اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خضدار میں 21 مئی کو فتنۃ الہندوستان نے بھارت کے حکم پر بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا۔ فتنۃ الہندوستان معصوم اور نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کر رہا ہے اور گزشتہ 20 سال سے ریاستی دہشتگردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 2019 میں بھی بھارتی دہشتگردی کے ثبوتوں سے بھرا ڈوزیئر اقوام متحدہ کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے رضاکارانہ ہتھیار ڈالنے والے دہشتگردوں کے اعترافی بیانات کا حوالہ دیا، جنہوں نے بتایا کہ بھارت بلوچستان میں کس طرح دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور فنڈنگ کر رہا ہے، اور یہ سلسلہ روزانہ جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سانحہ خضدار میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کا اصل شیطانی اور سفاکانہ چہرہ ہے، جسے یاد رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس میں کوئی انسانیت، اخلاقیات، بلوچیت یا پاکستانیت ہے؟
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کی جانب سے دہشتگردی کے متاثرہ معصوم شہریوں کی تفصیلات بھی پیش کیں.
12 اپریل 2024 کو نوشکی کے پنج پائی میں 12 مزدور شہید
28 اپریل 2024 کو کیچ کے تمپ علاقے میں 2 مزدور شہید
9 مئی 2024 کو گوادر کے سربندر میں 7 حجام ذبح
26 اگست 2024 کو ماشخیل میں 22 مسافر قتل
28 ستمبر 2024 کو پنجگور کے خدابان میں 7 مزدور شہید
10 اکتوبر 2024 کو دکی میں 21 کان کن شہید، 7 زخمی
13 نومبر 2024 کو زیارت میں بس حملہ، 3 مسافر شہید
10 فروری 2025 کو کیچ میں 2 درزی شہید
14 فروری 2025 کو ہرنائی میں آئی ای ڈی دھماکہ، 10 معصوم شہید
19 فروری 2025 کو بارکھان میں 7 مسافر شہید
9 مارچ 2025 کو پنجگور میں 3 حجام شہید
11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس پر حملہ، متعدد شہید
26 مارچ 2025 کو گوادر میں 6 مزدور شہید
6 اور 7 مئی 2025 کو دہشتگردوں نے مساجد پر حملہ کر کے 40 افراد شہید، جن میں 22 بچے اور عورتیں شامل ہیں
9 مئی 2025 کو لسبیلا میں 3 حجام شہید
13 مئی 2025 کو نوشکی میں 4 مزدور شہید
21 مئی 2025 کو 6 معصوم بچے شہید، 51 زخمی جن میں بیشتر بچے شامل ہیں
ترجمان پاک فوج نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے بلوچ اور پاکستان کے مسلمان پوچھ رہے ہیں کہ اس دہشتگردی کا بلوچیت، اسلام اور پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ درندگی بھارت کے پیسے اور احکام پر ہو رہی ہے، اس میں کوئی نظریہ نہیں بلکہ حیوانیت ہے۔ یہ فتنۃ الہندوستان ہے اور اس کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف ہندوستان سے ہے۔
اس موقع پر انہوں نے بھارتی فوج کے حاضر سروس میجر سندیپ کی پاکستان میں موجود دہشتگرد سے کی گئی گفتگو کا ریکارڈ بھی پیش کیا، جسے گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔

