انسانی المیہ ہے اور اس کے عالمی و علاقائی سطح پر سنگین مضمرات ہیں۔ افغانستان سے فتنہ الخوارج سمیت کئی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے خلاف متحرک ہیں، دہشت گردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں، انہیں پوری قوت سے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی وابستگی ایک حقیقت ہے، جبکہ سوشل میڈیا کو ملک دشمن عناصر افراتفری کے لیے استعمال کر رہے ہیں، نئی نسل کی سوچ اور ترجیحات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ بھی دیا کہ “اگر کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کر لی جائے تاکہ نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچے”۔
آرمی چیف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے سے بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، سعودی عرب، یو اے ای اور چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عمل جاری ہے، اور 64 فیصد نوجوان آبادی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف حالیہ سفارتی اور سیکیورٹی کامیابی اللہ تعالیٰ کی رحمت، سیاسی قیادت کی دور اندیشی اور افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ “اگر” ہم اٹھیں گے، بلکہ سوال یہ ہے کہ “کتنی جلدی اور کتنی قوت سے” ہم اٹھیں گے۔

